قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۲ء

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ:

’’قرآنی تعلیمات کے فروغ اور موجودہ نسل کی قرآن کریم سے آشنائی کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کو بطور نصابی کتاب تعلیمی نصاب کا حصہ بنا کر اسے باقاعدہ ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے نیز تدریس قرآن و حدیث کے لیے جامع پروگرام تشکیل دیا جائے اور اس کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جائیں۔‘‘

یہ قرارداد قرآن کریم کی تعلیم کے حوالہ سے قرارداد پیش کرنے والی خاتون اور دیگر ارکان اسمبلی کے جذبات کی آئینہ دار اور خوش آئند ہے جس پر تمام ارکان اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ صرف ایک قرارداد ہے جس کی حیثیت سفارش سے زیادہ کچھ نہیں ہے جبکہ اس پر ایک مستقل بل لانے کی ضرورت ہے جو منظور ہونے کے بعد باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل کر سکے اور قرآن کریم کی تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری یہ بات اس حوالہ سے ذہن کو توجہ دلاتی ہے کہ اسلام کے نام پر پاکستان کو قائم ہوئے پینسٹھ برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم ابھی تک اس مرحلہ میں نظر آرہے ہیں کہ:

  • ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم ہونی چاہیے یا نہیں؟
  • پورا قرآن کریم پڑھایا جانا چاہیے یا نہیں؟
  • اور ترجمہ سمیت پڑھانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟

یہ صورتحال اس قرارداد پر خوش ہونے کے باوجود ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور قوم کے ہر طبقہ اور حلقہ کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل وفاقی محتسب اعلیٰ نے ایک حکم صادر کیا تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں میٹرک تک طلبہ و طالبات کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا اہتمام کیا جائے مگر وسائل کی کمی کے بہانے اس پر عملدرآمد سے گریز کیا گیا تھا۔ جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ مڈل تک قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم اس وقت بھی سرکاری سکولوں میں ضروری ہے لیکن قرآن کریم باقاعدہ طور پر پڑھائے جانے کی بجائے اسے صرف امتحانی نمبروں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور سکولوں کے سربراہوں اور اساتذہ کا مجموعی طور پر طرز عمل یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہو یا نہ ہو مگر اس کے نمبر ضرور طلبہ کے پرچوں میں شامل کیے جائیں تاکہ دوسرے مضامین میں ان کے نمبروں کی کمی کو ان نمبروں کے ساتھ پورا کیا جائے۔ چنانچہ اکثر سکولوں میں قرآن کریم پڑھائے بغیر اور اس کا امتحان لیے بغیر یہ نمبر لگا دیے جاتے ہیں۔ یہ بات اگر درست ہے تو اور زیادہ افسوسناک ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے بے پرواہی کے اس جرم میں حکومتی پالیسی اور محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ بھی برابر کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں اور معاملہ انتہائی شرمناک صورت اختیار کر جاتا ہے۔

۲۲ مارچ کو اس سلسلہ میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے اساتذہ نے باہم مل بیٹھ کر پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرار داد کی روشنی میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور یہ تجاویز دیں کہ:

  • قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے سرکاری ہدایات اس سلسلہ میں خاموش ہیں جبکہ قومی تعلیمی پالیسی میں قرآن کریم اور سنت نبویؐ کی تعلیمات کے حوالہ سے واضح ہدایات موجود ہونی چاہئیں۔
  • قرآن کریم کی جو تعلیم اس وقت سرکاری نظام و نصاب میں ضروری قرار دی گئی ہے اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اور اس سلسلہ میں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کو اس حوالہ سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس بے عملی اور غفلت کا نوٹس لینا چاہیے اور سرکاری نظام و نصاب کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم اور امتحان کو یقینی بنانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • پنجاب قرآن بورڈ کو، جو ایک سرکاری ادارہ ہے، سرکاری اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم کے سلسلہ میں نگرانی کو اپنی ذمہ داریوں میں شامل کرنا چاہیے اور پنجاب اسمبلی کی مذکورہ متفقہ قرار داد کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کو یقینی بنانے کے لیے ایک باقاعدہ قانونی بل تیار کر کے اسے اسمبلی سے منظور کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور اساتذہ کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے اور انہیں اس کا احساس دلایا جانا چاہیے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے بے پرواہی اور اسے صرف نمبروں کے لیے استعمال کرنے کی روش قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ شرعاً بھی درست نہیں ہے اور قرآن کریم کی تعلیم سے نعوذ باللہ غفلت ایک سنگین جرم ہے اس لیے سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور اساتذہ کو اس سلسلہ میں سابقہ جرم سے توبہ کرتے ہوئے اس کی تلافی کے لیے پوری توجہ اور محنت سے کام کرنا چاہیے۔

جہاں تک سرکاری تعلیمی نصاب و نظام میں قرآن و حدیث کی تعلیم کو ضروری قرار دینے کا تعلق ہے اس کے بارے میں سرِدست صرف اتنا عرض کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس کسی بھی مسلمان حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ جیسا کہ مسلم شریف کتاب المساجد کی ایک روایت کے مطابق امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں سرکاری حکام کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ لیعلمھم دینھم وسنۃ نبیھم‘‘ امراء الامصار یعنی شہروں کے حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں اور جناب نبی اکرم ؐکی سنت کی تعلیم کا اہتمام کریں۔

نیز ہمارے خیال میں دینی جماعتوں کو بھی یہ مسئلہ اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہیے اور پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ مہم چلانی چاہیے۔