سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فلم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۶ء

بین الاقوامی میڈیا میں ان دنوں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بننے والی فلم ’’ڈونچی کوڈ‘‘ کا خاصا چرچا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کے مختلف حصے پیش کیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر کے بارے میں توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی حلقوں کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے اور غالباً پاکستان میں اس پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ حضرت عیسٰیؑ کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لیے اٹھائی جانے والی اس آواز میں ہم بھی شریک ہیں اور اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اس لیے کہ ہمارے نزدیک حضرت عیسٰیؑ یا اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے نبی کی بے حرمتی اور توہین بھی اسی طرح جرم ہے جیسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی جرم ہے۔ بلکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف یہودیوں کی بہتان طرازی اور دشنام دہی کا سب سے زیادہ واضح جواب قرآن کریم اور جناب نبی اکرم ؐ نے دیا ہے اور یہودیوں کے دشنام و بہتان کو سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے قرآن کریم نے حضرت مریم و عیسیٰ علیہما السلام کی حرمت و تقدس اور عزت و ناموس کا تحفظ کیا ہے۔

البتہ مذکورہ فلم پر بین الاقوامی اخبارات میں ہونے والی بحث میں ایک پہلو نے خاصی دلچسپ صورت اختیار کر لی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کو فلمانے کے لیے فلم سازوں نے مواد کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اس لیے کہ ’’انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا‘‘ کے ایک اقتباس کے مطابق مسیحی دنیا کے پاس حضرت عیسٰیؑ کی زندگی کے بارے میں دو چار واقعات کے علاوہ کوئی مستند مواد موجود نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بھی بحمد اللہ تعالیٰ اسلام کو برتری اور سبقت حاصل ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کے بارے میں زیادہ تفصیلی اور مستند مواد اسلامی لٹریچر میں موجود ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے سفر برطانیہ کے دوران میں نے آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ بالا بحث کے پس منظر میں جب یہ کہا کہ ہم تو بحمد اللہ تعالیٰ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ دنیا میں دوبارہ نزول کے بعد حضرت عیسٰیؑ کتنا عرصہ رہیں گے، کیا کام کریں گے، ان کی شادی کس خاندان میں ہوگی، بچے کتنے ہوں گے اور ان کے کیا کیا نام ہوں گے، تو حاضرین بہت محظوظ ہوئے۔ بہرحال حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں بننے والی توہین آمیز فلم ’’ڈونچی کوڈ‘‘ کے حوالہ سے ہمارے جذبات وہی ہیں جو جناب سرور کائنات ؐ کے توہین آمیز خاکوں کی بعض یورپی اخبارات میں اشاعت کے حوالہ سے تھے اور ہم اس فلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

درجہ بندی: