علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۶ء

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کم و بیش پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علماء لدھیانہ کے معروف خاندان سے تھا اور ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ نے قیام پاکستان سے قبل دار العلوم دیوبند میں تعلیم پائی اور تقسیم ہند کے باعث اپنی تعلیم کی تکمیل جامعہ عباسیہ بہاولپور سے کرنے کے بعد علامہ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پہلے مجلس احرار اسلام سے وابستہ تھے، پھر جمعیۃ علماء اسلام میں شامل ہوگئے اور زندگی بھر اسی پلیٹ فارم سے مختلف دینی و سیاسی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریکات میں انہوں نے متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جری اور دبنگ راہنما تھے اور حق بات کہنے میں کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے۔

حضرت مولانا مفتی عبدالواحد ؒ کے ساتھ جن سیاسی کارکنوں نے جمعیۃ علماء اسلام میں سرگرم کردار ادا کیا ان میں مولانا احمد سعید ہزاروی، علامہ محمد احمد لدھیانویؒ ، ڈاکٹر غلام محمدؒ اور مولانا علی احمد جامی ؒ کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل رہا ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ہم ضلع گوجرانوالہ کی دینی سیاست کا متحرک کردار رہے ہیں۔ اس لیے راقم الحروف کے لیے بطور خاص یہ صدمہ کی بات ہے کہ مولانا علی احمد جامیؒ ، ڈاکٹر غلام محمد ؒ اور علامہ محمد احمد لدھیانویؒ دو تین ماہ کے دوران یکے بعد دیگرے ہم سے جدا ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔