سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۹ء

گزشتہ دنوں ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا اور جامعہ دار العلوم کورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کی مختلف علمی نشستوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف دینی اداروں کی طرف سے سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے بڑے دینی مدارس اپنے مظلوم اور متاثر بھائیوں کی امداد اور بحالی کے لیے پوری دلچسپی کے ساتھ سر گرم عمل ہیں، مجھے بتایا گیا کہ:

  • جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کے تحت تخت بھائی میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے نام سے اور مردان میں حضرت سعد بن معاذؓ کے نام سے امدادی کیمپ قائم ہیں جن میں ایک ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کو ضروریات زندگی فراہم کی جا رہی ہیں اور سینکڑوں متاثرہ علماء کرام کو پانچ ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے امداد دی جا رہی ہے، جبکہ کیمپوں میں سکول اور مدرسہ کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
  • جامعۃ الرشید کراچی کی طرف سے کاکاخیل ویلفیئر ٹرسٹ کے عنوان سے متعدد امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور شیر گڑھ کے مرکز میں اٹھارہ سو خاندانوں کو ضروریات زندگی مہیا کی جا رہی ہیں، نیز میڈیکل کیمپ اور ایمبولینس بھی مہیا کی گئی ہے۔
  • خدوپل پر ایک دینی جماعت کی طرف سے اکیس ہزار کے لگ بھگ افراد کے لیے امدادی مرکز کام کر رہا ہے جس کی نگرانی مولانا مفتی ابولبابہ کر رہے ہیں۔
  • شیوہ اڈہ میں ایک مقامی سردار لیاقت خان کے قائم کردہ کیمپ میں بیس ہزار کے قریب افراد کی امداد کی جا رہی ہے۔
  • اس کے علاوہ جامعہ فاروقیہ کراچی اور جامعہ اشرف المدارس کراچی نے متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے مسلسل سر گرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور دیگر بہت سے دینی ادارے بھی ان خدمات میں مصروف ہیں۔
  • جبکہ حکومتی اداروں اور بعض این جی اوز کی امدادی سر گرمیاں اخبارات کے ذریعے سامنے آرہی ہیں۔

یہ سب کچھ بجا ہے اور متاثرین کا حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے، البتہ اس حوالہ سے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ بے گھر ہونے والے افراد کی امداد اور ان سے تعاون بہت بڑا عمل خیر ہے لیکن کیا ان کے بے گھر ہو جانے کے اسباب کا جائزہ لینا اور اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟ اس موقع پر ہمیں قرآن کریم کا وہ ارشاد اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے جس میں بنی اسرائیل کے ایک میثاق کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کا خون نہیں بہائیں گے اور ایک دوسرے کو گھروں سے نہیں نکالیں گے اور اگر ان میں سے کوئی قیدی بن گیا تو فدیہ دے کر اسے چھڑا لیں گے۔ قرآن کریم نے اس میثاق کے حوالہ سے بنی اسرائیل سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تمہیں اس عہد کا آخری حصہ تو یاد رہا کہ ایک دوسرے کے قیدی ہو جانے پر اسے فدیہ دے کر چھڑوا لیتے ہو اور اس کے لیے ایک دوسرے کی مالی امداد بھی کرتے ہو مگر تمہیں عہد کے پہلے دو تقاضے کیوں یاد نہیں رہے جن میں تمہیں ایک دوسرے کا خون بہانے اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنے سے منع کیا گیا ہے؟ (سورۃ البقرۃ آیت ۸۴ ۔۸۵)۔ پھر قرآن کریم نے اس عمل کو کتاب اللہ کے بعض حصوں کو ماننے اور بعض کا انکار کر دینے سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو دنیا کی زندگی میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ہماری موجودہ صورتحال بھی کم و بیش اسی طرح کی ہے کہ ہمیں قرآن کریم اور سنت رسولؐ کے وہ احکام تو یاد رہتے ہیں جو ہماری کسی وقتی ضرورت اور مشکل کا حل بتاتے ہیں لیکن قرآن و سنت کے جن احکام و فرامین کا تعلق ہمارے نظام کی تبدیلی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح و انقلاب سے ہے وہ ہم نے یکسر نظر انداز کر رکھے ہیں اور اسی وجہ سے ہم موجودہ بحران اور ابتلا کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سب کو قومی سطح پر اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور جماعتوں کو بھی اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا چاہیے، اس لیے کہ قومی ابتلا و آزمائش کے اصل اسباب و عوامل سے خلاصی حاصل کیے بغیر اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔