فیصل آباد میں فرقہ وارانہ دہشت گردی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۰ء

اس سال بارہ ربیع الاول کو فیصل آباد میں جس افسوسناک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس نے ملک بھر کے سنجیدہ مذہبی اور قومی حلقوں کو پریشان اور مضطرب کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی صاحب شعور اس کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟

واقعات کی مبینہ ترتیب کے مطابق ربیع الاول کے ابتدائی دنوں میں فیصل آباد میں بعض شر پسندوں نے امیر المؤمنین حضرت معاویہؓ کے پتلے جلا کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا جس پر حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے فرزند و جانشین مولانا زاہد محمود قاسمی اور ان کے رفقاء نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے مگر پولیس ٹال مٹول کرتی رہی۔ مولانا زاہد محمود قاسمی نے ۱۱ ربیع الاول کو جمعہ کے اجتماع میں شدید احتجاج کے بعد تھانہ کے سامنے مظاہرہ کیا اور اس مظاہرے پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ لیکن ابھی اس مقدمہ پر کسی عملی کاروائی کی نوبت نہ آئی تھی کہ بارہ ربیع الاول کو یہ المناک سانحہ پیش آگیا کہ عید میلاد النبیؐ کے نام پر نکلنے والے جلوس نے حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی مسجد کے سامنے رک کر پہلے اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعے صورتحال کو خراب کیا پھر باہمی تصادم تک نوبت پہنچی جس پر طرفین سے فائرنگ ہوئی، ہجوم نے مسجد کا گھیراؤ کر لیا اور پولیس کی موجودگی میں جامعہ قاسمیہ اور مولانا قاسمی ؒ کے صاحبزادوں کے گھروں پر حملہ کر کے جامعہ قاسمیہ میں توڑ پھوڑ کی اور گھروں کو آگ لگا دی۔ گھر کی خواتین اور بچوں نے پڑوسیوں کے گھروں میں پناہ لی اور مشتعل شر پسندوں نے مولانا خالد محمود قاسمی اور مولانا زاہد محمود قاسمی کے گھروں میں گھس کر لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آتشزنی کا بازار گرم کر دیا اور مبینہ طور پر مولانا قاسمی ؒ کی قبر کی بے حرمتی بھی کی گئی۔

راقم الحروف نے پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبد الرزاق اور مولانا حافظ محمد ریاض چشتی کے ہمراہ خود یہ مکانات جلے ہوئے دیکھے ہیں۔ اس افسوسناک منظر کو دیکھ کر پہلا تاثر یہی قائم ہوتا ہے کہ یہ کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ پلاننگ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا ہے۔ اس المناک سانحہ پر ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے اور فیصل آباد میں اجتماعی طور پر عوامی مظاہرہ کی صورت میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے ساتھ ساتھ ان کے پشت پناہوں کو بے نقاب کیا جائے۔

فیصل آباد کے مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے ڈانڈے ۱۱ ربیع الاول کو تھانے کے سامنے مولانا زاہد محمود قاسمی کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے سے ملتے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک مقامی ایم این اے جو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے ہیں ان کے ذاتی عملہ اور حلقہ کے افراد بھی اس توڑ پھوڑ اور آتشزنی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ فیصل آباد کے عوامی اور مذہبی حلقوں کے یہ تاثرات اس امر کا تقاضہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی ہائی کورٹ کی سطح پر کھلی انکوائری کرائی جائے اور مجرموں اور ان کے پشت پناہوں کو قرار واقعی سزا دے کر آئندہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جائے۔