قومی ختم نبوت کانفرنس اور اس کے اہداف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۹ء

۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کے فرزند جانشین حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زیدمجدہم (فاضل نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ) نے کی اور مختلف مکاتِب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکنوں اور عوام نے شریک ہو کر کانفرنس کے موضوع اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ و طلبہ بھی مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کی سرکردگی میں بھرپور قافلہ کی صورت میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین اور مبلغین بالخصوص مجاہد ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب کئی ماہ سے سر گرم عمل تھے اور تمام دینی جماعتوں نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے تعاون کیا۔ قومی ختم نبوت کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں سیاسی حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ قادیانی گروہ اور ان کی سرپرست لابیوں کی درپردہ سر گرمیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور یہ خبریں مختلف ذرائع سے کئی بار قومی اور بین الاقوامی پریس کی زینت بن چکی ہیں کہ:

  • ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے عوام کے دیرینہ مطالبہ پر اور ایک زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو تاریخی فیصلہ کیا تھا،
  • اور پھر ۱۹۸۴ء میں اس دستوری فیصلہ کے قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے جو صدارتی آرڈیننس جاری ہوا تھا،

اسے ختم کرنے یا کم از کم غیر مؤثر بنانے کے لیے درپردہ لابنگ ہو رہی ہے اور عالمی سیکولر اور مقامی قوتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ کسی دستوری ترمیم کی آڑ میں ان قوانین کو بھی حدود آرڈیننس کی طرح تبدیل کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہو گیا تھا کہ نئی نسل کو قادیانیت کے دام ہمرنگ زمین کے فریب سے آگاہ کرنے اور آج کے لوگوں کو قادیانیوں کے اصل چہرہ سے واقف کرانے کے لیے عوامی سطح پر بیداری کی مہم شروع کی جائے۔ ان دونوں حوالوں سے عوامی بیداری پیدا کرنے اور قادیانی سر گرمیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور انٹرنیشنل ختم نبوت سالہا سال سے سر گرم عمل ہیں اور ان کے علاوہ دیگر دینی مکاتب فکر کی جماعتوں نے بھی گزشتہ دو سالوں میں ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے۔ جبکہ چند ماہ قبل متحدہ تحریک ختم نبوت موومنٹ کے عنوان سے ایک مشترکہ فورم بھی تشکیل دیا گیا ہے تاکہ حسب سابق قادیانیت کے محاذ پر مشترکہ جدوجہد کی روایت کو بھی زندہ کیا جائے۔

اس پس منظر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہونے والی قومی ختم نبوت کانفرنس تحریک ختم نبوت کی جد و جہد میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی کامیابی پر ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کو مبارک باد دیتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ کانفرنس کے مقاصد و اہداف میں کامیابی نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔