وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۸ء

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں مولانا عطاء الرحمن اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں نکاح و طلاق کے قوانین میں جن ترامیم کی سفارش کی ہے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی تکمیل کے بعد کونسل میں ہی نظرثانی کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے عائلی قوانین میں بارہ نئی ترامیم کی سفارش کی ہے جن میں:

  1. عورت کی طرف سے طلاق کے مطالبہ پر خاوند کو ۹۰ دن کے اندر طلاق دینے کا پابند بنانے،
  2. اور رجسٹرڈ کرائے بغیر زبانی طلاق کو مؤثر تسلیم نہ کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

اس پر ملک بھر میں مختلف مکاتبِ فکر کے سر کردہ علماء کرام نے شدید احتجاج کیا ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات کو قرآن و سنت کے صریح احکام کے منافی قرار دیا ہے۔ جبکہ ۲۰ نومبر کو روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر سید ناصر زیدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کونسل کی یہ سفارشات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہیں اور ان پر نظر ثانی نہیں کی جائے گی۔ اخباری خبروں کے مطابق دستوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کی تعداد بیس تک ہو سکتی ہے جبکہ اس وقت اس کے صرف ۹ ارکان ہیں اور ملک کے مختلف مکاتبِ فکر کے سر کردہ علماء کرام میں سے کوئی معروف نام اس میں شامل نہیں ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودہ ہیئت کے بارے میں دینی حلقے اس سے قبل بھی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، خاص طور پر حدود آرڈیننس میں ’’تحفظ حقوق نسواں ایکٹ‘‘ کے نام سے کی جانے والی ترامیم کے حوالہ سے کونسل کی کارکردگی ملک کے دینی حلقوں میں متنازعہ سمجھی گئی ہے۔ اور اس حوالہ سے دینی جماعتوں کا اعتراض چلا آرہا ہے کہ کونسل کے موجودہ ارکان ملک کے عوام اور دینی حلقوں کی غالب اکثریت کے دینی رجحانات اور مسلمات کو نظرانداز کر کے دینی احکام کے بارے میں اپنی خود ساختہ تعبیرات و تشریحات کو ملک پر مسلط کرنے کے درپے ہیں اور اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کا دستوری فورم استعمال کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں یہ بھی بتایا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں جید علماء کرام کو شامل کر کے اسے مکمل کیا جائے گا اور اس کے بعد ان سفارشات کو نظر ثانی کے لیے دوبارہ کونسل میں لایا جائے گا۔ ہم وفاقی وزیر مذہبی امور کی اس وضاحت اور یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ ارکان اور چیئرمین سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ کسی مسئلہ پر سفارشات مرتب کرتے ہوئے ملک کے عام مسلمانوں اور دینی حلقوں کے مسلمات کو ملحوظ رکھیں اور اپنی ذاتی تعبیرات و تشریحات کے لیے کونسل کا فورم استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے بے اعتمادی اور خلفشار میں اضافہ ہوتا ہے اور دینی مسلمات سے انحراف کا راستہ کھلتا ہے۔