بے حیائی کا مسلسل فروغ اور ہماری کوتاہیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۲ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی ایک مسلمان تنظیم ’’ آل انڈیا مسلم کمیٹی‘‘ نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کی شرمناک حرکات کے باعث اسے مسلم کمیونٹی سے خارج قرار دے کر بھارتی مسلمانوں سے اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کمیٹی کے بیان کے مطابق پاکستانی اداکارہ کی قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر اور ریئلٹی شو میں نکاح کی توہین کا رویہ اسلامی معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے۔

مذکورہ پاکستانی اداکارہ کی اس قسم کی حرکات وقتاً فوقتاً اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بدنامی کا بھی باعث بنتی رہتی ہیں اور دینی حلقے اس پر مسلسل احتجاج کرتے رہتے ہیں، کچھ عرصہ قبل اس اداکارہ کی بالکل عریاں تصویر ایک جریدہ میں شائع ہونے کے بعد مسلمانوں میں غصہ و نفرت کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے اور مختلف حوالوں سے اخبارات و جرائد میں اس پر ردعمل کا اظہار ہو رہا ہے، خاص طور پر بھارتی مسلمان ان حرکات پر بہت ناراض ہیں جس کی ایک ہلکی سی جھلک ’’آل انڈیا مسلم کمیٹی ‘‘ نامی تنظیم کے اس اعلان کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اداکارہ کی یہ حرکت تو بے شرمی کی ایک انتہا ہے مگر اس سے ملتی جلتی اور اس انتہا تک لے جانے والی بہت سی حرکات بعض دیگر پاکستانی اداکاروں اور اداکاراؤں کی طرف سے بھی بیرونی ممالک میں وقتاً فوقتاً دیکھنے میں آتی رہتی ہیں جو اسلامی اور مشرقی تہذیب کے منافی اور کسی بھی مسلمان کے لیے باعث شرم ہوتی ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ:

  • حکومت پاکستان کی پالیسیاں اور اسلامی اقدار و روایات کے حوالہ سے اس کا تذبذب کا رویہ ہے جو بے حیائی اور بے شرمی کی ان حرکات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، حالانکہ دستور پاکستان میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی روایات و اقدار کے تحفظ کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔
  • جبکہ ہمارے مقتدر دینی حلقوں کی نرم روی اور نظرانداز کر دینے کی پالیسی بھی اس بے حیائی کے فروغ کا باعث ہے، کیونکہ جو دینی جماعتیں مقتدر سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، وہ اگر اسے ایک ’’مسئلہ‘‘ سمجھ کر حکمرانوں کو اپنے رویہ پر نظرثانی پر مجبور کریں تو بہت سی باتوں کو روکا جا سکتا ہے اور کسی حد تک ان شرمناک حرکات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، مگر ہمارے ہاں عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ اس قسم کی کسی حرکت کے سامنے آنے پر دو چار تیز قسم کے بیانات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور چند کالم اور مضامین شائع ہو جاتے ہیں پھر اس کے بعد معاملہ ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے، یہ بات قطعی طور پر ناکافی ہے۔ ہم جس طرح دیگر بعض معاملات میں منظم عوامی احتجاج اور ایوان حکومت میں اثر و رسوخ کے استعمال کا اہتمام کرتے ہیں، اسے بھی اگر ایک مسئلہ سمجھ کر ڈیل کریں تو بے حیائی کی اس تیز رفتار پیشرفت کو کسی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

اسی لیے ہم حکومت پاکستان اور پاکستان کے دینی حلقوں سے یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی ثقافت و روایات کے تحفظ کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوئی مضبوط لائحہ عمل اختیار کریں۔