این جی اوز کا مطالبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء

حکومت پاکستان نے بعض اخباری اطلاعات کے مطابق این جی اوز (نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز) کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور سرکاری حلقوں کے بقول اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ غیر سرکاری تنظیمیں عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں عوام کی خدمت کے عنوان سے کام کرتی ہیں، انہیں بین الاقوامی ادارے اس نام سے خطیر رقم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں ایسی تنظیموں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے۔ مگر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سی تنظیمیں جعلی ہیں جن کا وجود صرف سائن بورڈ یا لیٹرپیڈ تک محدود ہے اور وہ صرف اس کام سے لاکھوں روپے کی رقوم بٹورنے میں مصروف ہیں۔ جبکہ عملاً کام کرنے والی تنظیموں میں ایک بڑی تعداد ایسی تنظیموں کی بھی ہے جو عیسائیت کی تبلیغ، انسانی حقوق کے نام پر اقلیتوں اور عورتوں کو اسلامی احکام کے خلاف ورغلانے، ملکی سالمیت و وحدت کے خلاف علاقائی اور لسانی عصبیتوں کے نام پر فضا ہموار کرنے اور اسلامی احکام و قوانین کے خلاف عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ پنجاب کے وزیر پیر محمد بنیامین رضوی کے بقول بعض تنظیموں کے ایجنڈے میں یہ بات شامل ہے کہ عوام میں ملک کے دفاع کے لیے اخراجات میں کمی کا ذہن پیدا کیا جائے اور فوج کا سائز کم کرنے کے لیے فضا ہموار کی جائے۔

اس پس منظر میں حکومت نے اگر ان تنظیموں کے معاملات کی تحقیقات اور اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے تو یہ یقیناً خوش آئند فیصلہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی این جی اوز کی ملک گیر تنظیم آل پاکستان این جی اوز ایسوسی ایشن (اپنا) کے نام سے سامنے آگئی ہے اور اس کا ایک مطالبہ اخبارات میں آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی این جی او کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہ کی جائے جب تک اس تنظیم یعنی ’’اپنا‘‘ کو اعتماد میں نہ لیا جائے۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اس سلسلہ میں کسی بھی کیس کا فیصلہ ’’اپنا‘‘ کی مقرر کردہ کمیٹی کے ساتھ مل کر کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس مطالبہ میں کوئی معقولیت نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ این جی اوز اپنے معاملات کی تحقیقات اور اپنے خلاف کارروائی میں جج کا منصب بھی خود ہی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف جھوٹا الزام عائد کر کے اس کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیا تھا۔ بہرحال ہم این جی اوز کے بارے میں حکومتی تحقیقات اور کارروائی کی حمایت کرتے ہیں اور متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں کسی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور اسلام اور پاکستان کے مفاد کو ہر بات پر مقدم رکھیں۔