حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۵ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تک کوئی شکایت لے کر نہ پہنچے کہ میرے ساتھ یہ ہوا ہے، مقدمہ نہیں بن سکے گا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے یہ بھی لکھا ہے کہ وزیر قانون نے اپنی تقریر میں تو نہیں کہا مگر اپنے ساتھ بیٹھے خواتین و حضرات سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے ’’حدود لاز‘‘ کو ختم کر دیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں اس نئے اور مجوزہ مسودہ قانون کی متعلقہ دفعات کا متن بھی شامل کیا گیا ہے جو حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جلد نفاذ پذیر ہونے والا ہے۔

ملک میں رسمی طور پر نافذ شرعی حدود کے قوانین کے خلاف ایک عرصہ سے بین الاقوامی سطح پر اور اندرون ملک سیکولر لابیوں کی طرف سے یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ انہیں ختم کر دیا جائے اور ہمارے موجودہ حکمران بھی ان حدود کے خلاف اپنے جذبات کا کھلم کھلا اظہار کرتے رہتے ہیں، لیکن معاملہ چونکہ شرعی قوانین کا ہے اور ان حدود کا تعلق براہ راست قرآن و سنت سے ہے اس لیے وہ حدود کے ان قوانین کو ختم کرنے کے اعلانیہ اظہار کی صورت میں عوام کے ردعمل کا خوف محسوس کرتے ہیں اور اسی وجہ سے حدود کو ظاہرًا ختم کرنے کی بجائے انہیں عملاً غیر مؤثر بنانے کی یہ تکنیک اختیار کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اسی تکنیک پر عمل کیا گیا ہے کہ قانون کو ختم کرنے کی بجائے توہین رسالتؐ کے کسی بھی جرم کے وقوع پر مقدمہ کے اندراج کا طریق کار اس قدر پیچیدہ اور مشکل بنا دیا گیا ہے کہ کسی گستاخ رسولؐ کے خلاف عام حالات میں مقدمہ درج کرانا ممکن ہی نہیں رہا۔ اسی طرح حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کا اعلان کیے بغیر انہیں عملاً غیر مؤثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے جس کی رو سے وفاقی وزیر قانون کے بقول ’’حدودلاز‘‘ عملاً ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اس کے ساتھ ہی مغربی ملکوں کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی زنا کی صرف وہی صورت جرم متصور ہوگی جس میں جبر کا پہلو موجود ہوگا اور جس میں ایک فریق شکایت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مقدمہ کے اندراج کی طرف پیشرفت کرے گا جبکہ ’’رضا مندی کا زنا‘‘ مجوزہ قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان میں سرے سے جرم ہی نہیں رہے گا۔

دوسری طرف روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۵ جنوری ۲۰۰۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے حدود آرڈیننس کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے بارے میں قرار داد سینٹ میں جمع کرا دی ہے، یہ قرار داد سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حدود آرڈیننس امتیازی قانون ہے جس کا حدود اللہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ بنیادی انسانی حقوق اور مروجہ قوانین کے خلاف ہے۔

گویا حدود آرڈیننس کے خاتمہ کی اس مہم میں پیپلز پارٹی بھی موجودہ حکومت کی اس مہم میں شریک ہوگئی ہے بلکہ اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر حدود کے قوانین کو اللہ تعالیٰ کے حدود کے منافی اور غیر اسلامی بھی قرار دے دیا ہے۔ یہ صورتحال ملک بھر کے دینی حلقوں، جماعتوں اور مراکز کی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے اور تمام مکاتب فکر کی دینی قیادت سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ کا نوٹس لے اور حدود قوانین کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کے ازالہ اور نافذ شدہ چند شرعی قوانین کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز اٹھانے کا اہتمام کرے۔