امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوۂ نبویؐ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جنوری ۲۰۱۳ء

گزشتہ روز لاہور میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ایک مذاکرہ میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جس کا عنوان تھا ’’امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوہ نبویؐ‘‘۔ جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہ نمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہ نمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔

امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوتی ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے، لیکن ان میں سے چند بڑے بڑے مسائل کا ذکر مناسب سمجھتا ہوں تاکہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو جائے کہ ہمیں اسوۂ نبویؐ سے کیسے راہ نمائی حاصل کرنی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بہت سی باتیں نسل انسانی اور امت کی راہ نمائی کے لیے فرمائی تھیں، ان میں سے دو باتوں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل امر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ یعنی نسل انسانی کو جاہلیت کے دور سے نکال کر علم اور روشنی کی طرف لے جارہا ہوں اور اس کے ساتھ ایک جاہلی قدر یعنی باہمی قتل و قتال کا ذکر کر کے فرمایا کہ لا ترجعوا بعدی ضلالا میرے بعد پھر گمراہی کے دور کی طرف واپس نہ چلے جانا۔

ہمیں آج اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ جن جاہلی اقدار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں تلے روند کر علم اور روشنی پر مبنی سوسائٹی قائم کی تھی وہ جاہلی اقدار کہیں پھر تو ہمارے معاشرے میں واپس نہیں آگئیں؟ آج ہمارا حال یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ محبت اور عقیدت کے ساتھ تو کرتے ہیں اور ان کے مبارک تذکرے سے ثواب اور برکات بھی حاصل کرتے ہیں لیکن راہ نمائی کے لیے اوروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عقیدت و محبت اور ثواب و برکات کے ساتھ ساتھ راہ نمائی کے لیے بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں اور ان جاہلی اقدار سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو آج پھر سے ہماری سوسائٹی میں عام ہوگئی ہیں، اور اس معاشرہ کے احیاء کے لیے محنت کریں جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تئیس سال کی محنت سے قائم کر کے دنیا کے سامنے بطور مثال پیش کیا تھا۔

بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتیں اس لیے تباہی کا شکار ہوئیں کہ ان کے ہاں قانون کا نفاذ سب پر یکساں نہیں ہوتا تھا، غریب آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی لیکن معاشرہ کے بڑے لوگ اور وی آئی پی جرم کا ارتکاب کرتے تو وہ سزا سے بچ جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال کو امتوں کی تباہی کا باعث قرار دیا ہے۔ جبکہ ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کوئی بڑا آدمی سنگین سے سنگین جرم بھی کرتا ہے تو اس کے لیے باقاعدہ گنجائشیں تلاش کی جاتی ہیں اور اسے سزا سے بچانے کے لیے پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیانت و امانت کو مسلمان فرد اور امت کا فریضہ قرار دیتے ہوئے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ امانت اور دیانت جب دنیا سے ختم ہو جائے گی تو یہ قیامت کا پیش خیمہ ہوگا۔ بد دیانتی اور نا اہلی کی ایک صورت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بیان فرمائی کہ جب معاملات اور اختیارات نا اہل لوگوں کے سپرد ہونے لگیں گے تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے، آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم سب کرپشن، نا اہلی اور بد دیانتی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اسے فخر کی بات سمجھا جاتا ہے۔ عالم اسلام میں عمومی طور پر ہمارا حال یہ ہے کہ کرپشن اور بد دیانتی کا دور دورہ ہے اور لوٹ کھسوٹ اور اختیارات کے غلط استعمال کے علاوہ تجارت اور کاروبار میں بھی ہماری ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ تجارتی دنیا میں ہماری ساکھ سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا اعتماد کسی طرح بحال نہیں ہو رہا۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو دشمن کے مقابلہ میں ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا تھا اور جنگی قوت اس حد تک فراہم کرنے کا حکم دیا تھاکہ دشمن پر مسلمانوں کا رعب رہے، یعنی دنیا میں جنگی طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے لیکن آج ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور جنگی اسباب میں باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اس لیے آج ہم سے اسوۂ نبویؐ کا یہ تقاضہ ہے کہ ہم راہ نمائی کے اصل سرچشمہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کر کے دوسروں کی ذہنی غلامی سے نجات حاصل کریں، کرپشن اور نا اہلی کی دلدل سے نکلنے کی کوشش کریں، قانون کی سب کے لیے یکساں عملداری کا اہتمام کریں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے آگے بڑھنے کو اپنا ہدف قرار دیں اور جاہلیت کی ساری قدروں کو پھر سے پاؤں تلے روندتے ہوئے صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین کے دور کی مسلم سوسائٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے محنت کریں۔

درجہ بندی: