مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ فروری ۲۰۱۵ء

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے اور انہیں اپنے استاذ محترم کے ساتھ اس مماثلت کا اعزاز بھی مل گیا ہے کہ علماء کرام کے اجتماع میں مدارس دینیہ کے تحفظ اور دینی اقدار کی سربلندی کی صدا لگاتے ہوئے ان کا انتقال ہوا۔

حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کا شمار ملک کے نامور اساتذہ میں ہوتا تھا اور وہ صرف استاذ نہیں بلکہ ’’استاذ گر‘‘ تھے کہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے والے سینکڑوں علماء کرام ملک کے طول و عرض میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینی علوم کی تدریس و ترویج اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جامعہ باب العلوم کہروڑپکا ان کا مستقل صدقہ جاریہ ہے اور وہ ایک شیخ کامل کے طور پر علماء کرام، طلبہ اور دیگر عقیدت مندوں کی روحانی تربیت میں بھی مصروف رہتے تھے۔ دینی تحریکات میں انہوں نے ہمیشہ سرپرست اور مربی کا کردار ادا کیا۔ تحریک ختم نبوت میں تو وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کی حیثیت سے قائد کا درجہ رکھتے تھے، مگر تحفظ ناموس صحابہؓ اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے کارکن بھی ان کی سرپرستی، دعاؤں اور راہ نمائی سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال کے بعد تحریک ختم نبوت کی قیادت کے لیے ان کا چناؤ ملک بھر کے دینی حلقوں کے اعتماد کا آئینہ دار تھا۔ مسلکی طور پر متصلب دیوبندی تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ میں مسلکی معاملات میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کو سند سمجھتا ہوں اور انہی کے موقف اور تعبیرات کو اختیار کرتا ہوں۔

حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات ملک بھر کے اہل دین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے سربراہ اور امیر سے محروم ہوگئی ہے۔ پرانی وضع اور طرز کے علماء کرام جو اپنے مزاج اور انداز کار میں اپنے اکابر اسلاف کی یاد تازہ رکھے ہوئے تھے، اب کم ہوتے جا رہے ہیں اور ماضی قریب میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات نے اس خلا بلکہ گھاؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، اور ان جیسے چند بزرگ باقی رہے گئے ہیں جن کا وجود غنیمت ہے اور جن کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ ملک و قوم کو تادیر اپنے فیوض سے مستفید کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔