تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا پروگرام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۱ء

۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ؐکے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور راہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کا اس قدر بھرپور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ قومی سیاست اور دینی جدوجہد پر اس کے دیرپا اثرات محسوس کیے جائیں گے۔

تمام راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت سمیت دستور کی تمام اسلامی دفعات کے خلاف سیکولر حلقوں کی مہم دراصل پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو ختم کرنے اور اسے سیکولر ملک بنانے کی عالمی سازشوں کا حصہ ہے، اس لیے ان کوششوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۷۷ء اور ۱۹۸۴ء کی طرح ایک بار پوری قوم کو کل جماعتی دینی فورم پر متحد کرنا وقت کا ناگزیر تقاضہ ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ ’’تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ رابطہ کمیٹی‘‘ کے نام سے متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دے کر تمام مکاتب فکر کو اس پر جمع کیا جائے گا، جمعیۃ علماء پاکستان (نورانی گروپ) کے صدر جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر رابطہ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے اور یہ رابطہ کمیٹی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص، قومی خودمختاری، دستور کی اسلامی دفعات اور خاص طور پر تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر جد و جہد منظم کی جائے گی جس کا آغاز ۲۴ دسمبر کو ملک بھر میں یوم احتجاج سے ہو گا۔ جبکہ ۳۱ دسمبر کو پورے ملک میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہو گی اور ۹ جنوری کو کراچی میں عظیم الشان عوامی اجتماع ہو گا جس سے تمام مکاتب فکر کے قائدین خطاب کریں گے اور تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

ہم ایک عرصہ سے اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ عالمی استعمار کی فکری و تہذیبی یلغار سے نہ صرف پاکستان کی قومی خودمختاری اور ملکی سالمیت کو مسلسل خطرات لاحق ہیں بلکہ پاکستان کا اسلامی تشخص اور پاکستانی قوم کا اسلامی عقیدہ و ثقافت بھی اس کی زد میں ہے، جس کے لیے عالمی استعمار کے اہلکار ایک عرصہ سے ملک کے اندر بھی سر گرم عمل ہیں۔ اس کا مقابلہ صرف دینی قوتیں کر سکتی ہیں اور اس کے لیے ان کا باہمی اتحاد اور مشترکہ فورم ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ ماہ کے دوران کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں جمعیۃ علماء اسلام، عالمی مجلس احرار اسلام، ملی مجلس شرعی، جمعیۃ علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کے زیر اہتمام نصف درجن کے لگ بھگ مشترکہ اجتماعات منعقد ہوئے جن سے قومی وحدت اور ملی یک جہتی کے رجحانات کو فروغ حاصل ہوا۔ اور سب سے آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی مذکورہ آل پارٹیز کانفرنس نے ان تمام اجتماعات کے فیصلوں اور تجاویز کو عملی شکل دیتے ہوئے قومی سطح پر دینی جماعتوں کے مشترکہ محاذ کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے اور ملک کا ہر محب وطن شہری اس پر اطمینان کا اظہار کرے گا۔

اس حوالہ سے ہماری اصل تجویز تو یہ تھی کہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی طرز پر ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کو بحال کیا جائے جو اپنا ایک مستقل ماضی اور تعارف رکھتی ہے اور ہم اس کے لیے مختلف کالموں میں گزارش کرتے آرہے ہیں۔ لیکن ’’تحریک تحفظ ناموس رسالت رابطہ کمیٹی‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل فورم کی تشکیل بھی بساغنیمت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پیشرفت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ملک بھر کے دینی حلقوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ موجودہ ملکی حالات اور قومی صورت حال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ’’تحریک تحفظ ناموس رسالت رابطہ کمیٹی‘‘ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ دین، ملک اور قوم کے خلاف استعماری قوتوں کی سازشوں کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔