تحریک طلبہ و طالبات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں ایک اجلاس کے دوران ’تحریک طلبہ و طالبات‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کے سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امراء اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کرکے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا۔ تحریک طلبہ و طالبات کا مقصد اسی تحریک کو آگے بڑھانا بیان کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے مختلف سطح پر رابطوں کا سلسلہ بھی تازہ معلومات کے مطابق شروع ہوگیا ہے۔

ہم سے اس سلسلے میں رائے پوچھی گئی تو ہم نے عرض کیا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام اور انسداد منکرات کے لیے جدوجہد کرنا، مطالبات کرنا، رائے عامہ کو منظم کرنا، عوامی دباؤ کو بڑھانا اور پرامن جدوجہد کا ہر ممکن راستہ اختیار کرنا، نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ لیکن ان مقاصد کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینا، حکومت کے ساتھ تصادم کی صورت اختیار کرنا، ہتھیار اٹھانا اور کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرنا جسے فقہائے کرام نے ’’خروج‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، ہمارے نزدیک درست نہیں ہے اور ہم اس کی تائید کے لیے تیار نہیں ہیں۔ البتہ ہمارے جو بزرگ اسے درست سمجھتے ہیں، اس کے شرعی اور جائز ہونے پر مطمئن ہیں اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ حق ہم تسلیم کرتے ہیں مگر اس درخواست کے ساتھ کہ اس تحریک کا مورچہ ’’دینی مدارس‘‘ سے الگ رکھا جائے اور کبھی دینی مدرسے کو ایسی کسی تحریک کا مورچہ نہ بنایا جائے۔

ہماری ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں مدرسہ کبھی کسی مسلح تحریک کا مورچہ نہیں رہا، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے بھی اس دور میں جب وہ برصغیر کی آزادی کے لیے برطانوی استعمار کے خلاف مسلح تحریک کے تانے بانے بن رہے تھے جسے تاریخ میں تحریک ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس تحریک کا مورچہ دار العلوم دیوبند کو نہیں بنایا تھا بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کرکے انہوں نے اپنا نظام الگ تشکیل دیا تھا، تاکہ دار العلوم دیوبند اور اس سے متعلقہ دینی اداروں کا تعلیمی کردار کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے اور ان کے لیے خوامخواہ مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی نہ ہوں۔ ہمارے نزدیک دینی مدارس کا تعلیمی کردار ان کا آزادانہ وجود، دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد، اور عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کے لیے ان کی مساعی دیگر تمام امور سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی تحریک کے لیے اس کو خطرے میں ڈالنا اور کسی بھی حوالے سے دینی مدارس کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہ شریعت و حکمت کے لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی ہمارے اکابر و اسلاف بالخصوص شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء کار رحمہم اللہ تعالٰی کی روایات اور مزاج سے مطابقت رکھتا ہے۔ اگر کچھ دوست اکابر کے طے کردہ ان تحفظات کا دائرہ قائم رکھتے ہوئے ’’تحریک طالبان‘‘ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اس طریق کار پر شرح صدر نہ ہونے کے باعث ہم ان کا ساتھ تو نہیں دے سکیں گے مگر ان کے خلوص اور مقصد کی سچائی کی وجہ سے ہماری دعائیں ضرور ان کے ساتھ ہوں گی۔