گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۱ء

چند روز قبل گوجرانوالہ میں ریل بازار کی پولیس چوکی میں علی الصبح بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام و دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلیل ٹاؤن میں واقع دارالعلوم گوجرانوالہ کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش چار گھنٹے جاری رہا، اس دوران طلبہ کے کمروں اور اساتذہ کی رہائش گاہوں کی لیڈی پولیس اور سراغرساں کتوں کے ذریعہ تفصیلی تلاشی کی گئی، دار العلوم کے ناظم ایک استاذ اور ایک طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا۔ نہر کے کنارے ایک اور دینی مدرسہ جامعہ اسلامیہ پر چھاپا مارا گیا اور اس کی تلاشی کی گئی۔ جبکہ شہر میں مولانا سیف اللہ چیمہ اور پروفیسر حافظ محمد انور سمیت ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ حالانکہ ان چھاپوں، تلاشیوں اور گرفتار شدگان سے تفتیش کے دوران ان سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی ان بم دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق سامنے آیا ہے۔

گزشتہ روز جامعہ نصرۃ العلوم اور مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہونے والے علماء کرام کے بھرپور احتجاجی اجتماعات میں اس صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور پولیس چوکی میں بم دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے اس کی آڑ میں دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید احتجاج کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران یہ افسوسناک حرکت بھی سامنے آئی کہ دار العلوم گوجرانوالہ کی تلاشی لیتے ہوئے پولیس اہلکار کتوں سمیت دار العلوم کی مسجد میں گھس گئے اور ایک استاذ کے احتجاج کرنے پر کہا کہ ہو سکتا ہے دہشت گرد مسجد میں بیٹھا ہوا ہو۔

ادھر وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے ایک اخباری بیان کے مطابق گوجرانوالہ پولیس کی اس کاروائی کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ کاروائی فوری طور پر ختم کی جائے، گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور مسجد و مدرسہ کا تقدس پامال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کی جائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس کے خلاف اب تک ہونے والی اس قسم کی بیسیوں کاروائیوں کے باوجود مبینہ دہشت گردی کے ساتھ دینی مدارس کے تعلق کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، مگر حکومتی طرز عمل مسلسل یہ ہے کہ جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہے یا کوئی ایسی صورتحال ہوتی ہے پولیس کسی نہ کسی دینی مدرسہ پر چڑھ دوڑتی ہے اور علماء کرام اور دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے، یہ دینی مدارس کے خلاف عالمی استعمار کے ایجنڈے اور سازشوں کا حصہ ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔