آئین کا تقاضہ ‒ گھر کا بھیدی ‒ گولی کی زبان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

قومی اتحاد نے صدر مملکت جناب فضل الٰہی چودھری کے نام ایک خط میں استدعا کی کہ وہ قومی اسمبلی کے الیکشن کرانے کا اہتمام کریں جس کے جواب میں صدر مملکت نے ارشاد فرمایا ہے کہ دوبارہ الیکشن کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے اور میں نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔

قطع نظر اس سوال کے کہ دوبارہ الیکشن کرانا آئین کی فی الواقع خلاف ورزی ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے کیا وہ سب کچھ آئین کے مطابق ہے؟ کیا صدر مملکت کے نوٹس میں یہ بات نہیں کہ:

  • پیپلز پارٹی نے الیکشن کی ابتداء ہی دھاندلیوں سے کی اور اپوزیشن کے امیدواروں کو اغوا کر کے اور ان کے جعلی دستخط کر کے ۲۰ بلامقابلہ سیٹیں حاصل کرنے کا اہتمام کیا۔
  • الیکشن میں پیپلز پارٹی اور اس کے ساتھ انتظامیہ کے بدعنوان افسران نے اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلیاں کیں کہ ہٹلر کی روح پر بھی لرزہ طاری ہوگیا۔
  • بیلٹ بکس اٹھائے گئے، صوبائی اور وفاقی وزیر اسٹین گنیں کندھے پر لٹکائے پولنگ اسٹیشنوں پر لوگوں کو دھمکاتے رہے۔
  • نتائج پہلے سے طے کر کے ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کیے گئے۔
  • قومی اسمبلی کے انتخابات کے سرکاری نتائج صرف اس لیے دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک تاخیر سے ظاہر کیے گئے کہ شاید اپوزیشن سے کچھ سیٹوں پر سودا بازی ہو جائے۔
  • اپوزیشن کے ارکان کو بار بار سودا بازی کی ترغیب دی جاتی رہی اور اب بھی دی جا رہی ہے۔
  • چیف الیکشن کمشنر نے خود پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ الیکشن میں دھاندلیاں ہوئی ہیں۔
  • جن چند حلقوں کی تحقیقات کی کاروائی اخبارات میں شائع ہوئی ہے وہ مشئے نمونہ از خروارے کے طور پر دھاندلیوں کی وسعت اور سنگینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
  • ۱۱ مارچ اور ۲۶ مارچ کو ملک گیر ہڑتال اور ۱۰ مارچ کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کے ذریعے عوام نے ۱۰ مارچ کی دھاندلیوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
  • اور اب تو خود پیپلز پارٹی بلوچستان کے ذمہ دار عہدہ داروں نے انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی کا اعتراف کر لیا ہے۔

کیا صدر مملکت یہ ارشاد فرمائیں گے کہ یہ سب کچھ آئین کے مطابق ہوا ہے؟ اور کیا جس عرصہ میں یہ سب کچھ ہوا ہے اس دوران صدر محترم آئین سے وفاداری کے حلف سے مستثنیٰ تھے؟

صدر گرامی قدر! مسئلہ آئین کا نہیں عوام کے حقوق اور ووٹ کے تقدس کا ہے۔ اور آپ اگر واقعی آئین اور ملک کے وفادار ہیں تو اس وفاداری کا تقاضہ مسٹر بھٹو کی کرسی کے تحفظ میں نہیں بلکہ عوام کے ووٹ کے احترام اور ان کی رائے کے تقدس کو بحال کرنے میں ہے۔ کیونکہ آئین ایک شخص کی وفاداری کی بجائے عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔

گھر کا بھیدی

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۸ مارچ صفحہ آخر کی ایک خبر کے مطابق بلوچستان پیپلز پارٹی کے خازن ملک باز محمد زقی نے مطالبہ کیا ہے کہ آزادانہ ماحول میں مصنفانہ الیکشن کرائے جائیں کیونکہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ مطالبہ ساتھیوں کے مشورے سے کر رہے ہیں اور اگر یہ مطالبہ منظور نہ ہوا تو وہ ۲۰ اپریل کو مستعفی ہو جائیں گے۔

لیجئے اب تو گھر کے بھیدی نے بھی گواہی دے دی کہ ہاں دھاندلیاں ہوئی ہیں اور بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں اور اس کا مداوا الیکشن ٹربیونل سے نہیں بلکہ آزادانہ ماحول میں منصفانہ انتخابات کرانے سے ممکن ہے۔ جناب الیکشن کمشنر! کیا اب بھی کسی مزید گواہی کی ضرورت ہے؟

گولی کی زبان

۲۶ مارچ کی کامیاب ملک گیر ہڑتال سے قبل چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے یہ حکم جاری کیا کہ تخریبی کاروائیوں میں ملوث افراد کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔ اسی طرح ہڑتال والے روز ملتان میں ایک فوجی جیپ سے بار بار یہ اعلان نشر ہوتا رہا کہ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔

قطع نظر اس کے کہ ’’دیکھتے ہی گولی مار دینے‘‘ کے اس نادر شاہی حکم کا عوام کی صحت پر کتنا اثر ہوا اور یہ گولی عوام کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے کہاں تک کامیاب ہوئی، یہ اعلانات پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خدانخواستہ ہم ایک آزاد ملک پاکستان کے شہری ہونے کی بجائے رہوڈیشیا کے باشندے ہیں جن پر غیر ملکی آقاؤں نے گولی کے زور سے تسلط قائم کر رکھا ہے اور جو ملک کے اصل باشندوں کی ذرا سی نقل و حرکت کا جواب بھی گولی سے دینے کے لیے ہر وقت اٹن شن رہتے ہیں۔

ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے حکمران خود کو اس قوم کے افراد سمجھنے جانے کی بجائے شاید غیر ملکی آقا ظاہر کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ورنہ اپنی ہی قوم کے افراد کو بار بار گولی کی دھمکیاں دینے کا کیا مطلب ہے؟