قومی علماء و مشائخ کونسل کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مئی ۲۰۱۶ء

وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی مساعی سے ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ وجود میں آگئی ہے اور ۲۶ مئی ۲۰۱۶ء کو اسلام آباد میں افتتاحی اجلاس کے ساتھ اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف ایک عرصہ سے اس کے لیے سرگرم عمل تھے، انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں کے مسلسل دورے کر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور دیگر دینی راہنماؤں کے ساتھ اس سلسلہ میں طویل مشاورت کی جس کے نتیجے میں سرکاری طور پر ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ کونسل تمام مذہبی مکاتب فکر اور طبقات کے پچاس سے زائد سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں پر مشتمل ہے جبکہ وزارت مذہبی امور کی طرف سے کونسل کے لیے جاری کردہ ’’ورکنگ پیپر‘‘ میں اس کے مقاصد درج ذیل بیان کیے گئے ہیں:

  • وفاقی مذہبی امور کی طرف سے پیش کردہ سفارشات پر نظرثانی کرنا کہ کس طرح فرقہ وارانہ جذباتی رویوں اور تعصبات کو کم کیا جائے۔ اور ان تجاویز پر مؤثر عملدرآمد کے لیے وسائل اور طریقے تجویز کرنا۔
  • علماء، اسکالروں، مذہبی و سیاسی راہنماؤں اور پریس کے لیے ضابطۂ اخلاق مرتب کرنا تاکہ ممکنہ خدشات کو قومی استحکام اور بین المسالک و طبقاتی ہم آہنگی میں تبدیل کیا جا سکے۔
  • کونسل کے مفوضہ امور میں مناسب ترامیم کرنا تاکہ بین المسالک ہم آہنگی کا مقصد یقینی طور پر حاصل ہو سکے۔

اس میں موجودہ سفارشات سے مراد قیام پاکستان کے بعد سے اب تک سامنے آنے والی وہ تجاویز اور سفارشات ہیں جو سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر مختلف علماء کرام کے مشترکہ اجتماعات کی طرف سے پیش کی جاتی رہی ہیں۔ چنانچہ مذکورہ ورکنگ پیپر میں:

  • ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ نکات،
  • مولانا عبد الستار خان نیازیؒ کی سربراہی میں اتحاد بین المسلمین کمیٹی کی تیار کردہ سفارشات، اور
  • ملی یکجہتی کونسل کے طے کردہ ضابطۂ اخلاق

سمیت وقتاً وقتاً مشترکہ اجتماعات کی طے کردہ متعدد دیگر تجاویز و سفارشات کو اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ روز وزارت مذہبی امور کی طرف سے کونسل کی رکنیت کے لیے راقم الحروف سے استفسار کیا گیا تو میں نے عرض کیا کہ یہ تو میری زندگی کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے، اس لیے قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے رکن کے طور پر مجھ سے اگر کوئی خدمت ہو جائے تو اسے اپنے لیے باعث سعادت و نجات سمجھوں گا۔

اس پس منظر میں ۲۶ مئی کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جس کی صدارت وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کی جبکہ کونسل کے ارکان کی کثیر تعداد اس میں شریک ہوئی۔ خاص طور پر گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر جناب جعفر اللہ، ریاست آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اوقاف جناب افسر شاہد، اور وفاقی وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری جناب سہیل عامر اس اجلاس کی سرگرمیوں کا اہم حصہ تھے۔ اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد المالک خان، مولانا ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر محمد یاسین ظفر، ڈاکٹر احمد علی سراج، علامہ عارف حسین واحدی، صاحبزادہ پیر سلطان احمد علی اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے۔ ان سب حضرات نے وفاقی سطح پر وزارت مذہبی امور کی نگرانی میں قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے قیام کو خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس سلسلہ میں سرگرم کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں جن امور کا اکثر شرکاء نے خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا وہ درج ذیل ہیں:

  • پاکستان کا قیام جس نظریہ اور مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اسے ازسرنو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور کونسل کو اس سلسلہ میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ نکات ، اتحاد بین المسلمین کمیٹی کی طرف سے مولانا عبد الستار خان نیازیؒ کی سربراہی میں پیش کی جانے والی سفارشات، اور ملی یکجہتی کونسل کا طے کردہ ضابطۂ اخلاق ہمارے لیے بنیادی دستاویزات کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کی روشنی میں کونسل کو اپنا کام آگے بڑھانا چاہیے۔
  • ملک میں دہشت گردی، باہمی منافرت اور بداَمنی کے فروغ کے اسباب میں مذہبی شدت پسندی کے ساتھ ساتھ لسانی، طبقاتی، علاقائی اور نسلی منافرت و عصبیت بھی شامل ہیں، اس لیے شدت پسندی اور منافرت کے خاتمہ کی جدوجہد کے حوالہ سے ان دائروں میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
  • بعض سیکولر حلقوں کی طرف سے اسلامی تعلیمات کی مسلسل مخالفت اور دینی اقدار و روایات کی توہین اور تمسخر شدت پسندی اور دہشت گردی سے کم نہیں ہے، اس کا نوٹس لینا بھی ضروری ہے۔
  • پنجاب میں متحدہ علماء بورڈ اور قرآن بورڈ نے ان حوالوں سے جو کام کیا ہے وہ بہت وقیع اور ضروری ہے، اسے وفاقی سطح پر بھی زیر بحث لایا جائے اور باہمی مشاورت کے ساتھ اسے مؤثر بنایا جائے۔
  • اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے اس لیے اس کی وزارت مذہبی امور کو تمام محکموں اور شعبوں کے لیے راہنما وزارت کا درجہ ملنا چاہیے اور اسے یہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • ائمہ مساجد اور خطباء کے لیے تعلیم و تربیت کا معیار طے کیا جانا چاہیے۔ اور موجودہ ائمہ و خطباء کے تعلیمی و تربیتی معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ان کی بریفنگ اور راہنمائی کا نظم قائم کرنا بھی ضروری ہے۔
  • تعلیمی نصاب کو ملک کے نظریاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور قومی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بنانے کے لیے اس کا جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
  • ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی موجودہ آزاد روی تمام محب وطن حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے، اسے کنٹرول کرنا اور اسے اسلامی روایات و اخلاقیات کے دائرہ میں لانے کے لیے مؤثر محنت کی ضرورت ہے۔
  • ملک میں فرقہ وارانہ، لسانی، نسلی اور علاقائی تعصبات کو ابھارنے میں بیرونی عوامل اور غیر ملکی مداخلت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، اس کے سدباب کے لیے عوامی بیداری کی جدوجہد ضروری ہے۔
  • پاکستان کی وحدت و سالمیت، معاشرتی ترقی، سیاسی استحکام اور قومی خودمختاری بہت سی بین الاقوامی سازشوں کا سب سے بڑا ہدف ہے جسے سامنے رکھنا اور اپنی پالیسیوں اور محنت کی بنیاد بنانا ضروری ہے۔

یہ باتیں وہ ہیں جو ہم عام طور پر کرتے رہتے ہیں، ہمارے اجلاسوں میں زیربحث آتی ہیں اور مشترکہ فورموں پر ان کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن موجودہ پیشرفت پر مجھے دو حوالوں سے زیادہ خوشی ہوئی ہے۔ ایک یہ کہ وفاقی سطح پر ملک کی عمومی دینی ضروریات کے تناظر میں ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کا باقاعدہ قیام میرے خیال میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار عمل میں آیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سے قبل اس سلسلہ میں ہماری انفرادی اور اجتماعی کوششیں تجاویز اور سفارشات کے دائرہ میں رہی ہیں جو کہ اب ’’ورکنگ‘‘ کے دائرہ میں داخل ہو رہی ہیں۔ خدا کرے کہ یہ پیشرفت مؤثر ثابت ہو اور ہم مل جل کر ملک کو ایک نظریاتی، رفاہی، پر اَمن اور مستحکم اسلامی ریاست کی منزل تک لے جانے کے لیے مفید کردار ادا کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔