دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۸ء

پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ اور اس پر بحث و مباحثہ کے بعد جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے اس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ ترمیم بھی شامل کر لی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لے کر قومی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نیز عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پہلی ترجیح ہوں گے۔

دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے عنوان سے اب تک جو کاروائیاں ہو رہی ہیں ان پر اس حوالہ سے ملک بھر میں پریشانی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے کہ:

  • ان کاروائیوں پر بیرونی ایجنڈا حاوی ہے،
  • اس میں ملک و قوم کے مفادات، قومی رائے عامہ اور عوام کے جذبات و احساسات کا لحاظ نہیں رکھا جا رہا،
  • اور ملک بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کی اس دلدل میں مزید دھنستا چلا جا رہا ہے۔

اس لیے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں کا مسلسل یہ مطالبہ چلا آرہا ہے کہ اس پالیسی کا قومی مفادات اور عوامی جذبات کے پیش نظر از سر نو جائزہ لیا جائے۔ ہمیں اطمینان ہے کہ پارلیمنٹ نے اس سے اتفاق کر لیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اس پر پارلیمنٹ کے تمام ارکان ،حکومتی اتحاد اور خاص طور پر جمعیۃ علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے مطابق ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا نئے سرے سے جائزہ لے کر قومی مفادات اور عوامی جذبات کے مطابق مضبوط، دوٹوک اور با وقار پالیسی اختیار کی جائے گی۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدر، حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر سمیت مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کی طرف سے ایک اعلامیہ ارکان پارلیمنٹ کو بھجوایا گیا تھا۔ جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے بھی ایک عرضداشت ارکان پارلیمنٹ کی خدمت میں پیش کی تھی جو اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے۔ یہ تحریر اس مسئلہ پر قومی اور دینی حلقوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہے اس لیے ہم اسے اس تمہید کے ساتھ ’’حالات و واقعات‘‘ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔


علماء کرام کی ارکانِ پارلیمنٹ سے دردمندانہ اپیل


الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلٰوۃ والسلام علی سیدنا وشفیعنا ومولانا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین، ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین، امابعد۔

معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان جس نازک صورتحال سے دو چار ہے اور پوری قوم جس تشویش، بے چینی اور فکر میں مبتلا ہے، وہ اہل نظر پر پوشیدہ نہیں۔ بحمد اللہ قومی اسمبلی سینیٹ کے منتخب ممبران اور حکومت کے سر کردہ افراد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس نازک صورتحال پر غور کرنے کے لیے جمع ہیں، اس اہم موقع پر ہم اپنی قومی اور شرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے آپ کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کر رہے ہیں تاکہ امن و امان کی سنگین صورتحال اور ملک کے موجودہ بحران کے حقیقی اسباب اور حکومتی اقدامات اور خارجی و قومی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لے کر پارلیمنٹ ملک کو موجودہ بھنور سے نکالنے کے لیے صحیح اور ٹھوس فیصلے کر سکے۔ہمارے خیال میں اگر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ صوبہ سر حد قبائلی علاقوں اور سوات وغیرہ کے بگڑے ہوئے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہاں کے عوام و خواص درج ذیل طبقات میں منقسم نظر آتے ہیں:

  • (الف) مسلمانوں کی بھاری اکثریت جو ہمیشہ پر امن رہی ہے اور اب بھی پر امن اور وطن کی محبت سے سرشار ہے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سر حدوں کی محافظ ہے اور دشمن کے لیے ہمیشہ نا قابل تسخیر رہی ہے اور علاقے کے علمائے کرام ان میں سر فہرست ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ قبائل اپنی قدیم روایات کے تحفظ کو بھی اپنی قومی غیرت و حمیت کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کی بنسبت نماز، روزہ اور ستر و حجاب وغیرہ دینی معاملات کے زیادہ پا بند اور ان کے بارے میں زیادہ حساس ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی حکومت دین یا اہل دین کا مذاق اڑائے، یا دین اور اہل دین کو رسوا کرنے یا ان کی قدیم روایات کو پا مال کر کے ان پر غیر ملکی حکمرانوں، یا غیر ملکی نظریات کو مسلط کرنے کی کوشش کرے تو وہ پر اَمن ہونے کے باوجود اس سے سخت نفرت کرتے ہیں اور غیر ملکی افواج یا غیر اسلامی نظریات کا تسلط ان کے لیے کسی حالت میں قابلِ برداشت نہیں۔اس وقت وہاں جو بمباری ہو رہی ہے، یا تشدد کو روکنے کے لیے جو فوجی آپریشن جاری ہے، اس کا زیادہ تر نقصان اسی مظلوم اور پر امن اکثریت کو پہنچ رہا ہے، جس میں بے گناہ جوان، بوڑھے، عورتیں اور معصوم بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔
  • (ب) محب وطن مسلمانوں کی اس بھاری اکثریت میں بہت سے مخلص مگر مشتعل نوجوان ایسے بھی ہیں جو جامعہ حفصہ اور اپنے علاقوں میں مظلوم مسلمانوں کی شہادت پر اور حکومت کی خلافِ اسلام اور نامعقول افغان پالیسی پر غم و غصے اور انتقام کے جذبات سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے علماء کرام کے منع کرنے کے باوجود اپنے دینی اخلاص اور علاقائی غیرت کی بنا پر یا اپنے پیارے عزیزوں کی لاشیں دیکھ کر ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور خودکش حملوں کا پاکستان کے اندر ہی وہ راستہ اختیار کر لیا ہے جو حد درجہ خطرناک ہے، حالانکہ علمائے کرام ایسے حملوں کو پہلے ہی حرام قرار دے چکے ہیں جن کا بے گناہ لوگ نشانہ بن جائیں ،لیکن مذکورہ بالا اشتعال انگیز اسباب کی بنا پر یہ بپھرے ہوئے نوجوان انتقام کی پیاس کو ایک دوسرے کے خون سے بجھا رہے ہیں۔
  • (ج) جب کسی علاقے میں افراتفری، بمباری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو سماج دشمن عناصر مثلاً چوروں، ڈاکوؤں کی بن آتی ہے، کبھی وہ اپنے مذموم عزائم کی خاطر غیر ملکی افواج سے مل جاتے ہیں، کبھی ملکی افواج سے اور کبھی ان نوجوانوں کے ساتھ آکر شریک ہو جاتے ہیں جن کو حالات نے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ملکی حالات کی خرابی میں وہاں کے با خبر علمائے کرام اور با اثر حضرات کے بیان کے مطابق ایسے عناصر کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
  • (د) امریکی افواج اپنی معاون نیٹو افواج نیز بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ گزشتہ سات سال سے افغانستان پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اب ان کے اپنے کمانڈروں اور سفارت کاروں نے ان کوششوں کی ناکامی کا مختلف بیانات کے ذریعے اقرار کر لیا ہے۔ ان غیر ملکی افواج نے کھلی آنکھوں نظر آنے والی شرمناک شکست کو فتح یا با عزت پسپائی میں بدلنے کے لیے آخری کوشش یہ کی ہے کہ انہوں نے اپنے ایجنٹوں کو اسلحہ، ڈالر اور افغانی اور پاکستانی کرنسی دے کر ہمارے قبائلی علاقوں میں گھسا دیا ہے اور یہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ جب کچھ ایجنٹ پکڑے گئے یا ان کی لاشیں ملیں تو ان میں سے کئی غیر پختون تھے جو اُن کے غیر مسلم ہونے کی واضح علامت ہے۔ یہ لوگ طالبان کے بھیس میں پاکستانی افواج سے لڑ رہے ہیں اور ان علاقوں میں افراتفری پیدا کرنے کے لیے داخل ہوئے ہیں۔ایسے ایجنٹوں کی تعداد اب روز بروز بڑھ رہی ہے حتیٰ کہ بعض قبائلی علاقوں کے علماء نے یہ بتایا ہے کہ اب ہمیں اپنے علاقوں میں وہ چہرے بکثرت نظر آ رہے ہیں جنہیں ہم نے ساری زندگی کبھی نہیں دیکھا۔یہ امریکی و بھارتی ایجنٹ اصل طالبان کو بدنام کرنے کے لیے طالبان کے روپ میں علاقے اور پاکستان کے شہروں میں بھی بم دھماکوں سے بربادی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔

اگر مذکورہ ساری صورتحال سامنے رکھی جائے تو صاف واضح ہو گا کہ آزاد قبائل کے محب وطن اور پر امن مسلمانوں کی بھاری اکثریت اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہے۔غیر ملکی افواج کی طرف سے بغیر پائلٹ طیاروں کی بمباری ہو، ان کے میزائلوں کی بارش ہو، یا پاکستانی مسلح فورسز کی کارروائیاں ہوں، ان کا زیادہ تر نشانہ بے گناہ مسلمان بن رہے ہیں۔حالات سے دل برداشتہ ہو کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوان جو کم تعداد میں ہیں وہ تو ویسے ہی اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ جرائم پیشہ طبقات اور غیر ملکی ایجنٹ اپنے اثر و رسوخ، سازشوں اور غیر ملکی پشت پناہی کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں اور سارا نزلہ عام مسلمان پر گر رہا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال کا ہمارے نزدیک اس کے سوا کوئی علاج نہیں ہے کہ:

  1. بمباری، میزائلوں کی بارش اور اندھا دھند فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
  2. ہر علاقے کے مقامی علماء، دین دار حضرات اور محب وطن عمائدین کو ساتھ ملا کر جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں کو پکڑا جائے اور ان کو سرعام عبرتناک سزائیں دی جائیں۔
  3. محب وطن اور پر اَمن باشندگانِ ملک اور ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کے جو جائز مطالبات ہیں انہیں فوری طور پر خلوص دل سے اس طرح پورا کیا جائے کہ لوگوں کو یہ اطمینان ہو کہ حکومت یہ کام محض وقت گزاری کے لیے نہیں کر رہی بلکہ پوری سنجیدگی سے یہاں انصاف مہیا کر کے امن و امان قائم کرنے میں مخلص ہے۔
  4. اندرون ملک ہر طرح کی خلافِ اسلام پالیسیوں اور اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔
  5. غیر ملکی طاقتوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا رویہ ختم کر کے محب وطن عوام کو ساتھ ملایا جائے اور ان کے تمام جائز مطالبات کو امکانی حد تک پور ا کیا جائے۔
  6. موجودہ خارجہ پالیسی اور خصوصاً امریکا کے ساتھ کیے جانے والے ’’تعاون بر خلاف دہشت گردی‘‘ کے پرفریب اور شرمناک معاہدے سے جان چھڑانے کا محتاط راستہ جلد از جلد نکالا جائے، جو درحقیقت اپنی ہی سلامتی کا راستہ ہے۔
  7. عدلیہ کو آزاد اور بحال کیا جائے کیونکہ فوری انصاف کی فراہمی اور آزاد عدلیہ کے بغیر امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔

آخر میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بدحالی کے موجودہ طوفان کے مختلف اسباب ہیں، لیکن چار بڑے سبب یہ ہیں:

  1. بد اَمنی:۔
    جسے ختم کیے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاشی استحکام کا تصور نہیں کیا جا سکتا، بد اَمنی کے سلسلے میں اوپر عرض کیا جا چکا ہے۔
  2. کرپشن:۔
    کرپشن کی یہ دیمک اس وقت ملک کے بالائی طبقات سے لے کر نچلے طبقات تک سرایت کر چکی ہے۔ امانت و دیانت اور سچائی کے ساتھ سیاسی عمل اور کسب حلال کا تصور کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان اسلامی اخلاق و اوصاف کا احیا ہر سطح پر ضروری ہے تاکہ کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے اور اس کے لیے ہر سطح پر قانون کی عملداری، دیانتدار انتظامیہ اور آزاد عدلیہ کے ذریعہ ہی ناگزیر ہے۔
  3. عیاشانہ طرز زندگی:۔
    پاکستان کے بالائی طبقات جس فضول خرچی اور پر تعیش زندگی کے عادی ہو گئے ہیں اس کے واقعات عوام کی زبانوں پر ہیں۔ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ مہلک طرز زندگی ختم کر کے ہر سطح پر سادگی کو فروغ دیا جائے اور ملک و قوم کے لیے جو پیسہ بچایا جا سکتا ہے اسے ہر قیمت پر بچایا جائے۔
  4. فحاشی اور عریانی:۔
    پاکستان جو اسلامی اقدار و تعلیمات کے تحفظ و فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا، اب یہاں کے معاشرے پر مغرب کی فحاشی اور بے حجابی سیلاب کی طرح حاوی ہوتی جا رہی ہے اور اس کی ظلمت و نحوست سے بھی ہماری معاشی بدحالی کا گہرا تعلق ہے۔ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو پامال کر کے مسلمان پنپ نہیں سکتے، اس لیے اس کا مؤثر تدارک ضروری ہے۔ مغربی دنیا کو سائنسی اور معاشرتی ترقی رقص و سرو د اور فحاشی سے نہیں ملی بلکہ محنت اور ہنرمندی سے حاصل ہوئی ہے۔

تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے یہ تجاویز دل سوزی اور اخلاص کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں، ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں۔ امید ہے کہ معزز ارکان پارلیمنٹ کی حیثیت سے آپ حضرات اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے اپنی ذاتی ، گروہی اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان پر غور فرمائیں گے۔ اللہ جل شانہ ہمیں اپنے محبوب وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سر حدوں کی حفاظت کی توفیق نصیب کرے، آمین و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔