ہماری دینی تحریکات کی ناکامی کے اسباب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ مارچ ۲۰۱۳ء

ہماری دینی تحریکات اس وقت مدّو جزر کے جس دور سے گزر رہی ہیں، ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہ رہا ہے، لیکن اس سے پہلے ربع صدی قبل کے ایک قومی کنونشن کی رپورٹ اور اٹھارہ سال قبل کے ایک بین الاقوامی سیمینار کی رپورٹ قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔ اس گزارش کے ساتھ کہ ان دونوں رپورٹوں کو توجہ کے ساتھ ملاحظہ فرمایا جائے تا کہ جو معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں ان کا پس منظر سب کے سامنے ہو۔ (راشدی)

رپورٹ (۱) :   آل پارٹیز قومی سنی کنونشن

پہلی رپورٹ ۱۰-۱۱ جنوری ۱۹۸۸ء کو شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے قومی سنی کنونشن کی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں انہی دنوں شائع ہوئی تھی۔

ملک میں اہل سنت کے خلاف فرقہ وارانہ دہشت گردی، علمائے اہل سنت کے خلاف جھوٹے مقدمات اور گرفتاریوں اور مختلف شہروں میں ایک درجن سے زائد سنی کارکنوں کی المناک شہادت سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرنے کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی دعوت پر ۱۰-۱۱ جنوری کو لاہور میں ’’قومی سنی کنونشن‘‘ منعقد ہوا جس میں ملک کی اہم دینی تنظیموں اور سرکردہ شخصیات نے شرکت فرمائی۔ کنونشن میں شریک ہونے والی جماعتوں کے نمائندوں اور دیگر شخصیات کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان: حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا محمد اجمل خان، حضرت مولانا سمیع الحق، مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا زاہد الراشدی، مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا علاء الدین، مولانا قاضی عبد اللطیف، مولانا بشیر احمد شاد، مولانا حمید اللہ جان، مولانا سیف الرحمن، علامہ ڈاکٹر خالد محمود اور دیگر اہم شخصیات۔

سواد اعظم اہل سنت پاکستان: حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن، حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا اسفند یار خان، مولانا محمد جمیل خان اور دیگر حضرات۔
جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ پاکستان: حضرت مولانا قاضی احسان الحق، حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ، مولانا حافظ محمد صدیق۔
تنظیم اہل سنت پاکستان: حضرت مولانا عبد الستار تونسوی، مولانا قاضی عبد اللطیف شجاع آبادی، مولانا محمد اسماعیل۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت: مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا ضیاء الدین آزاد۔
مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان: حضرت مولانا عبد الحئی جام پوری، مولانا سید عبد المجید ندیم، مولانا عبد الباقی۔
تحریک خدام اہل سنت پاکستان: مولانا مفتی محمد شریف عابد، حافظ عبد الوحید حنفی، مولانا شیر محمد، مولانا حافظ محمد طیب۔
انجمن سپاہ صحابہؓ پاکستان: مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، قاری ایثار احمد قاسمی، قاری محمد منور۔
آل جموں و کشمیر جمعیۃ علماء اسلام: مولانا قاری سعید الرحمن تنویر، مولانا مفتی محمد یونس میر پوری، مولانا مفتی عبد الشکور کشمیری۔
انجمن اتحاد قبائل اہل سنت کوہاٹ: مولانا شیر محمد، حاجی جاوید پراچہ، کرنل سلطان علی شاہ، میجر حکم خان اور دیگر حضرات۔
مجلس علماء اہل سنت پاکستان: مولانا عبد الحق مجاہد اور ان کے رفقاء۔
مرکزی تحریک احیائے سنت پاکستان: جناب غلام رسول، مولانا محمد نواز بلوچ اور دیگر رفقاء۔
جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان: میاں انور علی دہلوی، خالد محمود وٹو، محمد اکبر، حافظ سمیع اللہ اور ان کے رفقاء۔

ممتاز شخصیات

مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا قاضی چن پیرالہاشمی حویلیاں، مولانا عبد المجید کہروڑپکا، مولانا محمد حنیف جالندھری ملتان، قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ، مولانا مفتی محمد انور شاہ ملتان، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ گوجرانوالہ۔ ان سرکردہ شخصیات کے علاوہ ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے کم و بیش تین سو سے زائد حضرات نے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ میں شرکت کی۔

سربراہی اجلاس

پروگرام کے مطابق ۱۰ جنوری کو بعد نماز عشاء مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں کنونشن میں شرکت کرنے والے وفود کے سربراہوں کا اجلاس حضرت مولانا محمد اجمل خان نائب امیر اول جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں طویل بحث و تمحیص کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلہ میں پہلے سے قائم شدہ ’’متحدہ سنی محاذ پاکستان‘‘ کو از سرِ نو منظم و متحرک بنایا جائے اور ملک کی ممتاز علمی شخصیت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب مہتمم جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کو اس کا امیر مقرر کیا جائے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نے مسلسل انکار اور معذرت کے بعد بالآخر ہاؤس کے اس متفقہ فیصلہ کو قبول فرما لیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محاذ میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں سمیت دو دو نمائندوں پر مشتمل ’’سپریم کونسل‘‘ قائم کی جائے جو متحدہ سنی محاذ کے پورے نظام کو کنٹرول کرے۔ اس کے علاوہ ملک کی اہم دینی شخصیات کو امیر مرکزیہ اپنی صوابدید پر سپریم کونسل کارکن نامزد کریں گے۔ اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی کو ’’متحدہ سنی محاذ‘‘ کا رابطہ سیکرٹری مقرر کیا گیا۔

اجلاس میں علامہ خالد محمود، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، جاوید ابراہیم پراچہ، مولانا محمد جمیل خان اور مولانا عبد الرشید انصاری پر مشتمل پروگرام و قرارداد کمیٹی قائم کی گئی اور طے پایا کہ صبح ۱۱ جنوری کو ’’قومی سنی کنونشن‘‘ کی عمومی نشست سے قبل سپریم کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں ’’پروگرام و قرارداد کمیٹی‘‘ آئندہ لائحہ عمل اور قراردادوں کے بارے میں تجاویز پیش کرے گی۔

سپریم کونسل کا اجلاس

۱۱ جنوری کو صبح ۹ بجے مدرسہ قاسم العلوم میں سپریم کونسل کا اجلاس امیر مرکزیہ مولانا مفتی احمد الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ’’قرارداد کمیٹی‘‘ کی تجاویز کی روشنی میں مندرجہ ذیل اہم فیصلے کیے گئے:

  • حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا خان محمد کندیاں شریف اور حضرت مولانا عبد الستار تونسوی متحدہ سنی محاذ کے سرپرست اور مولانا محمد حنیف جالندھری ڈپٹی رابطہ سیکرٹری ہوں گے۔
  • چاروں صوبوں میں متحدہ سنی محاذ کے صوبائی کنونشن منعقد ہوں گے۔ اس سلسلہ میں پہلا صوبائی کنونشن ۷ فروری کو فیصل آباد میں ہوگا۔ باقی کنونشنوں کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
  • ۱۹ فروری کو کراچی میں عظیم الشان سنی کانفرنس ہوگی۔ اس سے قبل ۱۸ فروری کو کراچی میں سپریم کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں آئندہ جدوجہد کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
  • امیر مرکزیہ محاذ کا دستور مرتب کرنے کے لیے کمیٹی نامزد کریں گے۔ یہ کمیٹی اپنی رپورٹ ۱۸ فروری کو کراچی میں سپریم کونسل کے اجلاس میں پیش کرے گی۔
  • اہل سنت کے ساتھ اب تک سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں مصدقہ اور دستاویز معلومات پر مشتمل قرطاس ابیض شائع کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں امیر مرکزیہ ایک کمیٹی مقرر کریں گے۔
  • ملک بھر میں اہل سنت کے علماء اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات اور ماتمی جلوسوں کے تنازعات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے ۱۸ فروری کے اجلاس میں ممتاز وکلاء پر مشتمل قانونی کمیٹی مقرر کی جائے گی۔
  • جن شہروں میں اہل سنت کے علماء اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہیں یا سنی کارکن شہید ہوئے ہیں وہاں متحدہ سنی محاذ کے مرکزی راہ نماؤں کا وفد جائے گا اور تازہ صورت حال کا جائزہ لینے کے علاوہ اس سلسلہ میں جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے گا۔
  • جو جماعتیں یا حلقے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ میں شریک نہیں ہوئے ان سے دوبارہ رابطہ قائم کر کے انہیں اس جدوجہد میں شمولیت کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔

کنونشن کی عمومی نشست

ساڑھے ۱۰ بجے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ کی عمومی نشست کا آغاز جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ کے بڑے حال میں ہوا جس کی صدارت امیر مرکزیہ مولانا مفتی احمد الرحمن نے کی۔ یہ نشست ۲ بجے تک جاری رہی اور اس سے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا علامہ عبد الستار تونسوی، مولانا اسفند یار خان، مولانا سید عبد المجید ندیم، مولانا قاضی احسان الحق، مولانا سمیع الحق، علامہ خالد محمود، مولانا محمد اجمل خان، مولانا میاں محمد اجمل قادری، شیخ عزیز الرحمن، مولانا بشیر احمد شاد، جاوید ابراہیم پراچہ، مولانا محمد حنیف جالندھری، قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ، قاری ایثار احمد قاسمی اور دیگر سرکردہ زعماء نے خطاب کیا جبکہ مولانا زاہد الراشدی نے سربراہی اجلاس اور سپریم کونسل کے فیصلوں کی رپورٹ پیش کی جسے کنونشن کے شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ تمام مقررین نے کنونشن کے فیصلوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا سمیع الحق اور صدر مجلس استقبالیہ مولانا میاں محمد اجمل قادری نے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ کے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ’’متحدہ سنی محاذ‘‘ کی رکن جماعت کی حیثیت سے محاذ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔
حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے کنونشن میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دینی جماعتوں کے اس اتحاد و اشتراک پر بے حد مسرت کا اظہار فرمایا اور دعاء سے قبل مولانا عبد الستار تونسوی، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد اجمل خان، مولانا سمیع الحق، مولانا اسفند یار خان، مولانا میاں محمد اجمل قادری، قاری ایثار احمد قاسمی، مولانا شیر محمد آف کوہاٹ اور دیگر حضرات کی دستار بندی فرمائی۔

قراردادیں

متحدہ سنی محاذ کے ڈپٹی رابطہ سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے کنونشن میں قراردادیں پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قراردادوں کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

  • محرم الحرام اور صفر کے دوران بد امنی اور فساد کا باعث بننے والے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
  • چونکہ شیعہ حکومت کو زکوٰۃ نہیں دیتے اس لیے زکوٰۃ، عشر کمیٹیوں اور متعلقہ محکموں سے شیعہ ارکان و افسران کو فی الفور الگ کیا جائے اور جب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو شیعہ اداروں اور افراد کو بھی زکوٰۃ نہ دی جائے بالخصوص شیعہ ادارہ فاطمیہ ٹرسٹ کے لیے زکوٰۃ فنڈ سے مخصوص کی گئی ایک کروڑ روپے کی امداد منسوخ کی جائے۔
  • اعلیٰ ملازمتوں اور کلیدی اسامیوں میں شیعہ ملازمین کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق جگہ دی جائے۔
  • زکوٰۃ و عشر کی جگہ شیعہ آبادی پر متبادل ٹیکس عائد کیا جائے۔
  • صحابہ کرامؓ کی توہین اور تنقید پر مشتمل لٹریچر ضبط کر کے مؤلفین، مترجمین اور ناشرین کے خلاف کاروائی کی جائے اور تحفظ ناموس صحابہؓ و اہل بیتؓ آرڈی ننس کو مؤثر طور پر نافذ کیا جائے۔
  • قرآن کریم کی حفاظت اور اشاعت کی کمیٹیوں سے شیعہ ارکان کو الگ کیا جائے۔
  • عالم اسلام ایرانی عازمین کی طرف حرمین شریفین میں خونریزی اور بد امنی کی کاروائیوں کا نوٹس لے اور حرمین شریفین میں فسادیوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔
  • بنوری ٹاؤن کراچی، رحیم یار خان، خیر پور ٹامیوائی جھنگ، فیصل آباد، چکوال، حویلیاں، اٹک، کوہاٹ، پارہ چنار، دینہ، گولڑہ شریف، لیہ، اگو کی ضلع سیالکوٹ اور دیگر مقامات پر اہل سنت کے علماء اور کارکنوں کے خلاف وحشیانہ تشدد اور انتظامیہ کے جانبدارانہ طرز عمل کے بارے میں ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور علماء اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں۔ بالخصوص مولانا حق نواز جھنگوی، حاکم علی، محمد یوسف مجاہد، طارق افضال اور دیگر اسیر راہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی کی جائے۔
  • قیام پاکستان کے بنیادی مقصد کی تکمیل اور نفاذِ اسلام کے لیے ملک کی اکثریتی سنی آبادی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے فقہ حنفی کو بطور واحد پبلک لاء نافذ کر کے جمہوری اصولوں کا احترام کیا جائے۔
  • براہم نزد واہ کینٹ میں صحابہ کرامؓ کی اعلانیہ توہین کے سلسلہ میں درج مقدمہ پر مؤثر کارروائی کی جائے۔
  • انجمن سپاہ صحابہؓ کے مرکزی راہنما مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کو سمندری کی جامع مسجد کی خطابت سے معطل کرنے کے سلسلہ میں محکمہ اوقاف کی کاروائی معاندانہ ہے۔ اسے فی الفور واپس لیا جائے۔
  • راوی روڈ لاہور میں محمڈن شرعی یونیورسٹی اور دیگر مختلف ناموں سے گمراہی پھیلانے والے محمد اکرم عربی نامی شخص کے خلاف کارروائی کی جائے اور گمراہی کے اس اڈہ کو بند کرایا جائے۔

شرکاء کے اعزاز میں استقبالیہ

۱۱ جنوری کو شام چار بجے فلیٹیز ہوٹل لاہور میں حضرت مولانا محمد اجمل خان اور حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری کی طرف سے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ کے شرکاء کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں علماء اور کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ سنی محاذ کے سرپرست مولانا عبد الستار تونسوی نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی کے مذہب پر حملہ آور ہونا نہیں بلکہ اپنے مذہب کا دفاع ہے جو ہمارا جائز حق ہے۔

محاذ کے نو منتخب امیر مولانا مفتی احمد الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں اور کسی قسم کا تشدد نہیں کرنا چاہتے۔ تشدد ہمارے خلاف ہو رہا ہے جسے حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس لیے اگر حکومت نے روش تبدیل نہ کی تو حالات کی ذمہ داری اس پر ہوگی۔

متحدہ سنی محاذ کے رابطہ سیکرٹری مولانا زاہد الراشدی نے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ جارحیت کا مسئلہ اب فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ خالص سیاسی مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ ایرانی انقلاب کے بعد ایران کی مذہبی قیادت اردگرد کے ممالک میں شیعہ اقلیت کو منظم و مسلح کر کے ہنگامے کروا رہی ہے اور ایرانی انقلاب کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے تشدد اور دہشت گردی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی تمام مسلم ریاستوں کو ایرانی دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس کے سدباب کے لیے مشترکہ جدوجہد وقت کا اہم تقاضہ ہے۔

میاں محمد اجمل قادری نے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت کے حقوق و مفادات کو مجروح کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استعماری قوتیں اس خطہ میں اسلام کی بالادستی کو روکنا چاہتی ہیں اور اس مقصد کے لیے اس قسم کے فتنے کھڑے کیے جا رہے ہیں۔

استقبالیہ تقریب سے مولانا قاری سعید الرحمن، محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ اور مولانا محمد امجد خان نے بھی خطاب کیا اور شرکاء نے پرجوش نعروں کے ساتھ متحدہ سنی محاذ کے عزم نو کا خیر مقدم کرتے ہوئے مولانا مفتی احمد الرحمن اور ان کے رفقاء کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

رپورٹ (۲) :   لندن میں دینی تحریکات کا مشترکہ اجلاس

یہ رپورٹ پاکستان کے داخلی ماحول میں اہل سنت کی جدوجہد کے حوالہ سے منعقد ہونے والے ’’قومی سنی کنونشن‘‘ کی ہے، اس کے ساتھ دس نومبر ۱۹۹۶ء کو لندن کے بلیک مور ہوٹل میں ورلڈ اسلامک فورم کی دعوت پر منعقد ہونے والے دینی تحریکات کے مشترکہ اجلاس کے بارے میں ایک رپورٹ پیش خدمت ہے جس میں پاکستان، سعودی عرب، شام، الجزائر، افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی ایک درجن سے زائد دینی تحریکات کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ’’اسلامک ورلڈ لیگ‘‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا گیا۔ اس فورم نے اگلے سال ۱۹ جولائی ۱۹۹۷ء کو آئرش ہال ھیمرسمتھ لندن میں اپنے سالانہ اجلاس میں ’’لندن ڈیکلیریشن‘‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی تشکیل دیا اور اس اجلاس میں مذکورہ بالا ممالک کے علاوہ شام، عراق اور تونس کی اسلامی تحریکات کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس فورم کے اہداف اور دائرہ کار کے بارے میں قارئین کو آگاہ کرنے کے لیے وہ خطبہ استقبالیہ درج کیا جا رہا ہے جو راقم الحروف نے اس مشترکہ اجلاس کے داعی کی حیثیت سے دس نومبر ۱۹۹۶ء کے اجلاس میں پیش کیا تھا:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے آپ سب حضرات و احباب کا شکر گزار ہوں کہ ہماری دعوت کو آپ نے شرف قبولیت سے نوازا اور اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس سیمینار میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ اللہ رب العزت آپ سب دوستوں کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہمارے اس مل بیٹھنے کو قبول فرماتے ہوئے دینی و ملی عزائم و مقاصد میں پیش رفت کے لیے با مقصد بنا دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

آپ سب حضرات اصحابِ فکر و دانش اور اربابِ جدوجہد و عمل ہیں اس لیے آپ کے سامنے اس وقت دنیا میں اسلام اور اس کے علمبرداروں کو درپیش چیلنج اور مشکلات کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ حضرات نہ صرف اس صورت حال سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سرگرم عمل بھی ہیں تاہم حالات کے مجموعی تناظر میں اس قدر عرض کرنا شاید نامناسب نہ ہو کہ ملت اسلامیہ اس وقت فکری، نظریاتی، سیاسی، معاشی، عسکری اور معاشرتی لحاظ سے جس سنگین اور ہمہ گیر بحران سے دوچار ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور کفر و طاغوت نے اسلام اور اس کے علمبرداروں کو جس خوفناک یلغار کا ہدف بنا رکھا ہے اس نے قرآن کریم کے ارشادِ مقدس:

اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر۔ (الاحزاب)

کے مطابق کفر کی طاقتوں کے اتحاد اور اہل اسلام کے خلاف ان کی ہمہ جہت یلغار کا نقشہ ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ عالمی استعمار نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل ہزیمت اٹھانے کے بعد معرکہ آرائی کو عسکری میدان سے سیاسی، معاشی، سائنسی اور معاشرتی شعبوں میں منتقل کر لیا تھا اور صنعت و سائنس کے جدید ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مسلم ممالک پر چڑھائی کر دی تھی جو گزشتہ دو صدیوں کے دوران عروج پر رہی اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ عالمی استعمار کے ہاتھوں:

  • ملت اسلامیہ خلافت اور جہاد کے نظام سے محروم ہوگئی ہے بلکہ اسلام کے ان دونوں مقدس فرائض کے خلاف اس قدر پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ یہ مقدس دینی اصطلاحات خود مسلمانوں کے بہت سے طبقات کے لیے اجنبی ہو کر رہ گئی ہیں۔
  • عالم اسلام کو خلافت کی سیاسی مرکزیت سے بے گانہ کر کے علاقائی، نسلی اور لسانی قومیتوں کے نام پر پچاس سے زائد اکائیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
  • مسلم ممالک میں کفر و طاغوت کے نظام مسلط کر دیے گئے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے استعمار کی نمائندہ حکومتیں سازش اور طاقت کے بل پر مسلسل قائم رکھی جا رہی ہیں جبکہ استعماری قوتوں کے مسلط کردہ یہ طاغوتی نظام مسلم ممالک کے عوام کے مزاج، عقیدہ اور روایات کے منافی ہونے کے باعث ان کے مسائل و مشکلات کے حل کی بجائے ان میں اضافہ اور انہیں الجھائے رکھنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
  • استعماری قوتوں نے عالم اسلام کے معاشی و معدنی وسائل پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور مسلم ممالک کی سائنسی، عسکری، سیاسی، معاشی اور تعلیمی پالیسیوں کو کنٹرول میں لیا ہوا ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود عالمی استعمار مطمئن نہیں ہے اور اسے اپنے اندر کا کھوکھلا پن اور اسلام کی فطری قوت و صلاحیت کا ادراک اس حد تک بے چین کیے ہوئے ہے کہ وہ عالم اسلام کو ہر طرف سے جکڑ لینے اور بے دست و پا کر دینے کے بعد بھی اسلام اور اس کے علمبرداروں کے خلاف شور و غوغا کو ضروری سمجھ رہا ہے اور میڈیا وار کا دائرہ دن بدن وسیع کرتے ہوئے اسلام کے خلاف پراپیگنڈے میں نفسیاتی سکون و راحت محسوس کر رہا ہے۔

ان حالات میں مسلم ممالک کے اندر جو اصحاب عزیمت و استقامت اسلام کی سربلندی، کفر و طاغوت کے نظام کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے برسرپیکار ہیں ان کی مشکلات و تکالیف کا اندازہ کرنا کوئی دشوار امر نہیں ہے کیونکہ عالمی استعمار اور اس کی نمائندہ حکومتوں نے واقعتا ایسی فضا قائم کر رکھی ہے کہ بہت سے مسلم ممالک میں اسلام کی بالادستی اور نفاذ کی بات کرنا جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق کالقابض علی الجمرۃ (جلتے انگاروں کو ہاتھ میں لینے) کا مصداق ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسلام ایک بار پھر دنیا میں اپنی لازوال صداقت اور غلبہ کا اظہار کرتا نظر آرہا ہے کہ تمام تر مشکلات اور جبر و تشدد کے باوجود دینی تحریکات بحمد اللہ مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔

معزز شرکاءِ اجلاس! اس پس منظر میں اس امر کی اہمیت و ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کہ مسلم ممالک کی دینی تحریکات میں باہمی رابطہ و تعاون کی فضا ہموار کی جائے اور اسلام کے غلبہ و نفاذ کے لیے کام کرنے والی جماعتیں اور حلقے عالمی استعمار کے مسلط کردہ علاقائی قومیتوں کے دائروں سے بالاتر ہو کر ’’عالمی اسلامی تحریک‘‘ کے جذبہ اور منصوبہ بندی کے ساتھ اکیسویں صدی میں داخل ہوں اور مشترکہ جدوجہد اور مساعی کے ساتھ اسے اسلام کی بالادستی اور خلافت کی بحالی کی صدی بنا دیں۔ اسی مقصد کے لیے الرابطۃ الاسلامیۃ العالمیۃ (اسلامک ورلڈ لیگ) کے نام سے ایک نئے فورم کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آپ حضرات کو زحمت دی گئی ہے کہ آج کے اس اجلاس میں شریک ہو کر ان تجاویز اور پروگرام کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرمائیں جو ’’اسلامک ورلڈ لیگ‘‘ کی طرف سے مندرجہ ذیل صورت میں آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

  1. الرابطۃ الاسلامیۃ العالمیۃ (اسلامک ورلڈ لیگ) کو ایک ایسے مشترکہ فورم کی صورت میں منظم کیا جائے جو مسلم ممالک میں کفر و طاغوت کے نظام کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کام کرنے والی جماعتوں اور حلقوں کے درمیان رابطہ، مفاہمت اور معاونت کی راہ ہموار کرے۔
  2. عالم اسلام کے معدنی و معاشی وسائل کو استعماری قوتوں کے قبضہ سے چھڑانے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں عالم اسلام کو آج کے معیار پر لانے اور مسلم ممالک کی سیاسی، عسکری، معاشی اور تعلیمی پالیسیوں کو آزاد کرانے کے لیے ملت اسلامیہ کی رائے عامہ کو بیدار اور منظم کیا جائے۔
  3. خلافت اسلامیہ کے احیا اور کفر و طاغوت کے نظاموں کے خاتمہ کے لیے اسلامی تحریکات کی جدوجہد کو باہم مربوط بنا کر عالمی سطح پر منظم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
  4. اسلام کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کے عملی خاکہ کے بارے میں عالم اسلام کے مختلف حلقوں کی دینی و علمی کاوشوں اور اجتہادات کو یکجا کر کے اجتماعی اجتہاد کے ذریعہ متفقہ خاکہ سامنے لایا جائے۔
  5. اسلام کی دعوت اور اسلامی نظام کے تعارف کے لیے مساعی منظم کی جائیں ور اسلامی فلسفہ حیات کی اہمیت و برکات سے دنیا بھر کے لوگوں کو آگاہ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
  6. اسلام اور اس کے احکام و قوانین کے خلاف مغربی میڈیا کے پراپیگنڈا اور لابیوں کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے ابلاغ کے ہر ممکن ذرائع کو استعمال میں لایا جائے۔

اجلاس کے داعی کی حیثیت سے میں اور میرے رفیق محترم مولانا محمد عیسیٰ منصوری اپنی اس رائے کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ:

  • اسلامک ورلڈ لیگ کی جدوجہد کی علمی و فکری حدود کو اہل السنۃ والجماعۃ کے دائرہ میں محدود رکھا جائے اور اہل السنۃ والجماعۃ کے تمام مکاتب فکر مثلاً احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ، ظواہر، سلفیہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ کا یکساں احترام کرتے ہوئے ہر علاقہ میں اکثریتی آبادی کے فقہی مذہب کے عملی نفاذ کے اصول کو تسلیم کیا جائے۔
  • حکومتی لابیوں سے قطعی طور پر لا تعلق رہتے ہوئے جدوجہد کو آزادانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
  • جدوجہد کے اخراجات کے لیے باہمی رضاکارانہ تعاون اور مقاصد و پروگرام سے اتفاق رکھنے والے اصحاب خیر کی غیر مشروط معاونت پر قناعت کی جائے۔
  • جدوجہد کے لیے تعلیم اور میڈیا کے ذرائع کو بنیاد بنایا جائے اور اسے مکمل طور پر پرامن رکھتے ہوئے جبر اور تشدد کے ہر ذریعہ سے احتراز کیا جائے۔

محترم راہ نمایان ملت! یہ ہیں ہمارے جذبات، عزائم اور تجاویز جو ہم نے آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر دی ہیں، ہم اس سلسلہ میں آپ سے راہ نمائی کے طالب ہیں، معاونت و مشارکت کے خواستگار ہیں اور پر خلوص دعاؤں کے متمنی ہیں، خدا کرے کہ ہم ان عزائم اور تجاویز میں خلوص سے بہرہ ور ہوں، توفیق عمل سے فیض یاب ہوں اور کامیابی و قبولیت کی منزل سے ہمکنار ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

میں ایک بار پھر آپ سب حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کی یہ شفقت ’’اسلامک ورلڈ لیگ‘‘ کو آئندہ بھی حاصل رہے گی۔

دینی تحریکات کی ناکامی کے اسباب

یہ دو رپورٹیں پڑھ کر لازماً آپ دوستوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرا ہوگا کہ جب ہم اس سطح پر اس قسم کے فیصلے کر لیتے ہیں اور پروگرام بھی بنا لیتے ہیں تو پھر بات آگے کیوں نہیں بڑھتی؟ میرے خیال میں اس سوال پر تفصیلی مباحثہ کی ضرورت ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ گفتگو کے آغاز کے لیے ایجنڈے کے طور پر چند معروضات پیش کر رہا ہوں، اگر باذوق قارئین نے اس میں دل چسپی لی تو مباحثہ کے اگلے مراحل میں شامل ہو کر خوشی محسوس کروں گا۔ میرے خیال میں اس صورت حال کے چند اسباب درج ذیل ہیں:

  • ہمارے ہاں کسی کام کے لیے منصوبہ بندی اور کسی فیصلے کے لیے اس کے ممکنہ نفع و نقصان کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری نہیں سمجھا جاتا اور وقتی ماحول میں ہی ہم ہر قسم کا فیصلہ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔
  • کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت زمینی اور معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر اس کے قابل عمل ہونے کا اندازہ کرنا بھی ہمارے نزدیک ضروری تصور نہیں کیا جاتا۔
  • ہم کوئی فیصلہ کر کے اس کے لیے محنت کی ساری ضروریات سامنے نہیں رکھتے بلکہ صرف ایک دو پہلوؤں پر تھوڑی بہت محنت کر کے اسے کافی سمجھ لیتے ہیں۔
  • ہم کسی بھی کام میں تسلسل اور صبر کے ساتھ نتائج کا انتظار کرنے کے عادی نہیں ہیں اور جلد از جلد نتائج کے انتظار میں مایوسی کا شکار ہو کر دوسرے ذرائع ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔
  • اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن کے پاس وسائل ہیں وہ کام کا ذوق اور سلیقہ نہیں رکھتے جبکہ کام کا ذوق اور سلیقہ رکھنے والے حضرات وسائل سے تہی دامن ہوتے ہیں۔ پھر وسائل رکھنے والے حضرات میں یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ کام کا ذوق اور سلیقہ رکھنے والوں کا ہاتھ بٹائیں بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس ذوق اور سلیقہ کو وسائل کے بل پر حاصل کر کے یہ کام بھی خود کرنے کی کوشش کریں جو عام طور پر ہو نہیں پاتا۔
  • ہم میں سے ہر شخص اور حلقہ کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور اجتماعی اور ملی کاموں کو بھی انہی شخصی یا گروہی ترجیحات کے دائرے میں لانے کی ناکام کوشش میں ہم جدوجہد کے اجتماعی ماحول کو کھو بیٹھتے ہیں۔
  • بعض عناصر کی طرف سے اجتماعی جدوجہد کو جزوی اور غیر ضروری کاموں میں الجھا کر کے اسے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو عام طور پر کامیاب ہو جاتی ہے۔
  • ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر ان سے سبق حاصل کرنے اور تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی بجائے ہم ہر کام زیرو پوائنٹ سے شروع کرنے کے عادی ہیں جس کی وجہ سے جدوجہد کا تسلسل قائم نہیں رہتا۔

میں باذوق قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ اس سلسلہ میں کھلے دل کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ ہم اجتماعی فکری کوشش کے ساتھ دینی جدوجہد کے کسی صحیح رخ کی طرف بڑھ سکیں۔