بسنت اور ویلنٹائن ڈے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۳ء

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے اور درجنوں اموات کے ساتھ ساتھ سینکڑوں افراد اس ہنگامہ خیزی میں زخمی ہو جاتے ہیں، واپڈا کی تاروں اور بجلی کے نظام کو پتنگ بازی میں دھاتی ڈور استعمال کرنے سے جو بے پناہ نقصان پہنچتا ہے اس کے خلاف خود واپڈا کے ہزاروں اہل کاروں نے لاہور میں واپڈا کے سربراہ جنرل ذوالفقار کی قیادت میں عوامی مظاہرہ کیا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود محض تفریح کے نام پر حکومت اس خرافات کی سرپرستی کر رہی ہے اور اسے پورے ملک میں مہم کے طور پر پھیلایا جا رہا ہے۔

بسنت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خالص ہندوانہ رسم ہے جبکہ مغل دور میں ایک گستاخ رسولؐ حقیقت رائے کو اہانت رسولؐ کے جرم میں بسنت کے دن موت کی سزا دیے جانے کے بعد سے ہندوؤں اور سکھوں کے ہاں اس رسم کو مذہبی تہوار کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی اور اس کے بعد سے بسنت کا میلہ ایک طویل عرصہ سے اس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر بے پناہ مالی و جانی نقصانات اور بے حیائی اور بدکاری کے فروغ کے حوالہ سے بھی بذات خود یہ رسم اس قدر قبیح اور شرمناک ہے کہ کسی اسلامی ملک میں اس کو برداشت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے چہ جائیکہ سرکاری طور پر اس کی سرپرستی کی جائے اور ملک کے ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر اور فروغ کے لیے سرگرم عمل ہوں۔

ویلنٹائن ڈے کی صورت حال بھی اسی نوعیت کی ہے، یہ دن مغربی ملکوں میں مردوں اور عورتوں کے درمیان معاشقہ اور تجدید محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جسے چند برسوں سے پاکستانی معاشرہ میں بھی عام کیا جا رہا ہے اور این جی اوز کے علاوہ سرکاری حلقے اور ذرائع ابلاغ بھی اسے فروغ دینے میں پیش پیش ہیں۔ یہ وہی جاہلی رسم اور روایت ہے جسے قرآن کریم نے ’’ ولا متخذی اخدان ‘‘ اور ’’ ولا متخذات اخدان ‘‘ کہہ کر اس کی نفی کی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرہ کے اس پرانے رواج اور رسم کو بدکاری قرار دے کر جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا لیکن آج اسے پھر سے جھاڑ پھونک کر اور عشق اور محبت کی علامت کا نام دے کر مسلم معاشرہ میں بدکاری اور بے حیائی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

ہمارے حکمران اسلام اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ وابستگی کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا عمل اور پالیسیاں ہمیشہ سے پاکستانی معاشرہ میں مغربی ثقافت اور کلچر کو فروغ دینے اور اسلامی اقدار و روایات کو کمزور کرنے کا باعث رہی ہیں اور اس طرز عمل کی سنگینی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محب وطن حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور بسنت، ویلنٹائن ڈے اور اس قسم کی دوسری خرافات کے ذریعہ مسلم معاشرہ کی اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کریں نیز علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے خطبات اور بیانات کے ذریعہ قوم کو ان خرافات کے دینی و ملی نقصانات سے مسلسل آگاہ کرتے رہیں اور اس سلسلہ میں رائے عامہ کی مؤثر راہنمائی کریں۔

دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پروگرام

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ فروری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال نے کہا ہے کہ حکومت جن مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے رقوم فراہم کرے گی ان پر وفاقی وزارت تعلیم کا مکمل کنٹرول ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز برطانوی ادارہ ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے نمائندہ سوماچکربائی کو کہی جنہوں نے ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔ وفد میں اسلام آباد میں متعین برطانوی سفیر بھی شامل تھے، انہوں نے بتایا کہ مدارس میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے بہت بڑی رقم مختص کی گئی ہے، ان تبدیلیوں سے مذہبی راہنماؤں نے بھی اتفاق کیا ہے، وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے دوران سرحد اور بلوچستان کے وزرائے تعلیم نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرلیا ہے کہ یہ مدارس وفاقی وزارت تعلیم کے حوالے کر دیے جائیں گے تاکہ ان میں جدید تعلیم متعارف کرائی جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

خبر کے مندرجات پر کسی تفصیلی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے اور اس خبر سے دینی مدارس کے حوالہ سے مغربی ممالک کی دلچسپی اور حکومت پاکستان کے عزائم ایک بار پھر واضح ہوگئے ہیں اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے، ان میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرنے کے اعلانات کا اصل مقصد دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا اور ان پر وزارت تعلیم کا کنٹرول قائم کرنا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ دینی مدارس کے وفاق اس بات کا نوٹس لیں گے اور اس سلسلہ میں حسب سابق دینی مدارس کو مشترکہ طور پر واضح راہنمائی اور پالیسی سے نوازیں گے۔

درجہ بندی: