قومی خواتین کمیشن کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۲ء

روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا اور اس کا چیئرمین کوئی ایسا شخص ہو گا جو پندرہ سال تک خواتین کے حقوق کے لیے کام کر چکا ہو۔ قومی اسمبلی کے منظور کردہ بل میں کہا گیا ہے کہ:

’’یہ کمیشن جنسی مساوات، خواتین کی ترقی، انہیں با اختیار بنانے، ان کی سیاسی شرکت اور نمائندگی کے لیے حکومت کی پالیسی، پروگراموں اور اقدامات کی جانچ پڑتال کرے گا۔‘‘

مرد اور عورت میں مساوات اور سیاسی معاملات میں ان کی بھرپور شرکت کا مسئلہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی زیر بحث ہے اور اقوام متحدہ کے منشور برائے انسانی حقوق کے مطابق بین الاقوامی حلقے، حکومتی ادارے اور بہت سی این جی اوز مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مرد اور عورت کے درمیان ہر معاملہ میں مساوات اور برابری کا قانون نافذ کیا جائے اور اس جنسی برابری اور مساوات کی راہ میں جو قوانین رکاوٹ ہیں انہیں ختم کر دیا جائے۔ اسی بنیاد پر شریعت اسلامیہ اور قرآن و سنت کے بہت سے قوانین کو یہ کہہ کر ہدف تنقید بنایا جاتا ہے کہ وہ آج کے عالمی فلسفہ کی رو سے مرد اور عورت کی مکمل مساوات کے منافی اور امتیازی قوانین ہیں، جبکہ دوسری طرف دستور پاکستان میں اس بات کی گارنٹی دی گئی ہے کہ ملک میں قانون سازی کی بنیاد قرآن و سنت ہے اور پارلمینٹ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون منظور کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

ہم ایک عرصہ سے علمی مراکز اور دینی حلقوں پر زور دیتے آرہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اسلامی قوانین کے تقابلی مطالعہ اور اس حوالہ سے بہت سے اسلامی احکام و قوانین کو انسانی حقوق کے منافی دیے جانے کے معاملات پر سنجیدہ غور و فکر اور بحث و تمحیص کی ضرورت ہے، اور گومگو کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کی روشنی میں ملکی رائے عامہ کو اعتماد میں لینا اور شرعی موقف کو واضح کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ ہمارے خیال میں قومی کمیشن برائے خواتین کے با ضابطہ قیام کے بعد اس کی اہمیت و ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے، مگر کیا ہمارے مدارس و مراکز کو بھی اس ضرورت کا احساس ہو جائے گا؟ یہ بات ابھی تک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔