کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۷ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۷ نومبر۲۰۰۷ء کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل دین ہے مگر مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے، اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سر کا، یہ محض معاشرتی رواج ہے، جبکہ حجاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھا۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے یہ بھی کہا ہے کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں ہے، یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص جرائم کی سزا کو حدود اللہ کہا جائے، وغیرہ ذٰلک۔

ڈاکٹر خالد مسعود کا تعلق ایک ٹھیٹھ مذہبی گھرانے سے ہے، ان کے والد محترم حضرت صوفی شیر محمد صاحبؒ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری ؒ کے مجازین میں سے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام ضلع جھنگ کے نائب امیر رہے ہیں، جھنگ شہر میں ان کی قائم کردہ مسجد تقوٰی آج بھی اہل حق کی سر گرمیوں کا مرکز ہے اور مجھے وہاں وقتاً فوقتاً دینی پروگراموں کے لیے حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ڈاکٹر خالد مسعود کا فکری تعلق ڈاکٹر فضل الرحمٰن سے ہے جنہوں نے اسلام کی تحقیق و مطالعہ مستشرقین کی نگرانی میں کیا اور پھر انہی کے رنگ میں رنگے گئے۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں سرکاری طور پر ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کا سربراہ بنایا گیا تھا اور انہوں نے اسلام کی جدید تعبیر و تشریح کے نام سے اسی قسم کے ’’اجتہادات‘‘ کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس کا تسلسل دوبارہ قائم کرنے کی ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عوامی حلقوں کے شدید غیظ و غضب کے باعث حکومت کو انہیں اس منصب سے الگ کرنا پڑا تھا اور ڈاکٹر فضل الرحمن کی ان ’’اجتہاد نما تحریفات‘‘ پر صدر ایوب خان مرحوم بھی عوام کی نفرت کا نشانہ بنے تھے۔

ہم ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے افکار جو بھی ہوں، انہیں ذاتی طور پر اپنا فکر خود طے کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن چونکہ اس قسم کے افکار پاکستان کے جمہور مسلمانوں اور جمہور اہل علم کی نمائندگی نہیں کرتے اس لیے انہیں ایسے افکار کے اظہار اور ان کی اشاعت کے لیے سرکاری حیثیت اور سرکاری وسائل کو استعمال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ اگر ایک سرکاری منصب پر بیٹھ کر ملک کے جمہور اہل علم اور جمہور مسلمانوں کے معتقدات اور دینی جذبات کی ترجمانی نہیں کر سکتے یا کم از کم ان کا لحاظ نہیں کر سکتے تو انہیں اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصب سے الگ ہو کر اپنے ذاتی افکار کو ذاتی حیثیت سے پیش کرنا چاہیے، کیونکہ قوم کے خزانے کو قوم کی اکثریت کے جذبات و عقائد کے خلاف استعمال کرنا کسی طرح بھی دیانت و اخلاق کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

جہاں تک اسلام کے مکمل ضابطۂ حیات ہونے کا تعلق ہے، ہم ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے کہیں گے کہ وہ صرف بخاری شریف کی فہرست مضامین پر ایک نظر ڈال لیں اور پھر بتائیں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا وہ کون سا پہلو ہے جو جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور راہنمائی سے خالی ہے؟ اسی طرح بخاری شریف میں آنحضرتؐ کا یہ ارشاد گرامی بھی ملاحظہ کر لیں جس میں آقائے نامدارؐ نے چوری کے جرم میں ایک ملزم کی شفاعت کرنے پر حضرت اسامہ بن زیدؓ کو یہ کہہ کر ڈانٹا تھا کہ ’’اتشفع فی حدمن حدو د اللّٰہ‘‘ کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود کے معاملہ میں سفارش کر رہے ہو؟

ہاں! اگر ڈاکٹر خالد مسعود صاحب اور ان کے دیگر ہمنوا قرآن کریم کی تشریح اور اس کے کسی حکم کا مصداق طے کرنے میں جناب نبی اکرمؐ کا حق تسلیم نہیں کرتے اور یہ اتھارٹی خود اپنے لیے مخصوص کرنا چاہتے ہیں تو الگ بات ہے، ورنہ جرائم کی سزاؤں کو ’’حدود‘‘ آنحضرتؐ نے قرار دیا ہے اور انسانی نسل کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں آپؐ کی ہدایات و راہنمائی اس قدر تفصیل اور جامعیت کے ساتھ حدیث و سیرت کے ریکارڈ میں محفوظ ہے کہ آج کا کوئی بھی نظام جامعیت میں اس کی ہمسری کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔

درجہ بندی: