حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۲ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں۔

مغربی ممالک میں کچھ عرصہ سے مسلمان خواتین کے حجاب پہننے کو اسلامی تہذیب کی علامت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف منفی مہم جاری ہے، اور نہ صرف یہ کہ باپردہ مسلمان خواتین کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے بلکہ فرانس سمیت بہت سے ممالک میں حجاب کو قانونی طور پر جرم قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ غیر مسلم ممالک تو رہے ایک طرف کچھ عرصہ پہلے تک برادر مسلم ملک ترکی کی یہ صورتحال تھی کہ پارلیمنٹ کی ایک مسلمان خاتون رکن کو جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچی تھی، صرف حجاب پہننے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی رکنیت حتٰی کہ ترکی کی شہریت سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ مگر اٹلی کے وزیر خارجہ نے جرأتمندانہ موقف اختیار کیا ہے کہ حجاب صرف مسلمان خواتین کا شعار نہیں ہے بلکہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام بھی باحجاب خاتون تھیں اس لیے کہ ان کے بقول حضرت مریمؑ کی کوئی تصویر حجاب کے بغیر نہیں ہے۔

حضرت مریمؑ کی کوئی تصویر واقعتاً موجود ہے یا نہیں، اس بحث میں پڑے بغیر ہم اطالوی وزیر خارجہ کے اس موقف کو درست سمجھتے ہیں کہ حضرت مریمؑ ایک باحجاب اور با پردہ خاتون تھیں اور عورت کے لیے حجاب جس طرح اسلام میں اس کے شعار اور وقار کی علامت ہے اسی طرح سابقہ آسمانی مذاہب یہودیت اور مسیحیت میں بھی عورت کے لیے حجاب اور پردے کو اس کا زیور اور شعار سمجھا جاتا تھا، اور عورت کا با حجاب اور با پردہ ہونا تمام آسمانی مذاہب کی مشترکہ مذہبی روایت کا درجہ رکھتا ہے۔

اٹلی کے وزیر خارجہ جناب روبرٹو میرونی کے اس حقیقت پسندانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم مغرب کے دیگر مسیحی حکمرانوں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے مسلمان عورت کے حجاب کے خلاف اپنے منفی طرزعمل پر نظر ثانی کریں گے اور حجاب کو ایک با وقار عورت کے حق کے طور پر تسلیم کریں گے۔

درجہ بندی: