حسبہ بل اور سپریم کورٹ آف پاکستان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرحد اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ’’حسبہ بل‘‘ کی بعض شقوں کو خلاف دستور قرار دے دیا ہے اور بعض خبروں کے مطابق صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل (MMA) کی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حسبہ بل کو از سر نو مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حسبہ بل کا مقصد صوبہ میں اسلامی احکام و شعائر کی پابندی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک سرکاری نظام قائم کرنا ہے لیکن اس پر وفاقی حکومت کا اعتراض ہے کہ یہ ایک متوازی سسٹم قائم کیا جا رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنے کے لیے افراد کار وہی ہوں گے جو شرعی احکام و ضوابط سے واقف ہیں اور معروف و منکر کا علم رکھتے ہیں اس لیے متحدہ مجلس عمل کے مخالف بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مولویوں کا مارشل لاء ہے۔ حسبہ بل ایک بار پہلے بھی سرحد اسمبلی سے منظور ہو کر سپریم کورٹ میں جا چکا ہے اور عدالت عظمیٰ نے اس پر بعض اعتراضات لگائے تھے جس کے بعد یہ بل دوبارہ سرحد اسمبلی میں پیش کیا گیا جس کے بارے میں صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے کہا ہے کہ اسے سپریم کورٹ کی ہدایات کے دائرہ میں مرتب کیا گیا ہے لیکن ایک بار پھر وفاقی حکومت کی رٹ پر عدالت عظمیٰ نے حسبہ بل کو قابل اعتراض قرار دے دیا ہے۔

جہاں تک حسبہ بل کے مقاصد کا تعلق ہے، عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالہ سے احتسابی نظام اسلامی روایات کا حصہ چلا آرہا ہے، خلافت راشدہ کے دور میں بھی اس کے شواہد موجود ہیں اور صدیوں تک مسلم حکومتیں اس نظام کی سرپرستی کرتی رہی ہیں۔ لیکن مغرب کے فلسفہ قانون و نظام کے تحت چونکہ نیکی اور بدی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے اس لیے جب بھی اس نوعیت کی کوئی بات آتی ہے اسے شخصی آزادی کے منافی اور فرد کے ذاتی معاملات میں حکومت کی مداخلت تصور کر لیا جاتا ہے اور دو فلسفے آپس میں ٹکرانے لگتے ہیں۔ جس میں ظاہر ہے کہ بالا دستی اور غلبہ اسی فلسفہ کو حاصل ہوتا ہے جس کے پاس طاقت اور کنٹرول ہے، ورنہ قرآن کریم نے اسلامی حکومت کے فرائض میں یہ بات شامل کر دی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام بھی قائم کرے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس بل یا ایکٹ پر جو اعتراض کیا ہے اور اس کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے وہ دستوری طور پر ہم سب کے لیے واجب العمل ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ساری صورتحال سے ایک سوال عام لوگوں کے ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ موجودہ سسٹم اور اسٹرکچر کے تحفظ اور دستوری دفعات کی بالا دستی کے لیے تو عدالت عظمیٰ متحرک ہے اور اس کے حوالے سے فیصلے صادر کر رہی ہے لیکن دستور پاکستان میں ملک کے تمام مروّجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے اور قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کی ممانعت کے بارے میں جو واضح ضمانت موجود ہے اس کی عملداری کے لیے عدالت عظمیٰ کا رول کیا ہے؟ یہ بات ملک کا ہر شہری جانتا ہے کہ ۱۹۷۳ء میں دستور پاکستان کی منظوری اور نفاذ کے بعد سے اب تک دستور میں دونوں گارنٹیوں کی موجودگی کے باوجود ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہوا، حتٰی کہ دستور کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سفارشات پیش کیے جانے کے باوجود ان کی روشنی میں قانون سازی نہیں ہوئی۔ کیا اس صورتحال کا نوٹس لینا عدالت عظمیٰ کے دائرہ کام میں شامل نہیں ہے؟ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے عزت مآب چیف جسٹس کی خدمت میں بصد ادب و احترام یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے ممتاز قانون دانوں اور جید علماء کرام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے قیام کی کوئی صورت نکالیں جو اس بات کا جائزہ لے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اور خاص طور پر دستور کے نفاذ کے بعد سے اب تک ملک میں اسلامی قوانین و نظام کا نفاذ عملاً کیوں نہیں ہو سکا؟ اس میں تاخیر کے اسباب کیا ہیں، پاکستان میں دستور کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ کی رکاوٹیں کیا ہیں اور ان رکاوٹوں کو دور کرکے قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے اعلانات اور دستور پاکستان کی ضمانت کے مطابق ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کون سے عملی اقدامات ضروری ہیں؟

کوئی صوبائی حکومت دستور پاکستان کے کسی تقاضے کے خلاف قانون سازی کرتی ہے تو اس کی نشاندہی کرنا اور دستور کی بالا دستی قائم رکھنا بہت اچھا کام ہے جس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر وفاقی یا صوبائی حکومتیں دستور پاکستان کی ضمانت کے باوجود اسلامی نظام کے نفاذ اور قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے کام میں مسلسل کوتاہی کر رہی ہے تو عدالت عظمیٰ کو اس کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔ امید ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ہماری اس درخواست پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔