’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۶ء
اصل عنوان: 
مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام، ایک بروقت فیصلہ

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کر لیا ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دینی حلقوں کے متفقہ موقف اور اس سلسلہ میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی مشاورت سے قائم ہونے والی ’’علماء کمیٹی‘‘ کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بلکہ حدود قرآنی میں عملاً ردوبدل کے باوجود اس بل کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ اور مقتدر ترین حلقوں کی طرف سے تحدی کے انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی قانون کے معاملات میں دینی حلقوں یا بقول ان کے انتہا پسندوں کی کوئی بات نہیں چلنے دی جائے گی اور روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام سے وہ جو کچھ بھی کرنا چاہیں گے اس میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

ملک کے دینی حلقے اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اس صورتحال پر اضطراب میں ہیں اور گزشتہ روز جامعہ اشرفیہ لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے جمع ہو کر اس سلسلہ میں ’’مجلس تحفظ حدود اللہ‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ فورم قائم کر لیا ہے، جس کے بارے میں اس عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسے ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کی طرز پر خالصتاً غیر سیاسی بنیادوں پر منظم کرکے حدود شرعیہ کے تحفظ کے لیے ملک گیر مہم چلائی جائے گی۔ان سطور کی اشاعت تک مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کی طرف سے جدوجہد کا کوئی عملی خاکہ سامنے آچکا ہوگا اور اس کے مطابق تگ و دو بھی شروع ہوجائے گی۔

جہاں تک قانون کا تعلق ہے اس کا نفاذ تو سینٹ کی منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخطوں کے ساتھ ہوجائے گا، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی کہ اس سے قبل بھی ہم اس قسم کے مراحل سے گزر چکے ہیں۔ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں خاندانی قوانین یعنی نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ کے احکام و ضوابط کو ’’روشن خیالی‘‘ کے دائرہ میں شامل کرنے کے لیے یہی کچھ کہا گیا تھا۔ ایک عائلی کمیشن بنا جس میں بہت سے روشن خیالوں کے ساتھ ایک عالم دین حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کو بھی شامل کیا گیا۔ عائلی کمیشن نے خاندانی نظام سے متعلقہ قوانین میں ترامیم و سفارشات پیش کیں تو ان میں بعض امور ایسے بھی تھے جو قرآن و سنت کے احکام سے متصادم تھے، مولانا تھانویؒ نے اختلاف کیا، ان کے اختلاف کو قبول نہ کیا گیا تو انہوں نے عائلی کمیشن کی رپورٹ پر ایک جامع اختلافی نوٹ لکھ کر اتمام حجت کر دیا۔ مگر اس اختلافی نوٹ کو، جو دراصل ملک بھر کے دینی حلقوں کی ترجمانی تھا، کمیشن کے محض ایک رکن کا اختلاف قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا اور دینی حلقوں کے موقف کے علی الرغم عائلی قوانین ملک میں نافذ کر دیے گئے، جو قانوناً تو نافذ ہوگئے لیکن آج تک متنازعہ ہیں، اور نہ صرف یہ کہ علماء کرام اور دینی حلقوں نے انہیں قبول نہیں کیا بلکہ عوام کی اکثریت کو بھی نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ قوانین ہضم نہیں ہوئے حتیٰ کہ کئی مواقع پر خود سرکاری اور عدالتی حلقوں میں ان قوانین کی شرعی حیثیت کو مشکوک تسلیم کیا جا چکا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے نام سے نافذ کیا جانے والا یہ قانون بھی اس سے زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گا، قانون کے طور پر وہ نافذ رہے گا، اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، اس کے نتیجے میں بے حیائی اور بدکاری کو فروغ بھی ملتا رہے گا، لیکن اس قانون کا ’’شرعی جواز‘‘ ہمیشہ محل نظر رہے گا اور قرآن و سنت پر یقین رکھنے والے مسلمان عوام کے ہاں وہ کبھی ایک جائز قانون کا درجہ حاصل نہیں کر سکے گا۔

ہمارے بہت سے دانشور اس حوالہ سے بہت بڑے مغالطہ کا شکار ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح مغربی دنیا کے مسیحی عوام بائبل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان کے زبانی دعوے کے باوجود سب کچھ قبول کرتے جا رہے ہیں اور وہ کبھی مڑ کر یہ نہیں دیکھتے کہ بائبل کی تعلیمات کیا ہیں اور حضرت عیسٰیؑ نے کیا ہدایات دی ہیں، اسی طرح مسلمان عوام کو بھی اس بات پر تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایمان کا دعویٰ تو بے شک کرتے رہیں، قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کی عقیدت و محبت کا دم بھی بھرتے رہیں، لیکن عملی زندگی کے حوالہ سے ان کی تعلیمات کی طرف نہ دیکھیں بلکہ جو وہ خود سوچیں یا جو انہیں مغربی آقاؤں کی طرف سے کہا جائے اس پر آنکھیں بند کرکے عمل کرتے رہیں۔ ہمارے ان دانشوروں کی توجہ اس معروضی حقیقت کی طرف نہیں ہے کہ:

  • اول تو مغرب کے مسیحی عوام کے پاس بائبل اور حضرت عیسٰیؑ کی تعلیمات محفوظ اور مستند حالات میں موجود نہیں ہیں اور اگر کوئی بات کسی طرح سے مل بھی جائے تو وہ ذہنی طور پر ان سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ جبکہ دنیا بھر کے مسلم عوام کی صورت اس سے قطعی طور پر مختلف بلکہ متضاد ہے کیونکہ ان کے پاس نہ صرف قرآن و سنت کی تعلیمات مستند و محفوظ حالت میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہیں بلکہ وہ ان پر بے لچک ایمان اور یقین بھی رکھتے ہیں۔ آج کے تنزل اور انحطاط کے دور میں بھی دنیا کے کسی خطہ کا کوئی مسلمان عملی طور پر کتنا ہی بے عمل بلکہ بدعمل کیوں نہ ہو وہ قرآن کریم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ہدایات سے ذہنی طور پر دستبرداری کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے قرآن و سنت کے کسی حکم کے خلاف کوئی قانون طاقت کے زور سے مسلمانوں پر مسلط تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان سے ذہنی طور پر قبول نہیں کرایا جا سکتا اور اس سلسلہ میں کوئی کوشش نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئی اور نہ ہی آئندہ کامیاب ہو سکتی ہے۔
  • باقی رہی بات قرآن سنت کی تعبیر و تشریح کی تو یہ بات بھی معروضی حقائق کا حصہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان شرعی احکام و قوانین اور قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے حوالہ سے صرف ان علماء کرام پر اعتماد کرتے ہیں جو قرآن و سنت کا علم رکھتے ہیں اور اسلامی علوم کی تعلیم و تدریس کے نظام سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہیں۔ اور یہ بات کوئی تعجب کی نہیں ہے اس لیے کہ جس طرح مروّجہ قانون کی تشریح میں وکلاء کی بات کو معیار سمجھا جاتا ہے، طبی امور میں حکماء اور ڈاکٹر صاحبان کی رائے کا اعتبار کیا جاتا ہے، تعمیری معاملات میں انجینئر حضرات کے موقف کو ترجیح دی جاتی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مسائل میں سائنس دانوں سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح دینی علوم اور قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں بھی فطری طور پر ان علماء کرام کی رائے کو ہی اعتبار حاصل ہوگا جو قرآن و سنت اور دیگر متعلقہ علوم کا پوری طرح علم رکھتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص یا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ علماء کرام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کا طوفان کھڑا کرکے اور ان کی کردارکشی کی مہم چلا کر مسلم معاشرہ میں انہیں قرآن و سنت کی توضیح و تشریح کے معتمد مقام سے محروم کر سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ مسلم عوام اس معاملہ میں اس قدر حساس ہیں کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کبھی ’’علماء‘‘ کے روپ میں آنے والوں کو پذیرائی نہیں بخشی، تو علماء کی نفی اور کردارکشی کرکے آگے بڑھنے والوں کو مسلم سوسائٹی میں اس بارے میں قبولیت کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟

اس لیے اس حوالہ سے تو اس قانون کے نفاذ سے ہمیں کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہے۔ البتہ پریشانی اور اضطراب کا یہ پہلو ضرور نمایاں ہے کہ ملک میں بے حیائی اور بدکاری کی راہ میں تھوڑی بہت کوئی رکاوٹ اگر موجود تھی تو اسے ختم کر دیا گیا ہے، جسے ایک وفاقی وزیر محمد اعجاز الحق کے اس تبصرہ سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے نفاذ سے بیرونی سرمایہ کاری بڑھے گی کیونکہ باہر سے سرمایہ کاری کے لیے آنے والوں کو اب زنا کے الزام میں پکڑے جانے کا ڈر نہیں رہے گا۔ وفاقی وزیر پنجاب اعجاز الحق اس بل کا مقصد صحیح سمجھے ہیں اور انہوں نے جس بات کو قانون کے فائدہ کے طور پر ذکر کیا ہے وہی ہمارے نزدیک تشویش کا باعث ہے کہ اس سے بدکاری کے راستے کھلیں گے اور بے حیائی کو فروغ حاصل ہوگا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ علماء کرام اور دینی حلقوں کو اب پہلے سے زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے اور ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کے صریح احکام کے منافی اس قانون کے جبری نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اس قانون کے نفاذ کے نتیجے میں بے حیائی اور بدکاری کے فروغ کے رجحانات اور امکانات کے سدباب کے لیے بھی مؤثر لائحہ عمل طے کریں۔ ہم مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی قیادت کو ہر قسم کے تعاون کا یقین دلاتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ حدود شرعیہ کے تحفظ کے لیے مؤثر جدوجہد کا پلیٹ فارم ثابت ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں شرعی اقدار کی حفاظت اور بے حیائی و بدکاری کے روز افزوں فروغ کے سدّباب کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس سلسلہ میں اپنے ملی فرائض صحیح طریقہ سے سرانجام دینے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔