غربت اور دہشت گردی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۷ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کبیر والا کے دورہ کے موقع پر استقبال کے لیے آنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار دہشت گرد ہیں اور غربت کے خاتمہ سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔

جہاں تک ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تعلق ہے ہمیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جذبہ سے اتفاق ہے لیکن ان کا تجزیہ ہمارے نزدیک بہرحال محل نظر ہے۔ اس لیے کہ ہمارے خیال میں نہ تو ملک کی ترقی کی راہ میں دہشت گرد سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کا سرچشمہ غربت ہے کہ اس کے دور ہونے سے دہشت گردی جڑ سے اکھڑ جائے گی۔ دہشت گردی ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹوں میں ایک رکاوٹ ضرور ہے مگر ملک کی ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن اور بدعنوانی ہے جس نے ہمارے قومی وجود کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے اور جس کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کرپشن اور بدعنوانی ایک عام آدمی سے شروع ہوتی ہے اور اعلیٰ سطح تک بلند ہوتی چلی جاتی ہے اور بدقسمتی سے جوں جوں اس کی سطح بلند ہوتی ہے اس کا حجم اور ضخامت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اگر صدر مملکت بیرونی ممالک کے بینکوں میں پاکستانیوں کی ریزرو رقوم کو نظر انداز کر دیں اور صرف نیب کی تحویل میں موجود کھلی اور بند فائلوں پر ایک نظر ڈال لیں تو ان کے لیے ہماری اس گزارش کے ساتھ اتفاق کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اگر ہم اس پر قابو پا لیں تو بہت سے دیگر لاینحل مسائل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کی بھی شاید کوئی صورت نکل آئے گی۔

پھر عالمی سطح سے لے کر ہمارے ملک کی قیادت تک کم و بیش سبھی لوگ اس شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ دہشت گردی غربت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اس لیے اگر غربت ختم کر دی جائے تو دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ ہمارے نزدیک یہ سخت مغالطہ بلکہ خود فریبی کی بات ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کسی مؤثر اور نتیجہ خیز حکمت عملی کے وجود میں آنے کی راہ میں یہی خود فریبی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جس چیز کو آج کی دنیا دہشت گردی قرار دیتی ہے اور جس کے خاتمہ کے لیے صدر پرویز مشرف بھی عالمی طاقتوں کا ساتھ دے رہے ہیں اس کا سرچشمہ غربت نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی ناانصافیاں ہیں، اسلام کے خلاف ان کا معاندانہ رویہ ہے، مغربی استعمار کا جبر ہے، مسلمانوں کے خلاف ان کا جارحانہ طرز عمل ہے اور مسلم معاشروں کو ہر حوالہ سے دبائے رکھنے جانبدارانہ پالیسی ہے۔ صدر پرویز مشرف اگر اس دہشت گردی کا فی الواقع خاتمہ چاہتے ہیں تو اپنے حلیفوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اور جانبدارانہ طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ کریں، یہ دہشت گردی خودبخود تحلیل ہوجائے گی۔ ورنہ عمل کو ختم کیے بغیر اس کے ردعمل کو ختم کرنے کی کوشش پہلے کب کامیاب ہوئی ہے کہ اب اس کے لیے وقت اور صلاحیتوں کو مسلسل ضائع کیا جا رہا ہے؟