پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا مطالبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۶ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۰۶ء کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر پاکستان کو سیکولر ریاست بنایا جائے، انہوں نے حدود آرڈیننس پر سخت تنقید کی اور اس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملاّ‘‘ مسلمانوں کا سب سے بڑا ’’مجرم‘‘ ہے۔

سید اقبال حیدر ملک کے معروف قانون دان ہیں، وفاقی وزیر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی ایک اہم تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہیں، انہوں نے اسلام، پاکستان، سیکولرازم، ملاّ، حدود آرڈیننس اور مذہب کے تناظر میں جس لہجے میں بات کی ہے اس سے ذہن میں خطرے کی گھنٹی کی آواز سنائی دینے لگی ہے، اس لیے کہ اس سے قبل ایک ممتاز سیاست دان جناب الطاف حسین جو اس وقت ملک کی حکومت کا ایک اہم حصہ ہیں، ان سے منسوب یہ بیان اخبارات کی زینت بن چکا ہے کہ پاکستان کا دستور نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی حدود آرڈیننس پر بحث و مباحثہ اور اس کے خلاف غوغاآرائی کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور حدود آرڈیننس کے خاتمہ کی مہم میں سیکولر لابیوں کے ساتھ وہ عناصر بھی ان کے ہم آواز ہوتے جا رہے ہیں جو بظاہر حدود کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں اور قرآنی سزاؤں کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں لیکن حدود آرڈیننس میں تطبیق و نفاذ کے حوالہ سے اختیار کی گئی بعض تعبیرات سے انہیں اختلاف ہے اور آرڈیننس کے بعض تکنیکی پہلوؤں پر وہ مطمئن نہیں ہیں، مگر وہ ان پر الگ سے بات کرنے کی بجائے حدود آرڈیننس کے سرے سے خاتمے کی آواز میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔

جہاں تک ملاّ کو مسلمانوں کا سب سے بڑا مجرم کہنے کی بات ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، مذہب کو چھوڑ دینے کے خواہشمند اور سیکولرازم کا پرچار کرنے والے عناصر ہمیشہ سے یہی کہتے آرہے ہیں اس لیے کہ ملاّ بحمد اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ مذہب کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے بلکہ مذہب بیزار عناصر کے مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی وہی ہے۔ البتہ جناب الطاف حسین کی طرف سے نئے دستور کی ضرورت کے اظہار کے بعد سید اقبال حیدر کی طرف سے مذہب کو چھوڑ کر ملک میں سیکولر ازم کو نافذ کرنے کی بات ہمیں بہرحال کسی نئی مہم کا پیش خیمہ محسوس ہوتی ہے، اس لیے ملک کی سنجیدہ دینی و سیاسی جماعتوں اور قائدین کو اس کا بروقت نوٹس لینا چاہیے۔