امریکہ میں مسلمانوں کی سر گرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۹ء

میں اٹھارہ جولائی سے امریکہ میں ہوں اور تین ستمبر تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ امتحان اور جلسہ دستار بندی کے بعد امریکہ آجاتا ہوں اور کم و بیش ایک ’’چلہ‘‘ یہاں گزر جاتا ہے، مختلف مقامات پر دینی مدارس اور مساجد میں حاضری ہوتی ہے اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ اس سال اب تک نیویارک کے علاقوں کوئنز، لانگ آئی لینڈ اور برونکس کے علاوہ ایڈیسن (نیو جرسی)، بالٹی مور (میری لینڈ)، اسپرنگ فیلڈ (ورجینیا)، ہیوسٹن (ٹیکساس)، ڈیٹرائٹ (مشی گن) اور پراویڈنس (روڈ آئی لینڈ) میں حاضری ہوئی ہے، جبکہ واپسی سے قبل برمنگھم (الاباما) اور دیگر مقامات پر جانے کا پروگرام ہے۔

اس وقت ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال کے حجرے میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں، یہاں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ہمارے پرانے دوست مولانا قاری محمد الیاس صاحب مہتمم و بانی جامعہ مدینۃ العلم کئی برسوں سے مقیم ہیں، پہلے وہ بیس بائیس سال تک رمضان المبارک میں قرآن کریم سنانے کے لیے یہاں آتے رہے پھر دوستوں کے اصرار پر یہیں ٹھہر گئے۔ مسجد بلال میں حفظ قرآن کریم کا مدرسہ ہے جہاں پچاس کے لگ بھگ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مسجد ابھی تک ایک مکان میں ہے جس کے ساتھ کم و بیش ساڑھے چار ایکڑ جگہ خریدی گئی ہے جس میں بڑی مسجد اور مدرسہ تعمیر کرنے کا پروگرام ہے اور درس نظامی کا نصاب شروع کرنے کا بھی عزم رکھتے ہیں، مسجد و مدرسہ کی تعمیر کے لیے نقشہ منظوری کے آخری مراحل میں ہیں۔ مجھے گزشتہ برس بھی یہاں حاضری کا موقع ملا تھا، جمعہ کے لیے حاضری زیادہ ہونے کی وجہ سے نئی مسجد کی تعمیر تک ایک جم خانہ کے ہال میں جمعہ کی نماز پڑھی جاتی ہے، ۱۴ اگست کا جمعہ میں نے جم خانہ کے اسی ہال میں پڑھا ہے اور جمعہ کے اجتماع سے خطاب بھی کیا ہے۔

امریکہ میں مسلمانوں کی آمد بڑھ رہی ہے اور غیر مسلموں کے مسلمان ہونے کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل یہاں کے ایک تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ امریکہ کی آبادی میں مسلمانوں کا تین اطراف سے اضافہ ہو رہا ہے (۱) اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے (۲) باہر سے آنے والے لوگوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہوتی ہے (۳) اور مسلمانوں کی شرح پیدائش بھی زیادہ ہے، اس لیے بعض لوگ خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ کچھ عرصہ گزرنے پر مسلمانوں کی آبادی یہاں کی آبادی سے بڑھ سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مذہبی سر گرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک جمعہ کی نمازوں اور عیدین وغیرہ کے لیے بلکہ روزانہ بچوں کی دینی تعلیم کے لیے بھی گرجاگھروں کے ہال کرائے پر لیے جاتے تھے، یا کرائے کے مکان لے کر مسجد و مدرسہ کا نظام چلایا جاتا تھا جو اَب بھی جاری ہے، لیکن اس کے ساتھ بڑی بڑی زمینیں خرید کر وسیع بلڈنگیں تعمیر کرنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

اس سفر کے دوران میں نے کم و بیش نصف درجن کے لگ بھگ ایسے مراکز دیکھے ہیں جن کے لیے خریدی گئی زمینوں کی مقدار ایکڑوں میں ہے۔ ہیوسٹن میں دنیا کے سب سے بڑے خلائی تحقیقاتی مرکز (NASA) کے مین گیٹ کے قریب اب سے تقریباً تیرہ چودہ برس قبل گوجرانوالہ کے قاری عبید الرحمن مرحوم نے ایک مکان کرائے پر لے کر مصلّی بنایا تھا جو یہاں کے مسلمانوں میں ’’ناسا مصلّٰی‘‘ کے نام سے معروف ہے، یہاں پانچ وقت نماز با جماعت کے علاوہ انہوں نے قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا۔قاری صاحب کا انتقال ہو گیا تو ان کے بعد یہ مصلّی مصر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین شیخ ولید نے سنبھال لیا جن سے گزشتہ سال میری اسی مصلّی میں ملاقات ہوئی تھی۔اب انہوں نے اس کے قریب اڑھائی ایکڑ زمین خرید کر بہت خوبصورت اور وسیع مسجد تعمیر کر لی ہے جس کے ساتھ اسلامک سنٹر بھی ہے۔ مسجد کے مین ہال میں تقریباً ایک ہزار مسلمان نماز ادا کر سکیں گے۔ چند روز قبل میں نے وہ مرکز دیکھا ہے، اس میں ترکی سے منگوائے گئے بہت خوبصورت کارپٹ بچھائے جا رہے تھے، رمضان المبارک سے قبل ناسا مصلّی اس نئی عمارت میں منتقل ہو جائے گا جسے ’’کلئیر لیک اسلامک سنٹر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی مذہبی دلچسپیوں، سر گرمیوں اور مساجد میں آبادی میں مسلسل پیشرفت کا یہ رجحان بہت حوصلہ افزا اور خوش کن ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ رفتہ رفتہ مسلمان امریکی آبادی کے ایک بڑے حصہ کی حیثیت اختیار کرتے جائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

گزشتہ ہفتہ ہیوسٹن میں اپنے پانچ روزہ قیام کے دوران متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کی جن میں سے ایک کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہوں گا۔اس علاقے میں اسماعیلیوں اور آغاخانیوں کی بڑی تعداد میں آبادی ہے جن میں ہمارے بعض مسلمان بھائی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں، مدرسہ اسلامیہ کے بانی و منتظم مولانا حافظ محمد اقبال کا تعلق چشتیاں سے ہے، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فاضل اور حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد ہیں، ہیوسٹن میں دینی اور مسلکی سرگرمیوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں، اور ان کے علاوہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک باذوق بزرگ جناب سید مرتضٰی شاہ صاحب اس کام میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ اتوار کو ہیوسٹن کے ایک ہوٹل کے ہال میں آغاخانیت سے تائب ہونے والے مسلمانوں کا اجتماع تھا جس میں سینکڑوں مرد اور عورتیں شریک ہوئیں، ظہر کی نماز با جماعت ادا کی گئی، دوپہر کا کھانا اکٹھے کھایا اور اس موقع پر مولانا حافظ محمد اقبال اور راقم الحروف کے علاوہ ایک نو مسلم نوجوان عالم دین مفتی عبد الواحد نے بھی خطاب کیا۔مفتی عبد الواحد کا تعلق ایک سکھ خاندان سے ہے، ضلع سرگودھا کے قصبہ دودہ میں کچھ سکھ خاندان تقسیم وطن کے بعد یہیں رہ گئے تھے ان میں سے ایک نوجوان نے اب سے چالیس برس قبل اسلام قبول کیا، درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور افتاء کا کورس کر کے مفتی محمد عمر فاروق کے نام سے متعارف ہوئے، بھاگٹانوالہ میں جامعہ نعمانیہ کے نام سے دینی مدرسہ قائم کیا، وہاں جانے کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے مگر کچھ عرصہ بعد مفتی محمد عمر فاروق ٹریفک کے ایک حادثہ میں شہید ہو گئے۔ اسی خاندان کے ایک اور نوجوان نے جس کا پہلا نام سندرداس تھا، اب سے دو عشرے قبل اسلام قبول کیا، عبد الواحد نام رکھا، درس نظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں دورۂ حدیث اور دارالعلوم کراچی میں افتاء کا کورس کیا، جبکہ کراچی یونیورسٹی میں ’’امام طحاوی کے شیوخ‘‘ کے موضوع پر علمی و تحقیقی کام کر کے پی ایچ ڈی کے لیے انہوں نے ایک مبسوط مقالہ جمع کرا دیا ہے، یہ مقالہ میں نے دیکھا ہے اور اس نو مسلم نوجوان کے علمی ذوق اور تحقیقی کام پر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ مفتی عبد الواحد کی شادی کراچی کے جس خاندان میں ہوئی وہ امریکی شہریت رکھتا ہے اور سسرال والوں کے اصرار پر وہ امریکہ آگئے ہیں جہاں وہ علمی اور تدریسی خدمات جاری رکھنے کے لیے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں ہیں، سابق اسماعیلیوں کے مذکورہ اجتماع میں انہوں نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ اور اس کے اسباب بیان کیے جو بڑی دلچسپی کے ساتھ سنے گئے۔

پاکستان کے بہت سے احباب کی طرح یہاں کے بعض دوست بھی اس مغالطہ میں رہتے ہیں کہ میں شاید چندہ کے لیے آتا ہوں لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ میں کسی اجتماع میں اپیل نہیں کرتا اور نہ ہی شخصی طور پر کسی سے کہتا ہوں بلکہ میرے بیگ میں انہیں کوئی رسید بک بھی نظر نہیں آتی تو تعجب اور حیرت کا شکار ہو جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک دوست نے انتہائی حیرت کے ساتھ مجھ سے اس سلسلہ میں بات کی تو میں نے عرض کیا کہ بھائی یہ کام تو ہم گوجرانوالہ اور گکھڑ میں بھی نہیں کرتے کہ یہ طریق کار ہمارے خاندانی مزاج اور طریق کار کے خلاف ہے، البتہ جو احباب ہمارے کام اور مزاج سے واقف ہیں وہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ کر دیتے ہیں اور ہمارے خیال میں اسی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت بھی ہوتی ہے۔