طلاق، ایک متعدی بیماری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۰ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۷ جولائی ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق طبی اور نفسیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا میں طلاق ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے جس کی زد میں دوست احباب، خاندان اور اپنے پرائے سب آرہے ہیں۔ اس سماجی بیماری کی طرف اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس سے ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کے بعض خطوں میں طلاق کی شرح ۷۵ فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ ڈیلی میل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق جس تیزی سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ رپورٹ میں ۱۹۹۰ء کی دہائی سے اب تک درجنوں معروف جوڑوں میں علیحدگی اور دوبارہ شادیوں پر حیرت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ لکھا گیا ہے کہ وہ کون سی وجہ ہے جس سے لوگوں کے دل ایک دوسرے سے بھر جاتے ہیں۔ غربت، عدم یکسانیت، غصہ، سماجی فرق، عادات کا فرق اور دیگر درجنوں وجوہات میں سے کوئی بھی حتمی قرار نہیں دی جا سکتی۔ماہرین کے مطابق طلاق کے ہر کیس میں مختلف وجوہات سامنے آرہی ہیں، بعض جگہ تو طلاق صرف خراٹوں کی وجہ سے ہوجاتی ہے۔

امریکی ماہرین کی یہ رپورٹ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ پر مختلف عالمی اداروں کی طرف سے اس قسم کی رپورٹیں وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب نکاح اور شادی کو مذہبی تعلیمات اور روحانی مقاصد سے الگ کر کے محض ایک سوشل کنٹریکٹ (سماجی معاہدہ) قرار دیا جائے گا اور خاندان میں کسی ایک فرد کی سنیارٹی کو تسلیم کرنے کی بجائے میاں بیوی دونوں کو علیحدگی کا مساوی حق دیا جائے گا تو اس کے نتائج یہی ہوں گے۔ صرف خاندان کی بات نہیں، کسی بھی ادارے میں دو برابر کے اختیارات کے مینیجر بٹھا دیے جائیں تو اس ادارے کا یہی حشر ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے فطری نظام میں:

  1. نکاح کو ایک مذہبی فریضہ قرار دیا گیا ہے،
  2. شادی اور خاندان کے سماجی اور روحانی مقاصد کا تعین کیا گیا ہے،
  3. ’’وللرجال علیہن درجۃ‘‘ کے تحت خاندان میں مرد کی سنیارٹی کو تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بغیر گھر کا نظام چل ہی نہیں سکتا،
  4. اور طلاق کو ایک آخری آپشن کے طور پر ’’ابغض المباحات‘‘ کے درجہ میں مجبوری کے جواز کا درجہ دیا گیا ہے۔

جبکہ مغرب تمام تر تلخ نتائج کو دیکھتے اور بھگتتے ہوئے بھی مذہب، روحانیات اور وجدانیات کی طرف واپس آنے کے لیے آمادہ نہیں ہے اور ان بیماریوں کا علاج محض نفسیاتی طریقوں سے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ البتہ ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ جس طلاق کو مغرب کے فلسفہ و ثقافت میں ’’حقوق‘‘ کی فہرست میں شمار کیا جاتا تھا، امریکی ماہرین کی اس رپورٹ میں ’’سماجی اور متعدی بیماری‘‘ تسلیم کیا گیا ہے، بہت سی ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث قرار دیا گیا، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی ’’ابغض المباحات عند اللّٰہ الطلاق‘‘ کی تصدیق کی گئی ہے، جس پر ہمیں فارسی کا یہ شعر یاد آرہا ہے

آنکہ دانا کند ناداں کنند آں
ولیکن بعد از خرابئ بسیار
درجہ بندی: