قومی خود مختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۱ء

مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا مگر شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن‘‘ نے اس سوالیہ پہلو کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرمناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آرہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کی عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا اور منتخب پارلیمنٹ نے بھی متفقہ قرارداد کی صورت میں ان پالیسیوں سے بیزاری کا اظہار کر دیا تھا، پرویز مشرف کے وہ معاہدات اور پالیسیاں آج بھی نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قوم کے اضطراب اور غصے کو پارلیمنٹ کی ایک اور ’’متفقہ قرار داد‘‘ کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس قرارداد کا مستقبل بھی سابقہ قرارداد سے مختلف دکھائی نہیں دے رہا۔

اصل بات قراردادوں اور اخباری بیانات کی نہیں بلکہ پالیسیوں اور خفیہ معاہدات کی ہے، جب تک ان پر نظر ثانی نہیں ہوتی اور قومی مفادات اور عوامی جذبات کے مطابق ان میں ’’یو ٹرن‘‘ لینے کی کوئی سبیل سامنے نہیں آتی تب تک ان قراردادوں اور اخباری بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ اب تو یہ بیانات اور قراردادیں قوم کے ساتھ مذاق کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

شیخ اسامہ بن لادن ؒ تو شہید ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرمائے کہ وہ شہادت ہی کی تمنا رکھتے تھے مگر ان کے ساتھ ہماری قومی خود مختاری بھی شہید ہو گئی ہے، یہ بات ہماری قومی سطح کی سیاسی و دینی قیادت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے بلکہ نشان عبرت ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’لا تکونوا کالذین نسوا اللّٰہ فأنساہم أنفسہم‘‘ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔ قوموں کا اپنے نفع و نقصان سے غافل ہو جانا اور قومی قیادتوں کا ملی جذبات و مفادات سے بے پروا ہو جانا عذاب خداوندی ہوتا ہے، آج ہماری حالت بتاتی ہے کہ ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں، اس کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی اللہ تعالیٰ کو بھول جانے کی حالت کا ادراک کریں، اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اپنے خالق و مالک کو یاد کرنے کا ذوق زندہ کریں اور بارگاہ ایزدی میں توبہ و استغفار کا اہتمام کریں تاکہ ‘‘خود سے غافل ہو جانے‘‘ کے اس قومی عذاب سے نجات حاصل کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر سطح پر اس کا احساس و ادراک اور اصلاح احوال کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔