کشمیر کا مسئلہ اور بھارتی وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی کی دھمکی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء
اصل عنوان: 
کشمیر کا مسئلہ

بھارتی وزیرخارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فضول باتیں کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کے حق خود ارادیت کی بات کر کے آگ سے کھیل رہا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اقوام متحدہ نوآبادیوں کی فہرست سے کشمیر کا نام خارج کر دے۔

ایک طویل عرصہ کے بعد کشمیر کے مسئلہ پر بھارتی وزیرخارجہ کا یہ بیان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی جو مہم مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا کر شروع کی تھی، اب وہ اس سلسلہ میں مزید پیش رفت کرنے والا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر تقسیم ہند کے بعد سے ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک متنازعہ خطہ چلا آرہا ہے اور اس کی متنازعہ حیثیت بین الاقوامی طور پر مسلم ہے۔ اس مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان خونریز جنگیں ہو چکی ہیں اور اقوام متحدہ میں دونوں ملک اس بات کی پابندی قبول کر چکے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ و غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعہ خود کشمیری عوام کریں گے۔ لیکن بھارت نہ صرف غیرجانبدارانہ رائے شماری کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے گریز کر رہا ہے بلکہ اس نے کشمیر کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلہ میں عالمی رائے عامہ کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔

مسٹر باجپائی کی یہ دھمکی اور اس میں آگ سے کھیلنے کا ذکر عالمی رائے عامہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور یہ فیصلہ کرنا عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی طاقتوں کا کام ہے کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کا مذاق اڑانے اور کھلم کھلا ان کی خلاف ورزی کرنے سے کس طرح باز رکھتے ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں عالمی رائے عامہ اور اقوام متحدہ کو توجہ دلانے اور تحریک کرنے میں حکومت پاکستان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔