بائبل اور ہم جنس پرستی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۶ء

روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق آکسفورڈ (برطانیہ) کے بشپ رچڑد نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل ہم جنس تعلقات کی (نعوذ باللہ) حمایت کرتی ہے، انہوں نے سنڈے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائبل کے عقیدے کے مطابق ہم جنس پرستی پر کوئی ممانعت نہیں ہے، انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو نئے زاویے سے دیکھا جائے۔

ہم جنس پرستی کو اس وقت جس انداز سے دنیا میں فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے، مغرب کے بیشتر ملکوں میں اسے قانونی اور انسانی حق کا درجہ حاصل ہے، اس کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے، عدالتی فیصلوں کے ذریعے اسے تحفظ دیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کے نام سے سینکڑوں تنظیمیں اس عمل بد کے فروغ اور تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ حالانکہ سبھی یہ جانتے ہیں کہ یہ فطرت کے خلاف ہے اور آسمانی تعلیمات میں اس کی نہ صرف مذمت کی گئی ہے بلکہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر خوفناک عذاب کے اسباب میں اسے ایک اہم سبب بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے اور بائبل میں بھی اسے لعنتیوں کا عمل بتایا گیا ہے لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مسیحیت کے مذہبی راہنما اس سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرنے کی بجائے مختلف تاویلوں کی صورت میں اس کا جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر کے دوران مجھے امریکہ کے شہر برمنگھم (الاباما) میں سیاہ فام امریکیوں کے ایک چرچ میں جانے کا اتفاق ہوا، ان دنوں کینیڈا کی پارلیمنٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی درجہ دینے کا بل پاس کیا تھا، میں نے چرچ کے مذہبی لیڈر مسٹر جیمز سے اس کے بارے میں سوال کیا تو جواب میں ان کی ہچکچاہٹ قابل دید تھی۔ میرے بار بار سوال کے باوجود وہ واضح طور پر اسے غلط کہنے سے گریز کر رہے تھے اور بالآخر جب میں نے بہت زیادہ اصرار کیا کہ میں ہم جنس پرستی کے بارے میں چرچ کی دو ٹوک رائے جاننا چاہتا ہوں تو وہ اتنی بات کہہ سکے کہ چر چ اس کی حمایت نہیں کرتا۔

مغربی دنیا کا یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ سوسائٹی تو مذہبی احکام اور آسمانی تعلیمات سے دستبردار ہوئی تھی، مذہبی راہنما بھی سوسائٹی کی مخالفت کے خوف سے ہر معاملہ میں اس کی رائے میں رائے ملانے اور سوسائٹی کے ہر عمل کو مذہبی جواز فراہم کرنے میں عافیت محسوس کرنے لگے ہیں۔ ہمارے خیال میں آکسفورڈ کے بشپ صاحب کا یہ بیان بھی اسی طرز عمل کا حصہ ہے لیکن اس سے حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے، ہم جنس پرستی خلاف فطرت عمل ہے، لعنتیوں کا کام ہے اور تمام شرائع کی رو سے حرام اور ناجائز ہے، جس کی کسی مذہبی راہنما کی طرف سے حمایت پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

درجہ بندی: