ختم نبوت محاذ کی تازہ صورتحال اور دینی حلقوں کی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۰ء

لاہور میں قادیانیوں کے دو مذہبی مراکز پر مسلح حملوں کے بعد جس طرح قومی اخبارات اور میڈیا کے دیگر ذرائع میں قادیانیوں کے کفر و اسلام اور ایک اسلامی ریاست میں ان کے معاشرتی اسٹیٹس کے مسئلہ کو ازسرنو زیر بحث لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ ملک بھر کے دینی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

  • جہاں تک قادیانی مراکز پر مسلح حملوں اور ان کے نتیجے میں ایک سو کے لگ بھگ شہریوں کے جاں بحق ہونے کا مسئلہ ہے ملک کے تمام سیاسی و دینی حلقوں نے اس کی مذمت کی ہے، اس پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے اور تحریک ختم نبوت کے راہنماؤں نے اس امر کا واضح اعلان کیا ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے جاری تحریک تحفظ ختم نبوت میں کبھی تشدد اور مسلح حملوں کو ذریعہ نہیں بنایا گیا۔ یہ تحریک ہمیشہ پر امن اور قانون و دستور کے دائرے میں رہی ہے اور اب بھی تحریک ختم نبوت کے قائدین اس حوالہ سے تشدد اور قتل و غارت کو صحیح نہیں سمجھتے۔
  • جبکہ ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں ’’متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی‘‘ کی دعوت پر ابن امیر شریعت پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت تمام مکاتب فکر کے سر کردہ علماء کرام کے بھر پور مشترکہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں کی سپریم کورٹ کے جج کے ذریعے اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کروائی جائے اور اس کے اصل محرکات و عوامل کو بے نقاب کیا جائے۔

مگر اس کی آڑ میں قادیانی مسئلہ کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کی مہم بھی اسی طرح افسوسناک ہے اور اسے کسی صورت میں گوارا نہیں کیا جا سکتا۔

  1. قادیانیوں کے بارے میں یہ فیصلہ امتِ مسلمہ نے اس فتنہ کے ظہور کے ساتھ ہی کر دیا تھا کہ یہ گروہ امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی پر کسی بھی حوالہ سے ایمان لانے والے تمام لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس متفقہ فیصلے کو پوری دنیائے اسلام کے تمام دینی مکاتب فکر، علمی مراکز اور مذہبی حلقوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور عالم اسلام کے کسی بھی حصے میں کوئی دینی حلقہ مرکز ایسا موجود نہیں ہے جو امت مسلمہ کے اس اجماعی فیصلے میں شریک نہ ہو۔ پھر پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں متفقہ طور پر امت کے اس اجماعی فیصلے کو دستور پاکستان کا حصہ بنا کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا اور ملک کی عدالت عظمٰی نے بھی متعدد مواقع پر اس فیصلے کو درست قرار دیا۔اس دور میں کسی اور مسئلہ پر امتِ مسلمہ میں اس قدر مکمل اور ہمہ گیر اتفاق رائے شاید ہی پایا جاتا ہو لیکن قادیانی گروہ ان تمام فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہے۔ اور مغربی حکومتیں اور بین الاقوامی سیکولر حلقے عالم اسلام اور پاکستانی قوم کے جذبات اور فیصلوں کے علی الرغم قادیانیوں کی ناجائز ضد اور ہٹ دھرمی کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انہی کی شہہ پر قادیانی گروہ اور اس کے بعض ہمنوا حلقے قادیانیوں کے کفر و اسلام کو پھر سے زیر بحث لانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز اور اخباری دانشور اس سلسلہ میں متحرک نظر آتے ہیں۔
  2. اسی طرح قادیانیوں کے معاشرتی اسٹیٹس کا مسئلہ بھی پاکستان کی قومی اسمبلی سے ۱۹۷۴ء میں طے کر دیا تھا کہ انہیں ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ملک میں رہنے کا حق ہے اور دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی طرح انہیں بھی جان و مال کے تحفظ سمیت تمام جائز شہری حقوق حاصل ہوں گے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے کر ملک میں ان کے لیے معروف شہری حقوق کے ساتھ رہنے کا حق دینے کی یہ تجویز مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال ؒ نے دی تھی جسے قبول کر کے امت مسلمہ کے دینی حلقوں نے اپنا اجتماعی موقف قرار دے دیا اور قومی اسمبلی نے اسی کو دستوری فیصلے کا درجہ دیا۔ مگر آج قادیانیوں کے کفر و اسلام کی طرح ان کے معاشرتی اسٹیٹس کے طے شدہ مسئلہ کو بھی ری اوپن کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور اس طرح قادیانیوں کے بارے میں امت مسلمہ کے متفقہ موقف کو سبوتاژ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ دو باتیں اور شامل کر لی جائیں تو مسئلہ کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

  • ایک یہ کہ روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۱ مئی ۲۰۱۰ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد میں پاکستان میں تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور قادیانیوں کو بطور خاص مظلوم قرار دیتے ہوئے اس قانون میں ترامیم پر زور دیا ہے۔ جبکہ اس موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر کام کر رہے ہیں اور سالِ رواں کے آخر تک اس قانون کو تبدیل کر دیا جائے گا۔
  • اور دوسری بات یہ کہ پاکستان میں قادیانیوں کی کھلم کھلا حمایت اور دستور کی اسلامی دفعات کی مخالفت کرنے والی معروف خاتون وکیل عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کا خدانخواستہ صدر بن گئیں تو قانون دانوں کا یہ ملک کا سب سے بڑا فورم مذکورہ بالا مقاصد کے لیے ایک مورچے کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور قادیانی وکلاء کے اس بڑے فورم کو اپنے مذموم مقاصد کا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ امور ملک کے تمام مکاتب فکر کی جماعتوں اور حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور دینی جماعتوں کی قیادتوں بالخصوص تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل پر سنجیدہ توجہ دیتے ہوئے باہمی مشاورت کے ساتھ قوم کی راہنمائی کریں اور ان شدید خطرات کے سدباب کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کریں۔