عالمی رابطہ ادب اسلامی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۱۲ء

۱۲ اپریل کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام ’’اخلاقی ادب اور قیام امن کا چیلنج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سیمینار میں شرکت اور اس کی ایک نشست میں بطور مہمان خصوصی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی مسلم ارباب فکر و دانش کا عالمی سطح کا فورم ہے جس کا قیام اپریل ۱۹۸۱ء کے دوران ندوۃ العلماء لکھنو میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی دعوت پر منعقد ہونے والے ایک عالمی سیمینار کے موقع پر عمل میں لایا گیا اور حضرت مولانا ندوی ؒ اپنی زندگی میں اس کے صدر رہے جبکہ ان کی وفات کے بعد سعودی عرب کے معروف دانشور ڈاکٹر عبد القدوس ابو صالح حفظہ اللہ کو اس کا سربراہ چنا گیا اور ریاض میں اس کا مرکزی دفتر شیخ موصوف کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔ اس کے مقاصد میں سے چند اہم اہداف درج ذیل ہیں:

  • ادب اسلامی کی جڑوں کو پختہ کرنا اور قدیم و جدید ادب اسلامی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا۔
  • جدید ادبی علوم و فنون کے لیے اسلامی مناہج و اسالیب کی تیاری و تشکیل۔
  • ادب اسلامی کی عالمگیریت کو نمایاں کرنا۔
  • عالمی ادبی مسالک پر تنقید کرنا اور تنقید کے جدید مناہج وضع کرنا۔
  • عالمی ادبی مسالک میں موجود خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کرنا۔
  • مومن نسلوں اور ایسی اسلامی شخصیات کی تیاری میں جنہیں اپنی دینی اقدار اور عظیم تہذیبی ورثے پر فخر ہو، ادب اسلامی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا کرنا وغیر ذلک۔

پاکستان میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے موجودہ صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی ہیں جو شیخ المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے پوتے ہیں اور سیکرٹری جنرل پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے صدر نشین ڈاکٹر محمود الحسن عارف (فاضل جامعہ اشرفیہ) ہیں جبکہ سیکرٹری اطلاعات و نشریات کے فرائض جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل مولانا حافظ سمیع اللہ فراز سر انجام دے رہے ہیں۔

عالمی رابطہ ادب اسلامی کا مختصر تعارفی تذکرہ کرنے کا مقصد احباب کو اس فورم کی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس ضرورت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ادبی اور صحافتی محاذ پر کام کرنے والے احباب کو باہمی ربط و معاونت کی اہمیت کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ آج کا دور صحافت و ادب کا دور ہے اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ بطور خاص اس بات کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے کہ آج کے دور میں معاشرتی علوم اور ادب و صحافت ہی انسانی ذہنوں تک رسائی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں اور مغربی فکر و فلسفہ انہی ہتھیاروں کے ذریعے عالمی سطح پر اثر و رسوخ بلکہ اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی ان علوم و فنون میں رسوخ حاصل کریں اور آج کی دنیا میں آج کے فکری و علمی ہتھیاروں کے ساتھ مغربی فکر و فلسفہ کا مقابلہ کرتے ہوئے اسلامی علوم و فنون میں پیشرفت اور اسلامی نظام و فلسفہ کی بالاتری اور غلبہ کے لیے کردار ادا کریں۔

ادب صحافت کا ذوق اور اس سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اور اپنی صلاحیتوں اور محنت کو مربوط و منظم دائرہ میں لاتے ہوئے ادب و صحافت کے اس محاذ کو مؤثر بنانے کی کوشش کریں۔