خواتین کے حقوق کا بل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۲ء

روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق:

  • خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔
  • خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔
  • خواتین پر تیزاب پھینکنے کی سزا ۱۴ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔
  • قرآن سے شادی کرانے پر ۳ سے ۷ سال سزا اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، وغیر ذلک۔

خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک عرصہ سے ملک میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور پارلیمنٹ اس سلسلہ میں متعدد قوانین کی مختلف ادوار میں منظوری دے چکی ہے جن میں اسلامی حوالوں سے مثبت اور منفی دونوں قسم کے قوانین شامل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب ’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کی گئیں تو سر کردہ علماء کرام کی ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی جس میں راقم الحروف بھی شامل تھا، ہم نے اس ترمیمی مسودہ میں شامل بعض شقوں کو اپنی تحریری سفارشات میں قرآن و سنت کے منافی قرار دیا تھا مگر ان سفارشات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وہ بل منظور کر لیا گیا اور حدود شرعیہ کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ اس موقع پر ہم نے اپنی سفارشات میں یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستانی عورت کی مظلومیت اور حقوق و مسائل کو مغربی معاشرہ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جو غیر منطقی بات ہے، پاکستانی خواتین کے حقوق و مسائل کو پاکستانی معاشرے کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اسے جو حقیقی مسائل و مشکلات درپیش ہیں ان کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

پاکستانی ماحول اور معاشرے میں خواتین کی مظلومیت اور ان کو درپیش مسائل و مشکلات کے حوالہ سے ہماری گزارش یہ تھی کہ یہاں عورت کو وراثت میں اس کا حصہ عام طور پر نہیں ملتا بلکہ اکثر اوقات مہر بھی نہیں ملتا، بالغ عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر جبراً کر دیا جاتا ہے، قرآن کریم کے ساتھ شادی کے عنوان سے اسے شادی کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں اس کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہے، وغیر ذلک۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس پس منظر میں پارلیمنٹ کا حال ہی میں منظور کیا جانے والا قانون خوش آئند ہے جس سے خواتین کو درپیش حقیقی مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، لیکن بات ابھی مکمل نہیں ہوئی اور ہمارے نزدیک عائلی قوانین اور خواتین کے حقوق کے بارے میں اب تک منظور کیے جانے والے تمام قوانین پر اس ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً دو حوالوں سے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

  1. وہ قوانین جو مغربی معاشرے کے تناظر کو سامنے رکھ کر پاکستانی عورت کے حقوق کے عنوان سے منظور کیے گئے ہیں اور ان میں قرآن و سنت کی تعلیمات اور شرعی احکام کو نظر انداز کر کے مغربی لابیوں اور حکومتوں کے بے جا تقاضوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے، ان پر نظرثانی خود پاکستان کے ریاستی مذہب اسلام کی تعلیمات کا تقاضہ ہے۔
  2. جبکہ پاکستانی معاشرہ اور قبائلی و علاقائی روایات کے تناظر میں عورتوں کی مظلومیت اور حقوق و مسائل کا شرعی نقطۂ نظر سے بھرپور جائزہ لے کر قرآن و سنت کی روشنی میں ایک جامع رپورٹ مرتب کرنے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے معاشرہ میں عورت کی مظلومیت کے بہت سے پہلو ہیں جن کی نشاندہی ہونی چاہیے، مثلاً ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عورت کا لفظ گالی کا عنوان بن گیا ہے اور ایک دوسرے کو دی جانے والی گالیوں کا پچانوے فیصد حصہ عورت کے حوالہ سے ہوتا ہے۔ گالی بذات خود جرم اور گناہ ہے مگر ماں، بہن، بیٹی اور بھانجی جیسے مقدس رشتوں کو گالی کا عنوان بنا دینا تو گناہ در گناہ ہے کہ اس سے عورت کی تذلیل اور توہین بھی ہوتی ہے، اس قسم کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو عورت کی مظلومیت اور تذلیل کا باعث ہیں۔

قومی سیاست میں حصہ لینے والی دینی جماعتیں اور علمی و دینی مراکز اگر اس قسم کے مسائل پر ہوم ورک اور تحقیق و تجزیہ کا اہتمام کر سکیں تو بہت سے ایسے مسائل کی نشاندہی ہو سکتی ہے جن کو حل کرنے سے ہم پاکستان کو عملی طور پر ایک اسلامی ریاست کی حیثیت دینے کی طرف پیشرفت کر سکتے ہیں۔