نفاذ شریعت کے لیے مسیحی مصری راہنما کا مطالبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۱ء

ہیوسٹن (امریکہ) سے شائع ہونے والے عربی جریدہ ’’اعداد‘‘ نے ۲۹ جون ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ عرب جمہوریہ مصر میں حال ہی میں ابھر نے والی عوامی تحریک ’’الحریۃ والعدالۃ‘‘ کے ایک مسیحی راہنما ناجی نجیب نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نفاذِ شریعت سے ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ ’’لا خوف من تطبیق الحدود الاسلامیۃ فاذا کان السارق جزاءہ ان تقطع یدہ فلتقطع والقاتل یقتل‘‘ حدود شرعیہ اسلامیہ کے نفاذ سے کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ جب چور کی سزا ہی یہ ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ کٹ جانا چاہیے اور قاتل کو قصاص میں قتل ہونا چاہیے۔ ناجی نجیب کا کہنا ہے کہ بعض حلقے انہیں یہ کہہ کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسیحی ہو کر ’’اخوان المسلمون‘‘ کے لیے کام کر رہے ہیں حالانکہ میں اخوان المسلمون کے لیے نہیں بلکہ اخوان المصریون کے لیے کام کر رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ جب مصر ایک مسلم ریاست ہے تو اس کا سربراہ کوئی غیر مسلم تو نہیں ہو سکتا البتہ ہم ان کے معاونین کے طور پر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔

کسی مسیحی راہنما کی طرف سے مسلمان ملک میں شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین کے نفاذ کے مطالبہ کا یہ پہلا موقع نہیں ہے خود ہمارے ہاں پاکستان میں ملک کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس اے آر کارنیلیس مسیحی ہونے کے باوجود ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کو ضروری قرار دیتے رہے ہیں، اور مغربی پاکستان اسمبلی کے مسیحی رکن جو شو افضل دین نے بھی کئی بار اسمبلی کے فلور پر شرعی قوانین کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔ اور یہ کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں ہے اس لیے کہ حدود شرعیہ کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات دراصل سابقہ آسمانی تعلیمات کا تسلسل ہیں اور اسلام نے توراۃ کے بہت سے قوانین کو معمولی ردوبدل کے ساتھ جاری رکھا ہے، اس لیے اگر کوئی مسیحی راہنما حدود قوانین کے بارے میں بائبل کے احکام کے نفاذ کا مطالبہ کرے گا تو بھی وہ فی الجملہ قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ کا ہی مطالبہ ہو گا۔

اب سے کم و بیش ربع صدی قبل امریکہ کے ایک مذہبی مسیحی راہنما سے راقم الحروف نے بالمشافہ عرض کیا تھا کہ وہ اپنی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپس لانے کی محنت کریں ہم اس میں ان کا ساتھ دیں گے اور اس کے بعد اگر وہ مسیحی سوسائٹی میں بائبل کے قوانین کو نافذ کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، البتہ ہمارے اس حق کو بھی وہ تسلیم کریں کہ ہم مسلم ممالک میں آسمانی تعلیمات کی بالا دستی کے لیے قرآن و سنت کے نظام اور قوانین نافذ کر سکیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بعض سنجیدہ مسیحی راہنماؤں کی طرف سے شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی حمایت دراصل انسانی سوسائٹی کے لیے آسمانی تعلیمات کی ضرورت کا اظہار و اعتراف ہے اور یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے آسمانی تعلیمات کو مستند اور مکمل حالت میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نسل انسانی کو خواہشات پرستی کے ماحول سے نکالنے اور آسمانی تعلیمات کی ضرورت کا احساس دلانے پر محنت کی جائے، ہمارا ایمان ہے کہ انسانی سوسائٹی جب بھی آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کا فیصلہ کرے گی اور حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ ضرور کرے گی تو قرآن و سنت ہی اس کی راہنمائی کریں گے کیونکہ آسمانی تعلیمات کا یہی مستند اور محفوظ ذخیرہ نسل انسانی کے پاس موجود رہ گیا ہے۔

درجہ بندی: