قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۵ء

گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں۔ امریکہ دنیا میں رواداری ، مذہبی احترام، ان کے حقوق اور تحمل کا سب سے بڑا علمبردار بنا ہوا ہے اور ساری دنیا کو اس کی تلقین کرتا رہتا ہے لیکن خود امریکہ کے فوجیوں نے افغانستان ، عراق، گوانتاناموبے اور دیگر اذیت خانوں میں مسلمان قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہوا ہے اور ان مظلوموں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کی جو تفصیل وقتاً فوقتاً اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہے ان سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ تہذیب و تمدن اور آزادی اور انسانی احترام کے نام پر اپنا فلسفہ اور کلچر دنیا بھر پر مسلط کرنے کے درپے ہے اور دنیا پر قبضہ جمانے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کر رہا ہے جو کسی زمانے میں چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے درندہ صفت حکمرانوں کے ساتھ مخصوص سمجھے جاتے تھے۔

قرآن کریم کی بے حرمتی دنیا کے کسی بھی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں ہے اور اس پر مسلمانوں کا غصہ میں آنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا ایک فطری ردعمل ہے جو ان کے ایمان اور قرآن کریم کے ساتھ ان کی وابستگی کا تقاضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج میں کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان پیچھے نہیں ہیں، اس احتجاج اور اضطراب کا دائرہ انڈونیشیا سے مراکش تک پھیلا ہوا ہے بلکہ مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمان بھی قرآن کریم کی حرمت و تقدس کے بارے میں جذبات کے اظہار میں عالم اسلام کے ساتھ شریک ہیں۔ اس پس منظر میں بعض دینی راہنماؤں کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم کو قرآن کریم کی بے حرمتی کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکہ سے باضابطہ طور پر احتجاج کرنا چاہیے اور اس کا باقاعدہ سربراہی اجلاس بلا کر اس مسئلہ پر دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے، مغربی طاقتیں ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کی عملی زندگی کا قرآن کریم کے ساتھ تعلق قائم نہ رہے اور مسلمان قرآن کریم کو اسی طرح نظرانداز کر دیں جس طرح دنیا کی مسیحی اکثریت نے بائبل کو اپنی عملی زندگی سے لاتعلق کر رکھا ہے لیکن ماضی کی طرح آج بھی مغربی دنیا کو اس مہم میں ناکامی کا سامنا ہے اور قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت اور بے لچک کمٹمنٹ آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ بحمد اللہ تعالیٰ بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ اور مغرب کی دیگر اقوام کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ مسلمان عملی طور پر کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں، فکر و عقیدہ کے حوالہ سے ان کی وابستگی، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور قرآن کریم کے ساتھ آج بھی قائم ہے اور اسے ختم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

درجہ بندی: