اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مغربی دنیا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۹ء

ہفت روزہ اردو ٹائمز نیویارک کے ۱۳ اگست ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈر لیبرمین نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے امن مذاکرات کے لیے فلسطینی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدہ محض ایک تخیل ہے اور اس سلسلہ میں اسرائیلی پالیسی حقائق پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ البتہ امن مذاکرات سے فلسطین کی اقتصادی اور سیکیورٹی صورت میں بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسی اخبار میں شائع شدہ ایک اور خبر کے مطابق اسرائیل کے وزیر داخلہ ایلائی ہیشائی نے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کے بارے میں امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اس میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں یہودی آباد کاری میں توسیع سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اسرائیل کی یہ ہٹ دھرمی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب سے نسل پرستی کی بنیاد پر اس ناجائز ریاست نے جنم لیا ہے اس کی ہٹ دھرمی نہ صرف قائم ہے بلکہ پہلے سے بڑھتی جا رہی ہے۔ اسرائیل اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں، عالمی رائے عامہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات کو مسترد کرتا آرہا ہے اور اس کی اس ہٹ دھرمی نے مشرق وسطٰی میں امن کے قیام اور فلسطینیوں کی آزاد ریاست قائم ہونے میں مسلسل رکاوٹ کھڑی کر رکھی ہے۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی ادارے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور اسرائیل کو انہوں نے عملی طور پر جارحیت اور قتل عام کے لیے گرین سگنل دے رکھا ہے جبکہ بعض مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اسرائیل کی مسلسل اور نا جائز پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ نے مشرق بعید میں ایک نئی مسیحی ریاست’’ مشرقی تیمور‘‘ کے قیام میں جس قدر پھرتی اور دلچسپی کا اظہار کیا تھا، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اس کا چوتھا حصہ بھی عمل میں لے آئے تو فلسطینیوں کو ایک آزاد اور خود مختار قومی ریاست کی منزل حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر اقوام متحدہ سنجیدہ ہو تو کشمیری عوام کو حق خودارادیت کی وہ منزل مل سکتی ہے جو خود اقوام متحدہ نے ان کے لیے طے کر رکھی ہے۔ لیکن مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے عالم اسلام کے بارے میں جانبدارانہ پالیسی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور عالم اسلام میں امریکہ مخالف جذبات کے فروغ میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے جسے خود امریکی حکمران اور دانشور حلقے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔

ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ خود عالم اسلام کی قیادت اور مسلم ممالک کے حکمران بھی اس صورتحال کی تبدیلی میں کوئی سنجیدہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ آزاد فلسطینی ریاست کے لیے اقوام متحدہ اور مغربی ممالک سے کوئی توقع وابستہ کرنا ان حالات میں خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے اس کے لیے جلد یا بدیر عالم اسلام کی قیادت کو ہی کوئی ٹھوس اور دو ٹوک لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔

درجہ بندی: