سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی، جبکہ اس کی جگہ جو عدالتی نظام رائج کیا گیا ہے اس سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر، بے پناہ اخراجات اور عدالتی پیچیدگیوں نے ان کی مشکلات میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے اس مطالبہ پر گزشتہ دو عشروں سے ان کے ساتھ آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے اور متعدد بار ان کے ساتھ نظام شریعت کے نفاذ کا وعدہ کرنے اور باقاعدہ معاہدات کے باوجود متعلقہ حکومتوں نے سوات کے عوام کے اس جائز مطالبہ کو پورا کرنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا، جس کی وجہ سے شدت اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا اور دو عشروں سے جاری اس پر اَمن تحریک پر بالآخر تشدد اور عسکریت نے غلبہ پا لیا اور اس کے نتیجہ میں اس خطے کا امن تباہ ہو کر رہ گیا۔

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جد و جہد میں تشدد اور عسکریت کے عنصر کی ہم نے کبھی حمایت نہیں کی اور ہر موقع پر اسے دینی اور ملکی مفاد کے منافی قرار دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہماری یہ دو ٹوک رائے ہمیشہ سے رہی ہے اور آج بھی ہے کہ پر اَمن تحریک کو تشدد اور عسکریت کے راستے پر ڈالنے میں سب سے زیادہ کردار نفاذ شریعت کے سلسلہ میں اس خطے کے عوام کے ساتھ حکومتوں کی مسلسل معاہدہ شکنی اور وعدہ خلافی کا ہے، جس نے عسکریت پسند حلقوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ عوام کے جذبات کو اپنی مرضی کے راستے پر ڈال سکیں۔ اور پھر اس صورتحال سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جن لابیوں اور حلقوں نے اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی اس کی ایک الگ دلخراش داستان ہے۔

بہرحال خرابیٔ بسیار کے بعد تحریک نفاذ شریعت کے سر براہ مولانا صوفی محمد اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر خان ہوتی کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے نتیجے میں یہ طے پایا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں غیر شرعی قوانین ختم کر دیے جائیں گے اور لوگوں کے مقدمات و تنازعات کے فیصلے قرآن و سنت اور اسلامی فقہ کے مطابق شرعی عدالتیں کریں گی۔ اس معاہدہ کے اعلان کے بعد مولانا صوفی محمد مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوات پہنچ گئے ہیں، اخباری اطلاعات کے مطابق تا دم تحریر (۲۲ فروری) مذاکرات جاری ہیں اور مولانا صوفی محمد تحریک طالبان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ریاست کے خلاف مزاحمت ترک کر کے پر اَمن جدوجہد کا راستہ اختیار کریں اور اس معاہدہ کو قبول کرتے ہوئے سوات میں امن کے مستقل قیام کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔

مولانا صوفی محمد کے بعض سیاسی افکار اور ان کی جد و جہد کے مختلف مراحل کے حوالہ سے ہمارے بھی تحفظات ہیں لیکن اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالتوں کے قیام، سوات میں سرکاری فورسز اور تحریک طالبان کے درمیان مسلح تصادم کو ختم کرانے اور نفاذ شریعت کے لیے عسکری تحریک کو پر اَمن جدوجہد میں تبدیل کرنے کے لیے اس مرحلہ میں جو کر دار ادا کیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور اس پر وہ ملک کے تمام دینی حلقوں اور محب وطن لوگوں کی طرف سے شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس معاہدہ کے نتیجے میں سوات اور ملحقہ علاقوں میں امن قائم ہو جاتا ہے اور لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شریعت اسلامیہ کے مطابق ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو یہ بات پورے ملک کے لیے نیک فال ہو گی اور اس کا کریڈٹ مولانا صوفی محمد اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے لیے تاریخ میں یقیناً محفوظ ہو جائے گا۔

البتہ اس پر بین الاقوامی سیکولر حلقوں اور ملک کے مختلف سیاسی گروپوں اور دانشوروں کی طرف سے جس بے چینی اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ افسوسناک ہے، اس لیے کہ پاکستان کے ایک خطہ میں اگر وہاں کے عوام کے مطالبہ اور خوشی کے مطابق ان کا ایک اہم مسئلہ مذاکرات اور معاہدہ کے ذریعے حل ہوتا نظر آرہا ہے تو جمہوریت اور عوام دوستی کے نعرے لگانے والوں کو اس پر تشویش نہیں بلکہ خوشی کا اظہار کرنا چاہیے اور خاص طور پر اس صورت میں کہ اس معاہدہ سے ایک پورا علاقہ بد اَمنی اور تصادم کے ماحول سے نکل کر امن کے دور میں داخل ہوتا کھائی دے رہا ہے۔ اس معاہدہ پر ظاہر کیے گئے تحفظات، جن میں سے اکثر کی بنیاد مفروضوں پر ہے، اس لیے بھی بے موقع اور بے محل ہیں کہ صوبہ سرحد کی حکومت اور مولانا صوفی محمد کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تقاضوں کے مطابق ہے ،بلکہ اس سے اس دستوری وعدہ کی تکمیل کی راہ ہموار ہو رہی ہے جو ملک کے عوام سے قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ اور غیر اسلامی قوانین کے منسوخی کے لیے دستور پاکستان میں واضح طور پر موجود ہے اور جس پر عملدرآمد کے لیے پورے ملک کے عوام کی طرف سے بار بار مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بہرحال ہم اس معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ فریقین کو اس کی تکمیل کی طرف مثبت پیشرفت کی توفیق دیں اور اسے نہ صرف مالاکنڈ ڈویژن کے لیے بلکہ پورے پاکستان میں نفاذ شریعت کا نقطۂ آغاز بنائیں، آمین یا رب العالمین۔