حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۳ء

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیس کے قریب این جی اوز کی خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بارے میں تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن کی طرف سے حدود آرڈیننس کی منسوخی کی سفارش سامنے آچکی ہے جس کی حمایت میں اس مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی نے بھی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے جس میں اس سفارش کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ملک میں نافذ کسی شرعی قانون کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حدود آرڈیننس (۱) زنا (۲) شراب نوشی (۳) قذف (۴) ڈکیتی (۵) سرقہ اور دیگر معاشرتی جرائم کے بارے میں قرآن و سنت کی متعین کردہ سزاؤں پر مشتمل ہے جو صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں مسلسل عوامی مطالبہ کے بعد نافذ کیا گیا تھا اور اگرچہ اس پر ابھی تک مؤثر عملدرآمد کا کوئی اہتمام نہیں ہو سکا مگر عالمی حلقوں اور ملک کی متعدد این جی اوز کی طرف سے اسے منسوخ کرانے کے لیے مسلسل مہم جاری ہے اور اب جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن نے بھی اس کی سفارش کر دی ہے۔ ہمارے خیال میں متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی کا اس سفارش کے خلاف ردعمل اور احتجاج بجا ہے لیکن اسے صرف اس حد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ملک کی دینی و سیاسی قوتوں کو اس کا بھرپور نوٹس لیتے ہوئے حکومت پر واضح کر دینا چاہیے کہ اس قسم کی سفارشات پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات سبوتاژ کرنے اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے سامنے لائی جا رہی ہے جنہیں پاکستان کے دینی و عوامی حلقے کسی طرح بھی برداشت نہیں کریں گے۔

اسی طرح خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین ختم کرنے کے مطالبہ کی طرف بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مطالبہ کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کے قوانین کی طرح پاکستان میں بھی مردوں اور عورتوں کے لیے قوانین و احکام میں کوئی فرق روا نہ رکھا جائے اور نکاح، طلاق، وراثت، شہادت اور دیگر معاملات کے حوالہ سے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں مردوں اور عورتوں کے لیے احکامات و قوانین میں جو فرق موجود ہے اسے ختم کر دیا جائے، اس مطالبہ کو اگر تفصیل کے ساتھ دیکھا جائے تو بہت سے شعبوں کے دینی احکام براہ راست اس کی زد میں آتے ہیں اور خاص طور پر خاندانی سسٹم کے حوالہ سے ہمارا پورا نظام قرآن و سنت کی بیان کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مغربی خاندانی نظام کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے اس لیے اس مطالبہ کے نتائج و مضرات کو بے نقاب کرنے کے لیے علماء کرام، دینی راہنماؤں اور علمی مراکز کو پورے شعور اور توجہ کے ساتھ رائے عامہ کی راہنمائی کرنی چاہیے۔