اور جنرل یحیٰی خان؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔

یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا۔ پاکستان دولخت ہوگیا، نوے ہزار فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے، اور مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی بہت بڑے علاقے پر دشمن نے قبضہ کر لیا۔ یحییٰ خان اگرچہ اس دور میں ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے لیکن عوامی حلقوں کا یہ تاثر ہے کہ اس کاروائی میں ان کے ساتھ کچھ سیاسی چہرے بھی شریک ہیں اور تن تنہا اتنا کام کرلینا ان کے بس کی بات نہ تھی۔

یہی وجہ ہے کہ قومی حلقے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ یحییٰ خان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس جرم عظیم میں ان کے ساتھ کون کون شریک ہے، لیکن ابھی تک اس عوامی مطالبہ کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ اور اب حکومت کی طرف سے یحییٰ خان پر مقدمہ چلانے کے عوامی مطالبہ کا یہ جواب عوام کے خدشات میں یقیناً اضافہ اور تقویت کا باعث بنے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار یحییٰ خان حراست سے نجات پا چکا ہے اور آخر وقت تک ملک کو متحد رکھنے کی کوشش کرنے والا ولی خان غداری کے فتوؤں کی زد میں ہے۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے