این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۰ء

عدالت عظمیٰ نے ’’قومی مفاہمت آرڈیننس‘‘ (NRO) کو دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر ختم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا ہے اس پر ہر محبت وطن شہری خوش ہے اور اب کسی حد تک یہ توقع نظر آنے لگی ہے کہ قومی سیاست میں کرپشن، بددیانتی اور ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے افسوسناک رجحانات میں کمی آئے گی اور ملک میں صحت مند سیاست کا آغاز ہو سکے گا۔

بد قسمتی سے ہمارے ہاں قومی سیاست کرپشن اور جرائم پر پردہ پوشی کا عنوان بن کر رہ گئی ہے اور سیاست میں مؤثر کردار کا مطلب قانون سے بالاتر اور دیانت و اخلاق سے مستثنٰی ہونا سمجھا جانے لگا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ تم سے پہلی قومیں اس لیے ہلاک ہو گئی تھیں کہ ان میں کوئی غریب شخص جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی لیکن کوئی بااثر اور امیر شخص جرم کا ارتکاب کرتا تو اسے سزا سے مستثنیٰ کر دیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں بھی کم و بیش اسی قسم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اپنے جرم کی سزا صرف وہ شخص پاتا ہے جس کی اپروچ نہیں ہے اور جس کے پاس اپنے حق میں فیصلہ لینے کے وسائل موجود نہیں ہیں، ورنہ کھلم کھلا جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے اور مجرموں تک قانون کی رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

قومی مفاہمت آرڈیننس (این آر او) ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کا سمجھوتہ تھا جس سے مختلف حلقوں اور طبقات کے ہزاروں افراد نے فائدہ اٹھانا چاہا مگر عدالت عظمیٰ نے اس آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دے کر اس کا راستہ روک دیا جس پر عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور تمام جج صاحبان پوری قوم کی طرف سے مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ یہ فیصلہ اگرچہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے لیکن اس سے ابھی صرف اس رجحان کے اظہار کا آغاز ہوا ہے کہ جرائم کی پردہ پوشی اور وی آئی پیز کے جرائم کو قانون کی زد سے باہر رکھنے کی روش قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور اس سلسلہ میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ملک کی اجتماعی رائے عامہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن اس ’’گند‘‘ کو صاف کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، بڑے حوصلے اور جرأت کے ساتھ محنت کرنے کی ضرورت ہے اور قومی زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر سطح پر انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس محترم جناب افتخار محمد چوہدری کو یاد ہو گا کہ چند ماہ قبل خود انہوں نے ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرپشن ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے اور ہر ادارے میں سرایت کیے ہوئے ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے گڈ گورننس کی ضرورت ہے جس کے لیے ہمیں حضرت عمرؓ کو فالو کرنا ہو گا اور ان کے طرز حکومت سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف کرپشن اور بد دیانتی نہیں بلکہ ہمارے ہر قومی مسئلہ کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے نظام حکومت کا قبلہ درست کریں اور دستور پاکستان کے مطابق قرآن و سنت سے راہنمائی اور خلفاء راشدین کے نقش قدم پر چلنے کا اہتمام کریں۔ اگر عدالت عظمیٰ جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کی راہنمائی میں دستور کی بالا دستی اور دستور کی روشنی میں ملک کے نظام حکومت کا رخ تبدیل کر کے اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدینؓ کی تعلیمات و ہدایات کے دائرے میں لا سکے تو یہ اس کا ملک و قوم پر بہت بڑا احسان ہو گا اور یہی دراصل ہمارے تمام مسائل کا فطری حل ہے۔