بین المذاہب مکالمہ اور دینی مراکز کی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۷ء

روزنامہ جنگ لندن ۱۰ مئی ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ کو فروغ دینے کے لیے لندن میں ایک فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ٹونی بلیئر کے خیال میں عالمی سطح پر کوئی ادارہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ بین المذاہب یا انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے لیے کام نہیں کر رہا اس لیے انہوں نے یہ پروگرام ترتیب دینے کا ارادہ کیا ہے۔

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ کے عنوان سے کچھ عرصہ سے بین الاقوامی سطح پر سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف مذاہب کے دانشور اس سلسلہ میں کام کر رہے ہیں۔ چند ماہ قبل مسیحیوں کے پروٹسنٹ فرقہ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری پاکستان تشریف لائے تھے اور انہوں نے پاکستان کے بعض سرکردہ راہنماؤں کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی تھی جبکہ اسی نوعیت کی ایک بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں بھی حال میں منعقد ہو چکی ہے۔

جہاں تک مختلف مذاہب کے علماء اور دانشوروں کے درمیان مذہبی مسائل اور معاملات کے حوالہ سے گفتگو کا تعلق ہے یہ ہمیشہ سے ہوتی آرہی ہے اور کوئی دور بھی ایسا نہیں گزرا جب مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان مذہب کے بارے میں بات چیت نہ ہوئی ہو۔ یہ گفتگو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے بھی ہوتی رہی ہے، دلیل و منطق کے ساتھ ایک دوسرے پر برتری اور بالادستی جتانے کے لیے بھی ہوتی آئی ہے اور اس کا ایک اہم ایجنڈا مختلف مذاہب کی مشترکہ باتوں کو جمع کرکے ایک متفقہ مذہب کی تشکیل بھی رہا ہے، جیسا کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں ’’دین الٰہی‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مذہب کے قیام کے عنوان سے ہو چکا ہے۔ لیکن آج کے دور میں جو لوگ عالمی سطح پر اس مقصد کے لیے متحرک ہیں ان کے اہداف میں دو باتیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔

  1. ایک یہ کہ مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان چونکہ عالمی سطح پر روابط بڑھ رہے ہیں اور فاصلے کم ہو کر دنیا ایک گلوبل سوسائٹی کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے اس لیے باہمی برداشت اور روا داری کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں تصادم اور محاذ آئی کا امکان کم سے کم ہوجائے۔
  2. دوسرا مقصد ان راہنماؤں کی گفتگو سے یہ جھلک رہا ہے کہ تمام مذاہب کو اپنی اپنی جگہ سچائی کا علمبردار تسلیم کرتے ہوئے ایک دوسرے کی نفی کرنے سے باز رکھا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں اگر کوئی مذہب خود کو حق مذہب قرار دے کر دوسرے مذہب کو باطل کہتا ہے اور اس کی نفی کرتا ہے تو اس سے انتہاپسندی جنم لیتی ہے اور باہمی تصادم کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

اسی لیے عالمی سطح پر زور دیا جا رہا ہے کہ مذہبی تعلیم میں دوسروں کی نفی کرنے والا مواد ختم کیا جائے اور صرف مثبت مواد پر مبنی مذہبی تعلیمات کو باقی رہنے دیا جائے۔ ہمارے دینی مدارس کے تعلیمی نظام و نصاب پر بین الاقوامی حلقوں کے جو اعتراضات سامنے آئے ہیں ان میں یہ بات بہت نمایاں ہے کہ اس میں منفی مواد پڑھایا جاتا ہے جس سے دوسرے مذاہب کے خلاف ذہن سازی ہوتی ہے اور انتہا پسندی وجود میں آتی ہے۔ اگر اسی نکتہ کو ’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ کا سب سے اہم ایجنڈا تسلیم کیا جائے تو اس کا نشانہ سب سے زیادہ اسلام اور اسلام کی حقیقی تعلیمات دینے والے دینی حلقے ہیں۔ کیونکہ ہمارا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اسلام دنیا کا واحد سچا مذہب ہے اور صرف وہی آسمانی وحی اور اخلاقی تعلیمات کی صداقتوں کا علمبردار ہے، اس کے علاوہ جتنے مذاہب ہیں وہ یا تو آسمانی تعلیمات کے مقابلہ میں وجود میں آنے والے مذاہب ہیں یا آسمانی مذاہب کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔

اس پس منظر میں دنیا بھر میں ’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ یا ’’انٹر فیتھ ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ہونے والی بلکہ دن بدن بڑھنے والی سرگرمیوں سے لاتعلق رہنا تو ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ حکمت و دانش کی بات ہوگی، البتہ دینی اداروں کی ذمہ داری اس حوالہ سے ضرور بڑھ جاتی ہے کہ وہ علماء کرام، اساتذہ اور طلبہ کو اس وقت دنیا میں موجود مذاہب کی معروضی صورتحال سے آگاہ کرنے اور مذاہب کی باہمی کشمکش میں اسلام کی حقانیت اور اس کے دلائل کا تقابلی مقابلہ کرنے کا اہتمام کریں تاکہ اس مباحثہ و مکالمہ میں شریک ہونے والے علماء کرام اور دانشور حضرات اسلام اور مسلمانوں کی صحیح طور پر وکالت اور نمائندگی کر سکیں۔

درجہ بندی: