پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۵ء

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی حکومت سے سفارش کر دی ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ بحال کیا جائے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش کو ختم کیا جائے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب قادیانیوں کو ملک کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اور یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ قادیانی گروہ اپنے بارے میں عالم اسلام کے دینی مراکز اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کا ملت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں، بلکہ اس اجماعی فیصلے کے علی الرغم قادیانی امت اپنی اس ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے کہ وہ ہی اصلی مسلمان ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے مسلمان (نعوذ باللہ) دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔اس کے علاوہ قادیانیوں کے نام اور اصطلاحات سب مسلمانوں جیسے ہیں جبکہ حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ بند ہے اور سعودی عرب نے خاص طور پر قادیانیوں کے حرمین شریفین میں داخلہ پر پابندی لگا رکھی ہے۔

اس پس منظر میں یہ ضروری ہوگیا تھا کہ قادیانیوں کی فریب کاری اور دھوکہ دہی کو روکنے اور انہیں مسلمانوں کے ناموں کے ساتھ حرمین شریفین میں داخلہ سے باز رکھنے کے لیے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بڑھا دیا جائے، پاسپورٹ کے لیے دی جانے والی درخواست کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا جائے جسے پر کرنے والا شخص مسلمان شمار ہو اور پاسپورٹ میں اس کی بنیاد پر واضح کر دیا جائے کہ اس کا مذہب اسلام ہے۔ مگر گزشتہ دنوں یہ خانہ اچانک ختم کر دیا گیا اور اسلام آباد سے مشینی ریڈ ایبل کمپیوٹرازڈ پاسپورٹ جاری ہونا شروع ہوئے تو ان میں مذہب کا خانہ شامل نہیں تھا۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر دینی جماعتوں نے احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حسب سابق پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ شامل کیا جائے۔ جس کا جواب وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے یہ دیا گیا کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود نہیں ہے اس لیے ہم نے بھی ختم کر دیا ہے اور اب دوبارہ مذہب کا خانہ پاسپورٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے پاسپورٹ پر الگ سے یہ مہر لگا دی جائے کہ ’’حامل ہذا مسلمان ہے‘‘۔ مگر دینی جماعتوں نے حکومت کا یہ موقف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اعلان کیا کہ اگر پہلے کی طرح پاسپورٹ کے اصل اندراجات میں مذہب کا خانہ دوبارہ شامل نہ کیا گیا تو ملک میں تحریک ختم نبوت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ادھر مؤتمر عالم اسلامی کے سربراہ اور ممتاز سعودی دانش ور ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے بھی اسے تشویشناک بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین میں قادیانیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود ہونا ضروری ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اس سلسلہ میں جمعیۃ کی سابقہ روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اسلام آباد میں ’’آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس‘‘ طلب کر لی جس میں مختلف مکاتب فکر کی دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے قائدین اور اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل نے نے بھی شرکت کی اور اس کانفرنس میں متفقہ طور پر حکومت پر واضح کیا گیا کہ اگر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ بحال کرنے کا اعلان نہ کیا گیا تو ۲۴ دسمبر سے ملک بھر میں مظاہروں کے سلسلہ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کی ہائی کمان کے اس دانشمندانہ فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ اس نے اسے اقتدار کی انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے ملک کے عوام اور دینی حلقوں کے جذبات کا احترام کیا ہے اور حکومت سے کہہ دیا ہے کہ وہ دینی حلقوں کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ دوبارہ شامل کرے۔

پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے والد محترم چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا شمار ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت میں پارلیمنٹ کے اندر اور اس سے باہر عوامی محاذ پر بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا تھا، اس لیے ہمیں چوہدری شجاعت حسین کی بیرون ملک سے واپسی پر یہی توقع تھی کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کریں گے اور اس مسئلہ کا کوئی باوقار حل نکل آئے گا۔

اس کے ساتھ ہی ہم حکومت اور مسلم لیگ دونوں کے ذمہ دار حضرات سے گزارش کریں گے کہ وہ اس فیصلہ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے علاوہ حکومتی حلقوں میں گھسے ہوئے ایسے قادیانیت نواز عناصر پر نظر رکھیں جو وقتاً فوقتاً اس قسم کی حرکتیں کرتے رہتے ہیں اور قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے متفقہ دستوری فیصلہ کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سازش کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ایسے لوگ نہ ملک کے وفادار ہیں ، نہ عوام کے جذبات سے ان کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی حکومت اور حکومتی جماعت کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔