حیا کا فطری جذبہ اور عریانی و فحاشی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۸ء

روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اخبار ڈیلی سن کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ فلمی دنیا کی معروف سپر ماڈل سنڈی کرافورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے نیم برہنہ ماڈلنگ سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کے شعور کی منزل تک پہنچنے والے بچے اسے اس حالت میں دیکھیں، اس کا کہنا ہے کہ:

’’اس وقت میری بیٹی کا یا ۶ سال اور بیٹا پریسلے ۸ سال کا ہو گیا ہے وہ دونوں اس وقت شعور کی منزل پر پہنچ رہے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ میری ایسی ماڈلنگ دیکھیں، میں نے اس لیے بہت سے میگزین کے لیے ماڈلنگ کے معاہدے ختم کر دیے ہیں، میں اپنے کام پوری ایمانداری سے کرتی ہوں اور میری خواہش ہوتی ہے کہ اپنا کام مقررہ وقت میں کیا جائے، انسان کے لیے زندگی میں پیسہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم میرے لیے اس وقت سب سے اہم اپنا خاندان اور بچے ہیں، بچوں کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بدلنا ہوتا ہے اس لیے میں بھی اپنی روش ترک کر رہی ہوں۔‘‘

حیا انسان کا فطری جذبہ ہے اور حیا کا مطلب یہی بیان کیا جاتا ہے کہ انسان خود کو جس حالت میں دیکھا جانا پسند نہ کرے اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ قرآن کریم سورۃ الاعراف آیت۲۲ میں بتا یا گیا ہے کہ سیدنا حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام نے جب جنت میں ممنوع درخت کا پھل چکھ لیا جس سے ان کا لباس اتر گیا تو وہ بے ساختہ درختوں کے پتے لے کر اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپنے لگے۔ یہ حیا کے جذبے کا اظہار تھا جو انسانی فطرت و جبلت کا حصہ ہے اور یہ کسی تمدنی ارتقا کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا بلکہ سب سے پہلے انسانی جوڑے کی فطرت میں شامل تھا۔ قرآن کریم نے انسان کے لیے لباس کو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی نعمت قرار دیتے ہوئے اس کے چار مقاصد بیان کیے ہیں:

  1. سورۃ الاعراف آیت ۲۶ میں فرمایا کہ اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور تمہارے لیے زینت کا باعث ہے۔
  2. سورۃ النحل آیت ۸۱ میں فرمایا کہ یہ لباس تمہارے لیے گرمی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور جنگ میں حفاظت کا باعث بنتا ہے۔
  3. سورۃ الانبیاء کی آیت ۸۰ میں بتایا کہ اللہ رب العزت نے حضرت داؤد علیہ السلام کو جنگی لباس بنانا سکھایا تاکہ وہ لڑائی کے وقت تمہاری حفاظت کرے۔
  4. جبکہ سورۃ الاعراف کی آیت ۲۷ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات سے خبر دار کیا ہے کہ شیطان کا تمہارے خلاف ایک بڑا حربہ یہ ہوگا کہ تمہیں بے لباس کر کے بے حیائی کی طرف لے جائے۔

گویا حالت امن میں لباس کے تین بڑے مقصد ہیں (۱) ستر کا چھپانا (۲) زینت (۳) سردی گرمی سے حفاظت (۴) جبکہ جنگ میں دشمن کے وار سے بچاؤ بھی اس کے مقاصد میں شامل ہو جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ نے سورۃ الاعراف کی آیت ۲۶ کے تحت مسند احمدؒ اور جامع ترمذی ؒ کے حوالہ سے جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل کی ہے جس کی آنحضرتؐ نے نیا لباس پہننے کے بعد پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے کہ ’’الحمد للہ الذی کسانی ما أ و اری بہ عورتی وأتجمل بہ فی حیاتی‘‘ سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے لباس پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی پردہ کی جگہ کو ڈھانپتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں۔

اس کے برعکس بے لباس ہونے کو قرآن کریم نے ’’فاحشہ‘‘ قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الاعراف کی آیت ۲۸ تا ۳۰ میں فرمایا گیا ہے کہ جب مشرکین فاحشہ یعنی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو اس پر دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسا ہی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس کا حکم دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تو بیخی انداز میں سوال کیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں بے حیائی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے؟ مفسرین کرام ؒ فرماتے ہیں کہ ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بیت اللہ کا ننگے طواف کیا کرتے تھے اور پوچھنے پر کہا کرتے تھے کہ یہ بات ہمارے آباؤ اجداد سے چلی آرہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا میں ننگا بھیجا تھا۔ یعنی یہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور انسانی فطرت بھی (نعوذ باللہ) یہی ہے۔ بیت اللہ شریف کے گرد مردوں اور عورتوں کے اس ننگے طواف کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے ایک سال قبل حکماً روک دیا تھا۔

اس پس منظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ گرل ماڈل کی طرف سے نیم برہنہ ماڈلنگ ترک کرنے کا یہ اعلان اس انسانی فطرت کا ایک بے ساختہ اظہار ہے جسے کئی صدیوں سے تکلفات و تصنعات اور تعیش و عریانی کے ملبے کے نیچے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن فطرت بہرحال فطرت ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو کر رہتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ ہمارے معاشرے کے ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سبق بھی ہے جو مغرب کی پیروی کے شوق میں لباس کا دائرہ دن بدن تنگ کرتے چلے جانے میں مصروف ہیں بلکہ مغرب و مشرق کے ان بدلتے ہوئے رجحانات کو دیکھ کر ہمیں وہ مصرعہ یاد آرہا ہے کہ:

؂ ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا
درجہ بندی: