الجزائر میں تعلیمی نصاب کا مسئلہ / آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۵ء

روزنامہ اسلام لاہور ۲۵ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق الجزائر کی دینی جماعتوں نے وزارت تعلیم کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے جس کے تحت کالجوں کے سیکنڈ ایئر کے نصاب سے اسلامیات کا مضمون خارج کر دیا گیا ہے۔ دینی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نصاب سے اسلامیات کے مضمون کا اخراج ملک کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور الجزائر کے عوام کی اکثریت کے جذبات کے منافی ہے۔

یہ صورتحال صرف الجزائر میں نہیں ہے بلکہ کم و بیش ہر مسلمان ملک کو اسی مسئلہ کا سامنا ہے کہ عالمی استعمار کے دباؤ کے تحت ان کی حکومتیں اپنے اپنے تعلیمی نصاب میں موجود اسلامی تعلیمات کو خارج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، خود ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مقتدر حلقے اس سمت پیشرفت کے لیے پینترے بدلتے رہتے ہیں۔ عالمی استعمار کو اس سے غرض نہیں ہے کہ الجزائر، پاکستان یا کسی اسلامی ملک کے عوام کی خواہش کیا ہے اور اسے اس سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ مسلم ممالک کی اپنی داخلی تعلیمی ضروریات کیا ہیں؟ اسے تو صرف اس بات سے دلچسپی ہے کہ دنیائے اسلام میں نئی نسل کو دی جانے والی تعلیم میں اسلامیات کے مواد کو کم سے کم کیا جائے بلکہ اسے ختم کر دیا جائے کیونکہ عالمی استعمار دنیا پر اپنے غلبے کی راہ میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کو ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتا ہے۔ لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ حق اور صداقت کا راستہ روکنے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوئی اس لیے اب بھی اسلامی تعلیمات کا راستہ روکنے کی مہم کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی اور مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیم کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔

آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف مہم

ملک میں تعلیمی نظام کو آغا خان تعلیمی بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے سرکاری اقدامات کے خلاف احتجاجی مہم جاری ہے اور مختلف دینی حلقے اس سلسلہ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ آغا خان بورڈ نے امریکی سفیر کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت پاکستان کے تعلیمی نظام کی اصلاح کی ذمہ داری قبول کی ہے اس لیے اس کے اہداف و مقاصد کے بارے میں اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ آغا خان بورڈ پاکستان کے تعلیمی نصاب و نظام کو امریکی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کے لیے وجود میں آیا ہے جو ملک کے غیور عوام کے لیے کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں طلبہ کی مختلف جماعتوں نے ’’متحدہ طلبہ محاذ‘‘ قائم کرکے احتجاجی مہم کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ۷ جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اسلام آباد میں آغا خان تعلیمی بورڈ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالہ سے طالب علم تنظیموں کا اتحاد اور ان کی جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اصحاب فکر و دانش سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ملک کے تعلیمی نظام کو درپیش اس خطرے کے سدباب کے لیے احتجاجی جدوجہد کی سرپرستی کریں اور اس میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کریں۔

درجہ بندی: