تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ ستمبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
علماء کرام کی ذمہ داریاں

۲۱ ستمبر کو ترازکھل آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا جہاں علماء کرام کے علاقائی فورم تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ کا سالانہ اجتماع تھا جس کے لیے مولانا شبیر احمد ایک سال سے میرے تعاقب میں تھے۔ اس علاقہ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء کی خاصی تعداد ہے جس کی مناسبت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سال میں ایک دو بار وہاں ضروری حاضر دوں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس سفر میں عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ساتھ تھا جو میرا نواسہ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا پوتا ہے۔ مرکزی جامع مسجد ترازکھل میں صبح دس بجے سے ظہر تک پروگرام تھا جس میں مجھے گفتگو کے لیے ’’عصر حاضر میں علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کا موضوع دیا گیا۔

ترازکھل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت کا آغاز یہاں سے ہوا تھا ، سردار محمد ابراہیم خان مرحوم نے اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ مل کر آزاد حکومت کی بنیاد رکھی تھی اور کئی ماہ تک ترازکھل اس کا دارالحکومت رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف مسلح جنگ کا آغاز نیلابٹ سے ہوا تھا جہاں سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم نے اپنے رفقاء سمیت مسلح جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں مجاہد اول کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ آزادیٔ کشمیر کی سیاسی جدوجہد ترازکھل سے شروع ہوئی تھی جس کے آغاز، تسلسل اور استحکام میں چودھری غلام عباس مرحوم اور سردار محمد ابراہیم خان مرحوم کے ساتھ میر واعظ مولانا سید محمد یوسف شاہؒ اور کرنل علی احمد مرحوم کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔ ہمارے مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا محمد یوسفؒ آف پلندری، مولانا عبد العزیز تھوراڑویؒ اور مولانا مفتی عبد الحمید قاسمیؒ بھی اس قافلے کا حصہ تھے اور یہ تینوں بزرگ میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے تھے۔

اجتماع کے زیادہ تر شرکاء علماء کرام تھے اور تنظیم اہل سنت کے احباب نے بڑی محنت کر کے اسے علاقہ کے علماء کرام کا نمائندہ اجتماع بنا دیا تھا۔ میں نے علماء کرام سے گزارش کی کہ چونکہ میں ترازکھل میں کھڑا ہوں جو مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کے درمیان بین الاقوامی کنٹرول لائن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور کنٹرول لائن کے دوسری طرف جو کچھ ہو رہا ہے اس کی خبریں ہم روزانہ پڑھتے رہتے ہیں کہ ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اس وقت کس کڑی آزمائش سے دوچار ہیں، اس لیے میں پہلی بات اسی حوالہ سے کروں گا کہ ملک و قوم کی آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ یہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تحریک آزادی کے دو مرحلوں کی تفصیل بیان کی ہے جن میں قوم کو غلامی سے نجات دلانے اور ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کی قیادت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے کی تھی۔ فرعون کی غلامی سے نجات کی جدوجہد کے ایک مرحلہ کی قیادت حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمائی جبکہ بیت المقدس پر قبضہ کے لیے جہاد اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی قیادت حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے کی۔ اسی طرح جالوت کے تسلط اور جبر سے نجات کی جدوجہد کی راہنمائی اللہ تعالٰی کے پیغمبر حضرت سموئیل علیہ السلام نے فرمائی جبکہ ان کی راہنمائی میں عملی جنگ حضرت طالوت علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام نے لڑی جس کے نتیجے میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی اور اسے قرآن کریم نے حضرت داؤدؑ کے حوالہ سے ’’خلافت‘‘ قرار دیا ہے۔

چنانچہ میں آزادکشمیر کے علماء کرام کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ غلامی سے نجات، قومی آزادی اور اسلامی ریاست کے قیام کی محنت صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ذمہ داری اور دینی فریضہ بھی ہے۔ جس سے علماء کرام کو لاتعلق نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس میں ہر سطح پر شریک ہو کر اس کی راہنمائی کرنی چاہیے اور اس میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین جس جہاد میں مسلسل مصروف ہیں اور بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں اس میں سیاسی، سفارتی، اخلاقی، مالی اور دیگر ہر طرح کی امداد کی ضرورت ہے جو آزادکشمیر کے عوام اور علماء کرام کے ساتھ پاکستانی قوم اور حکومت کو مہیا کرنی چاہیے، بلکہ یہ پورے عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ تحریک آزادیٔ کشمیر کو ہر ممکن سپورٹ مہیا کرے۔

میں نے عرض کیا کہ آپ حضرات کی جماعتی و سیاسی گروہ بندیوں سے قطع نظر میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ آزادکشمیر کی نئی حکومت کے صدر مسعود خان ہیں جو ایک کامیاب سفارتکار کے طور پر معروف ہیں جبکہ وزیراعظم تحریک آزادیٔ کشمیر کے ممتاز سیاسی راہنما راجہ حیدر خان مرحوم کے فرزند راجہ فاروق حیدر خان بنے ہیں۔ سیاست و سفارت کا یہ ملاپ ایک اچھی علامت ہے، اس وقت تحریک آزادیٔ کشمیر کو سیاست، سفارت، لابنگ اور میڈیا کے محاذوں پر نئی صف بندی کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ دونوں راہنما تحریک آزادیٔ کشمیر کو قومی اور عالمی محاذ پر آزادکشمیر کے دیگر سیاسی راہنماؤں کے تعاون سے منظم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن علماء کرام کو اس تحریک سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے اور آگے بڑھ کر اس میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری بات میں آزادکشمیر کے علماء کرام سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں عدالتی سطح پر شرعی قوانین کے نفاذ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ جید علماء کرام بیٹھتے ہیں اور بہت سے معاملات و مقدمات میں قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست کا بنیادی کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان کے قیام کے بعد جن ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا وہاں انگریزوں کے دور میں جو شرعی قوانین اور قاضیوں کا جو عدالتی نظام موجود تھا، الحاق کے بعد اسے بھی ختم کر دیا گیا تھا۔ جیسا کہ قلات، خیرپور، بہاولپور، سوات، دیر اور دیگر ریاستوں میں ہوا ہے۔ مگر آزاد ریاست جموں و کشمیر ابھی پاکستان کے ساتھ پورے جموں و کشمیر کے الحاق کی جدوجہد کر رہی ہے جس کا آغاز اس نے عدالتوں میں علماء کرام کو قاضی بنا کر شرعی قوانین کی عملداری سے کیا ہے۔ یہ بہت بڑا اعزاز و امتیاز ہے جس کی اہمیت آزادکشمیر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔ مجھے اس سلسلہ میں آپ حضرات کی بے خبری یا بے پروائی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ آزادکشمیر میں شرعی قوانین کے نفاذ کے اس عدالتی نظام کی حفاظت انتہائی ضروری ہے بلکہ اس میں مزید توسیع اور ترقی کے لیے خاصی محنت درکار ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی ضرورت و افادیت اور اس تجربہ کی کامیابی سے پاکستان کے عوام اور عالم اسلام کو آگاہ کرنے کے لیے منظم محنت بھی ضروری ہے۔ میں پورے شرح صدر کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کا یہ عدالتی نظام نہ صرف پاکستان کے مختلف صوبوں بلکہ دنیا بھر کے بہت سے مسلم ممالک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد میں عملی پیشرفت کے لیے نمونہ و رہنما بن سکتا ہے، بشرطیکہ آزادکشمیر کے علماء کرام خود اپنے اس امتیاز و اعزاز کی اہمیت کو سمجھ کر اس سے باقی دنیا کو متعارف کرانے کے لیے منظم جدوجہد کا اہتمام کر سکیں۔