مولانا شمس الحق مشتاقؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۰ء

شہدائے کراچی کی تازہ کھیپ پر تعزیت اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے میں اپنے ایک اور ساتھی کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ اچھڑیاں ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے مولانا شمس الحق مشتاق ہیں جن کا گزشتہ شب انتقال ہو گیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ان کی زندگی کا بھی ایک متحرک دور کراچی میں گزرا ہے اور وہ کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں جمعیت علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد محترم مولانا محمد معین اچھڑیاں کے خطیب تھے اور جمعیت علماء اسلام کے متحرک راہنماؤں میں سے تھے۔ مولانا شمس الحق مشتاقؒ کے ایک بھائی مولانا قاری اسرار الحقؒ بھی گزشتہ عید الفطر کو اچھڑیاں میں نماز عید کا خطبہ دیتے ہوئے وفات پا گئے تھے۔ مولانا شمس الحق مشتاقؒ نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیم پائی اور کراچی کو اپنی جماعتی اور دینی سرگرمیوں کا جولانگاہ بنا لیا، اچھے مقرر اور انتھک کار کن تھے، چند سال قبل برطانیہ چلے گئے جہاں وہ برمنگھم کی ایک مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے تھے، جماعتی سرگرمیاں وہاں بھی ان کے ساتھ ساتھ رہیں، جمعیت علماء برطانیہ میں متحرک رہے اور اس میں اپنا ایک گروپ تشکیل دے کر اس کی امارت کے منصب پر فائز تھے۔

گزشتہ سال میری برطانیہ حاضری کے موقع پر انہوں نے اپنے سفر فلسطین کی تفصیلی روداد سنائی کہ جب غزہ کا محاصرہ کیا گیا اور اسرائیل نے اس مظلوم شہر کا رابطہ پوری دنیا سے منقطع کر دیا تو برطانیہ سے علماء کرام اور سماجی کارکنوں کا ایک بھرپور قافلہ امدادی سامان لے کر بائی روڈ فلسطین پہنچا اور غزہ میں محصور فلسطینی بھائیوں کی امداد کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس قافلہ کے راہنماؤں میں مولانا شمس الحق مشتاقؒ تھے، انہوں نے اپنے سفر کی خاصی تفصیلات بیان کیں جن کے میں نے نوٹس بھی لیے، خیال تھا کہ یہ ساری روداد اپنے قارئین کو بتاؤں گا مگر وہ نوٹس کہیں ادھر ادھر ہو گئے اور میرے ذہن سے بھی بات نکل گئی۔

مولانا مشتاق کچھ دنوں سے بیمار تھے، چند دن کراچی میں علاج ہوتا رہا پھر اسلام آباد آگئے اور گزشتہ شب ان کا انتقال ہو گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔