چیف جسٹس کی بحالی اور قوم کی توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف چار ماہ قبل دائر کیے جانے والے ریفرنس کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدالت عظمیٰ کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض دوبارہ سرانجام دینا شروع کر دیے ہیں اور ملک بھر میں عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلہ پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اس سے کم و بیش ساڑھے چار ماہ قبل ان الزامات کی آڑ میں، جن کا صدارتی ریفرنس میں تذکرہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ مگر انہوں نے یہ دباؤ قبول نہیں کیا اور نہ صرف یہ کہ مستعفی ہونے سے انکار کر دیا بلکہ ریفرنس کا کورٹ میں سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چیف جسٹس کی یہ جرأتمندانہ ادا قوم کو اس قدر پسند آئی کہ ملک بھر کی وکلاء برادری ان کے گرد جمع ہوگئی اور قوم کے کم و بیش ہر طبقے نے سڑکوں پر آکر چیف جسٹس کے اس فیصلے کا پرجوش خیر مقدم کیا جس سے قوم کی یہ اجتماعی خواہش ابھر کر سامنے آئی کہ وہ دستور کے مطابق اپنے ملک کی عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ اس طرح چیف جسٹس کی حمایت میں وکلاء برادری کی یہ تحریک پوری قوم کی حمایت کے ساتھ ’’عدلیہ کی آزادی‘‘ کی جدوجہد قرار پائی اور اس تحریک میں وکلاء برادری کی کامیابی پر قوم کے ہر طبقے میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس کی بحالی پر ہم بھی قوم کی اس خوشی میں شریک ہیں اور چیف جسٹس اور ان کے ساتھ پوری وکلاء برادری کو مبارک باد دیتے ہیں، البتہ اس کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس معرکہ میں کامیابی کے بعد چیف جسٹس کی ذمہ داریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ عدلیہ کی آزادی کے حوالہ سے قوم کی گزشتہ نصف صدی کی محرومیوں اور مایوسیوں کی تلافی کے لیے تمام تر امیدوں کا رخ اب ان کی ذات کی طرف ہوگیا ہے اور لوگ بجا طور پر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اب عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر ملک میں دستور اور قانون کی عملی حکمرانی بحال کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ نے اپنے حالیہ فیصلوں میں اس عزم کا اظہار کیا ہے اور ہم اس راہ میں حائل تمام تر رکاوٹوں کا پوری طرح ادراک رکھنے کے باوجود ان کے اس مبارک عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت عدلیہ کی آزادی کی اس جدوجہد کو اس کے منطقی نتیجے تک پہنچائیں اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری اور ان کے رفقاء کو اس عزم پر استقامت کے ساتھ قائم رہنے اور اس کی تکمیل کی طرف مؤثر اور مثبت پیشرفت کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔