پلاٹوں کی سیاست: صوبائی حکومت اور حزب اختلاف کا ایک مستحسن فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
صوبائی حکومت اور حزب اختلاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صوبائی اسمبلی میں شیخ علاء الدین ایم پی اے کی طرف سے پیش کی جانے والے اس تجویز کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے مسترد کر دیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی طرح صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی لاہور میں حکومت کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں۔ اس پر وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز میں پلاٹوں کی لوٹ مار ہو رہی ہے تو اسے روکنا چاہیے، پنجاب میں ہمارے اراکین پلاٹ نہیں لینا چاہتے، نہ ہی ہم پلاٹوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت ارکان کو سرکاری زمین کا ایک انچ بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ قائد حزب اختلاف چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ ہم کوئی پلاٹ نہیں لینا چاہتے، اگر پلاٹ دیے بھی گئے تو ہم واپس کر دیں گے، پلاٹوں کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے۔

ہمارے ہاں پلاٹوں اور دیگر طرح طرح کی مراعات کے ذریعے ارکان اسمبلی کو نوازنے کا جو سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے اور ارکان اسمبلی کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی غرض سے حکومتی مناصب، پلاٹوں اور مالی مراعات کا جس بے دردی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے اس ماحول میں یہ خبر انتہائی خوش کن اور حوصلہ افزا ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے سنجیدہ حلقوں میں اس کا احساس بیدار ہو رہا ہے جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ پلاٹوں اور مالی مراعات کے ساتھ وزارتوں کی کثرت پارلیمانی سیکرٹری شپ اور مختلف حوالوں سے مشیروں کی بھرمار بھی غلط بخشی اور سیاسی رشوت ہی کی صورتیں ہیں۔ ان پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ وزیروں، مشیروں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کی یہ فوج ظفر موج قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر ہمارے حکمران اپنی تعداد اور مراعات دونوں میں جائز حدود کا لحاظ کرنا شروع کر دیں تو غریب عوام کو اس سے بہت فائدہ ہو گا اور اس سے سیاسی پارٹیوں کی عوامی حمایت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ایسا کرنے والوں کو مظلوم اور غریب عوام کی مخلصانہ دعاؤں میں سے بھی بڑا حصہ ملے گا۔